اہل سنت کے بارے میں رہبر انقلاب ایران خمینی کے افکار - ردِ…

اہل سنت کے بارے میں رہبر انقلاب ایران خمینی کے افکار

  مامون رشید

صفحہ 6 از 6

پھر یہ روایت ذکر کی ہے : ابو حمزہ نے ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کیا ہے، کہتا ہے میں نے ابو جعفر علیہ السلام سے کہا کہ ہمارے بعض ساتھی اپنے مخالفین پر افتراء پردازی کرتے اور تہمت دھرتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرنا بہتر ہے، پھر فرمایا اے ابو حمزہ ہمارے شیعوں کے علاوہ سارے لوگ زانیوں کی اولاد ہیں اس پر تعلیق لگاتے ہوئے لکھا کہ اس روایت سے واضح طور پر ان سنیوں پر الزام تراشی کرنے اور تہمت لگانے کا جواز معلوم ہوتا ہے، البتہ ایسا نہ کرنا افضل و احسن ہے، لیکن سوائے بعض اوقات کے رکنا مشکل ہے۔ (المكاسب المحرمة الخم للخميني: جلد 1 صفحہ 252)

14: روزِ قیامت سنیوں کی نیکیاں شیعوں کو دے دی جائیں گی اور شیعوں کے گناہ سنیوں کے سر مڑھ دیے جائیں گے، چنانچہ خمینی نے ابو جعفر محمد باقر کی طرف منسوب ایک روایت نقل کیا ہے جس میں صراحت کے ساتھ یہ مذکور ہے کہ قیامت کے دن مؤمن کے تمام گناہوں کو لے ناصبی کے ذمے ڈال دیا جائے گا، اور ناصبی کی ساری نیکیوں، بھلائی کے کاموں اور عبادت و ریاضت کو اس سے لے کر مؤمن کو عطا کر دیا جائے گا پھر اس پر تعلیق لگاتے ہوئے لکھا ہے: اس بنیاد پر کفار و منافقین اور ان کے جیسے لوگوں کا کیا ہوگا؟ کیا ان کا بدلہ وہی نہیں ہے جو اس روایت شریفہ میں ذکر کیا گیا ہے؟ کہ ان کی نیکیوں کو چھین کر مؤمنوں کو دے دیا جائے گا، اور مؤمنوں کے گناہوں کو لے کر ان پر تھوپ دیا جائے گا اس عادلانہ حکم کی جانب بہت سارے مقامات پر تاویلاً اور صراحتاً اشارہ بھی کیا گیا ہے۔

(الآداب المعنوية للصلاة: جلد 1 صفحہ 122)

غور کریں خمینی نے کس طرح اس جھوٹی اور من گھڑت روایت کو روایت شریفہ کا خطاب دیا ہے اور اس میں موجود ظالمانہ حکم کو عادلانہ حکم قرار دیا ہے۔

15: شیعہ مردوں کے لیے سنی عورتوں سے شادی کرنا اور شیعہ عورتوں کے لیے سنی مردوں سے شادی کرنا حرام ہے حتیٰ کہ سنی عورتوں سے متعہ بھی جائز نہیں ہے، لکھتا ہے: مؤمنہ عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی ناصبی مرد سے شادی کرے اسی طرح مؤمن مرد کے لیے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ کسی ناصبی عورت سے شادی کرے اس لیے کہ وہ دونوں کفار کے حکم میں ہیں اگرچہ وہ بظاہر دین اسلام کو اپنائے ہوئے ہیں۔

(تحرير الوسليۃ: جلد 2 صفحہ 256، زبدة الأحكام: صفحہ 327)

کسی مسلمان کے لیے اہل کتاب عورت کے علاوہ اور کسی قسم کی کافر عورتوں سے متعہ کرنا جائز نہیں ہے، نہ مرتدہ سے اور نہ ناصبہ سے۔

(تحرير الوسلية: جلد 2 صفحہ 258)

16: خمینی کا مؤقف ہے کہ سنیوں کے پیچھے نماز پڑھنا اصلاً جائز نہیں ہے البتہ تقیہ کرتے ہوئے اور اپنے مسلک کی سِرّیت کی حفاظت کی خاطر ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز بلکہ رسول اللہﷺ کے پیچھے نماز پڑھنے کے برابر ہے۔

