أنا الصدّيق الأكبر روایت یا من گھڑت فضیلت؟
ابو القاسمأنا الصدّيق الأكبر روایت یا من گھڑت فضیلت؟
فضل ہمدرد کے استدلال کا تحقیقی جائزہ
چند روز قبل فضل ہمدرد نے اپنی پوسٹ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک روایت نقل کی، جس میں یہ الفاظ بیان کیے گئے:
"أنا عبد الله وأخو رسوله وأنا الصدّيق الأكبر، لا يقولها بعدي إلا كذّاب
پھر اس روایت کو اس انداز میں پیش کیا گیا گویا یہ قطعی، صحیح اور ناقابلِ اعتراض فضیلت ہو۔
حالانکہ جب اس روایت کو اصولِ حدیث، جرح و تعدیل، اور ائمہ محدثین کے اقوال کی روشنی میں پرکھا جائے تو حقیقت بالکل مختلف نظر آتی ہے۔
روایت کا اصل ماخذ
یہ روایت سنن ابن ماجہ: المستدرک علی: الصحیحین وغیرہ میں نقل ہوئی ہے۔
روایت کے الفاظ یہ ہیں:
"أنا عبد الله وأخو رسوله وأنا الصدّيق الأكبر، لا يقولها بعدي إلا كذّاب، صليت قبل الناس بسبع سنين."
لیکن سوال یہ ہے کہ:
کیا کسی روایت کا صرف کتاب میں موجود ہونا اس کے صحیح ہونے کی دلیل ہے؟
اگر ایسا ہوتا تو علمِ حدیث، اسماء الرجال، جرح و تعدیل، اور ائمہ محدثین کی ساری محنت بےمعنیٰ ہو جاتی۔
ائمہ حدیث کا فیصلہ
امام ذہبی رحمۃاللہ:شمس الدین ذہبیؒ نے اس روایت کے متعلق دو ٹوک الفاظ استعمال کیے:
بل حديث باطل
بلکہ یہ حدیث باطل ہے۔
(التلخيص مستدرک: جلد 3 صفحہ 325)
پھر میزان الاعتدال میں فرمایا:
قلت: هذا كذب على علي
"میں کہتا ہوں کہ یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر جھوٹ ہے۔"
(میزان: جلد 3 صفحہ 368)
سوچنے کی بات ہے: جب امام ذہبیؒ جیسے عظیم محدث اسے "باطل" اور "جھوٹ" قرار دے رہے ہیں، تو پھر اسے فضیلت ثابت کرنے کے لیے کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟
امام ابن الجوزی رحمۃاللہ
ابن الجوزی نے اپنی کتاب الموضوعات میں صاف لکھا: وهذا موضوع
یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے۔
(موضوعات: جلد 1 صفحہ 341)
سند کا تحقیقی جائزہ
فضل ہمدرد صاحب نے روایت تو نقل کر دی، مگر اس کے راویوں پر ائمہ کی جرح شاید نظر انداز کر گئے۔
1: محمد بن اسماعیل الرازی: امام ابو حاتم نے کہا: باطل الحديث
"باطل حدیث والا ہے"
(میزان الاعتدال: جلد 3 صفحہ 484)
اور خطیب بغدادیؒ نے فرمایا:
كان غير ثقة۔ یہ ثقہ نہیں تھا۔
(میزان الاعتدال: جلد 3 صفحہ 484)
2: عبیداللہ بن موسیٰ: یہ راوی عبیداللہ بن موسیٰ العسبی الکوفی ہے جو محمد بن اسماعیل سے روایت کرتا ہے۔
امام ذہبیؒ میزان الاعتدال میں اس کے متعلق لکھتے ہیں:
وثقہ ابو حاتم و ابن معین۔ و قال ابو داوُد: کان شیعیاً متحرقاً۔ و قال احمد: کان عبیداللہ صاحب تخلیط حدث باحادیث سوء واخرج تلک البلایا۔ وقد رایتہ بکمة فما عرضت لہ۔ وقد استشار محدث احمد بن حنبل فی الاخذ عنہ فنھاہ۔
(میزان: جلد 3 صفحہ 16)
ابو حاتم اور ابنِ معین نے اسے ثقہ کہا ہے اور امام داؤدؒ کہتے ہیں یہ کٹر شیعہ ہے اور امام احمدؒ کہتے ہیں کہ یہ احادیث میں خلط ملط کرتا ہے اور بہت خراب روایات بیان کرتا ہے بلکہ ان کا موجد (بنانے والا) بھی یہ خود ہے۔
