Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اہل بدعت کے ساتھ تعلقات اور دوستی کا حکم


محبوب سبحانی، قطب ربانی شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ کا فتویٰ

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اہلِ بدعت کو سلام کرتا ہے گویا وہ ان سے دوستی رکھتا ہے۔ کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ تم آپس میں سلام پھیلاؤ تا کہ تمہارے درمیان محبت بڑھے اور بدعتیوں کے ساتھ نہ بیٹھو، اور نہ ہی ان کے قریب جاؤ، اور ان کے کسی خوشی کے وقت یا ان کے عید کے دن ان کو مبارکباد نہ کہو اور اگر یہ لوگ مر جائیں تو ان پر جنازہ کی نماز نہ پڑھو اور اگر کہیں ان کا ذکر ہو تو ان کے حق میں رحمت کے کلمے نہ کہے جائیں بلکہ ان لوگوں سے دور ہیں اور ان سے دشمنی رکھیں اور یہ دشمنی اللہ تعالیٰ جل شانہ کے واسطے ہو اور اس اعتقاد سے ہو کہ اہلِ بدعت کا مذہب جھوٹا ہے اور ان کی دشمنی سے ہم کو بڑا ثواب اور بہت اجر ملے گا۔

رسول مقبولﷺ سے روایت کی گئی کہ آپ نے فرمایا اگر کوئی اللہ تعالیٰ جل شانہ کے واسطے اہلِ بدعت کو اپنا دشمن سمجھے اور دشمنی کی نظر سے ان کو دیکھے تو اللہ تعالیٰ جل شانہ اس کے دل کو امن و ایمان سے بھر دے گا اور اگر کوئی اہلِ بدعت کو اللہ تعالیٰ جل شانہ کا دشمن جان کر ان کو ملامت کرے تو اللہ تعالیٰ جل شانہ قیامت کے دن اس کو امن اور امان میں رکھے گا، اور جو شخص اہلِ بدعت کو ذلیل اور خوار رکھے اللہ تعالیٰ جل شانہ اس کو جنت میں سو درجے بخشے گا، اور جو آدمی بدعتی سے کشادہ پیشانی یا ایسی طرح سے پیش آئے جس سے وہ خوش ہو تو اس شخص نے اُس چیز کی حقارت کی جو اللہ تعالیٰ جل شانہ نے رسول مقبول ﷺ پر نازل فرمائی ہے۔

حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ روایت کرتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی اہلِ بدعت کے ساتھ دوستی کرے تو اس کے نیک اعمال کو اللہ تعالیٰ جل شانہ ضائع کر دیتا ہے اور اس کے دل سے ایمان کا نور نکال لیتا ہے۔ اور جس وقت اللہ تعالیٰ جل شانہ کو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص اہلِ بدعت سے دشمنی رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ جل شانہ اس کو بخش دے گا اگرچہ اس کے عمل تھوڑے ہی ہوں، اور جب تو کسی بدعتی کو راستے میں آتا ہوا دیکھے تو اس راستہ کو چھوڑ دے اور دوسرے راستے سے ہو کر چلا جا۔

حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ نے کہا ہے کہ سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی بدعتی کے جنازہ کے پیچھے جائے تو جب تک وہ واپس نہ آئے اللہ تعالیٰ جل شانہ کا غضب اس پر نازل ہوتا رہتا ہے۔ اور تحقیق رسول اللہﷺ نے بدعتی پر لعنت کی ہے اور فرمایا ہے کہ جو آدمی دین میں کوئی نئی بات پیدا کرے یا بدعتی کو اپنے ہاں پناہ دے اس پر اللہ تعالیٰ جل شانہ اور اس کے سب فرشتوں اور سب آدمیوں کی لعنت نازل ہوتی ہے اور اس کے فرض اور و نفل کو اللہ تعالیٰ جل شانہ قبول نہیں کرتا۔ ( غنیۃ الطالبین: صفحہ 156)

میرے محترم قارئین کرام!

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ایک بدعتی کے ساتھ نشست و برخاست پر اتنی سخت وعید میں آئی ہے تو آپ اندازہ لگائیں کہ کسی کافر اور گستاخ رسولﷺ و گستاخ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ نشست و برخاست پر کیا سزا ہو گی۔(قریشی)