 (التقيۃ للخميني: صفحہ 100، 199، 198، 63، 66، 70)

17: مسائل کے تصفیہ کے لیے سنی قاضیوں کے پاس جانا حرام ہے، کیونکہ وہ طاغوت ہیں۔ لہٰذا جو ان کے پاس جاتا ہے وہ طاغوت کے پاس جاتا ہے اور تحاکم الى الطاغوت یعنی فیصلہ کے لیے طاغوت کی طرف منسوب ایک روایت جس میں مذکور ہے کہ جو فیصلہ کے لئے سنی قاضیوں سے رجوع کرتا ہے وہ طاغوت کی طرف رجوع کرتا ہے جبکہ اللہ نے طاغوت کا انکار کرنے کا حکم دیا ہے ذکر کرنے کے بعد لکھتا ہے کہ امام نے سائل کے سوال کا جواب دیتے ہوئے حقوقی یا جزائی مسائل کے تصفیہ کے لئے ظالم حکام کی طرف رجوع کرنے سے مطلق طور پر منع کر دیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ان کی طرف رجوع کرتا ہے وہ اپنے فیصلے کے لیے طاغوت کی طرف رجوع کرتا ہے حالانکہ اللہ نے اس کا کفر کرنے کا حکم دیا ہے۔ (الحكومۃ الإسلاميۃ للخميني: صفحہ 87)

سنیوں کے قاضیوں سے رجوع کرنا لازمی طور پر ناجائز ہے۔ (الاجتهاد والتقليد: صفحہ 116) 

ظالم قاضیوں کی طرف مقدمہ لے جانا حرام ہے، یعنی جن کے اندر قضا کے شرائط مکمل نہیں ہیں اگر کوئی ان کی طرف معاملہ لے جائے تو وہ گنہگار ہوگا، اور ان کے فیصلے کے نتیجے میں جو کچھ لے گا وہ حرام ہو گا۔

(تحرير الوسليۃ: جلد 2 صفحہ 365)

امام علیہ السلام جواب میں غیر شرعی محکموں کی طرف رجوع کرنے سے منع کرتے ہیں، خواہ وہ انتظامی ہوں یا عدالتی اور فرماتے ہیں کہ مسلمان عوام کو اپنے معاملات کے حل کے لئے سلطانوں ظالم حکمرانوں اور ان کے لیے کام کرنے والے ججوں کی طرف رجوع نہیں کرنا چاہیے، اگرچہ رجوع کرنے والے شخص کا حق قائم ثابت ہو اور وہ اسے حاصل کرنے کے لیے جانا چاہتا ہو، چنانچہ اگر کسی مسلمان کا بیٹا مارا جائے یا اس کا گھر لوٹ لیا جائے تو اسے بھی حق نہیں ہے کہ وہ ظالم حکمرانوں کے پاس جا کر مقدمہ کرے، جو بھی ان جیسے معاملات میں ان کے پاس جاتا ہے وہ طاغوت کے پاس جاتا ہے، یعنی غیر شرعی قوتوں کے پاس، اور وہ ان کے ذریعے جو حق لیتا ہے، وہ بطور حرام لیتا ہے، اور اگر یہ اس کا قائم شدہ حق ہے تو وہ بھی حرام ہے اور اسے اس کے تصرف کا کوئی حق نہیں ہے

 (الحكومۃ الإسلاميۃ: صفحہ 136)

خلافت راشده عہد عمرؓ و عثمانؓ و علیؓ کے معروف قاضی قاضی شریح کے بارے میں لکھتا ہے: یہ شریح تقریباً پچاس سال تک قاضی کے عہدے پر فائز رہا، یہ معاویہ کا چاپلوس تھا، اس کی تعریف و توصیف کرتا تھا، اور اس کے بارے میں ایسی باتیں کہتا تھا جس کا وہ مستحق نہیں تھا، اس کا یہ رویہ امیر المؤمنین علی کی حکومت کے قائم کردہ اصولوں کو منہدم کرنے کے مترادف تھا۔ (الحكومۃ الإسلاميۃ: صفحہ 74)


صفحہ 6 از 6