میں نے اسے مکہ میں دیکھا تھا لیکن اس سے اعراض کیا تھا۔
امام احمدؒ سے پوچھا گیا کیا اس سے روایت لی جائے؟ مگر امام احمدؒ نے منع کر دیا۔
ابن حجر عسقلانیؒ تقریب التھذیب میں اس کے متعلق بیان کرتے ہیں: ثقہ کان تشیع
(جلد 1 صفحہ 640)
یہ ثقہ تھے اور شیعت سے تعلق تھا۔ یعنی شیعہ تھے۔
ابن حجر عسقلانیؒ اپنی دوسری کتاب تھذیب التھذیب میں لکھتے ہیں:
وذکرہ ابن حبان فی الثقات وقال کان تشیع وقال یعقوب بن سفیان: شیعی وھو منکر الحدیث۔
یعنی ابنِ حبان نے اسے کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے اور کہا کہ یہ شیعہ تھا اور یعقوب بن سفیان نے کہا شیعہ تھا اور منکر الحدیث تھا۔
اما حاکمؒ نے بیان کیا کہ میں نے ابا مسلم البغدادی کو کہتے سنا:
عبیداللّٰہ بن موسیٰ من المتروکین۔ ترکہ احمد تشیعة وقال ابن قانع: کوفی صالح تشیع وقال الساجی صدوق کان یفرط فی التشیع وقال احمد روی مناکیر وقد راءیتہ بمکة فاعرضت عنہ۔
عبیداللہ بن موسیٰ متروکین میں سے تھے،
امام احمدؒ نے اسے شیعت کی وجہ سے ترک کر دیا تھا۔
ابن قانع کہتے ہیں کوفی اور صالح تھے اور اس کا میلان شیعت کی طرف تھا۔
الساجی کہتے ہیں کہ صدوق ہے۔ یہ شیعت میں غلو کرتا ہے۔
اما احمدؒ نے کہا یہ منکر احادیث روایت کرتا ہے میں نے اسے مکہ میں دیکھا پس میں نے اس سے اعراض کیا (منہ موڑا) تھا۔
اسی طرح حافظ العقیلی اپنی کتاب الضعفاء العقیلی میں بھی اس پر جرح و تنقید کی ہے۔
(جلد 3 صفحہ 186)
3: علاء بن صالح: علاء بن صالح التمیمی الکوفی ہے جو عبیداللہ بن موسیٰ العسبی الکوفی سے روایت کرتا ہے۔ یہ بھی پہلے دونوں راویوں کی طرح مجروح ہے۔
حافظ شمس الدین الذہبی اس کے متعلق اپنی کتاب میزان الاعتدال فی نقد الرجال میں رقمطراز ہیں:
وثقہ ابو داوُد و قال ابو حاتم: کان من عتق الشیعة۔ و قال ابن خیثمہ و عباس عن ابن معین ثقہ و قال ابن المدینی: روی احادیث مناکیر۔
(جلد 3 صفحہ 101)
ابو داؤدؒ نے اس کی توثیق کی ہے، ابو حاتمؒ نے کہا یہ کٹر شیعوں میں سے تھا اور ابن خیثمہ اور عباس ابن معین کے حوالہ سے کہا کہ یہ ثقہ ہے۔
ابن المدینیؒ نے کہا کہ یہ منکر احادیث روایت کرتا تھا۔
4: منہال بن عمرو: اس روایت کا چوتھا راوی ہے اور یہ علاء بن صالح التمیمی الکوفی سے روایت کرتا ہے۔
حافظ ذہبیؒ اس کے متعلق لکھتے ہیں:
قال ابن معین: المنھال ثقہ و قال احمد العجلی کوفی ثقہ و قال الجوزجانی فی الضعفاء: لہ سیء المذھب وکذا تکلم فیہ ابن حزم
(میزان الاعتدل: جلد 4 صفحہ 192)
ابنِ معین کہتے ہیں کہ منہال ثقہ ہے، امام احمد العجلی کہتے ہیں کوفی ہے اور ثقہ ہے
اور الجوزجانی "ضعفاء" میں لکھتے ہیں کہ یہ بدمذہب تھا اور ایسا ہی امام ابن حزمؒ نے بھی کہا۔
حافظ علاوُ الدین المغلطانی نے اپنی کتاب اکمال تھذیب الکمال فی اسماء الرجال میں بیان کرتے ہیں:
و ذکرہ ابوالعرب و ابو جعفر العقیلی فی جملة الضعفاء۔
ابوالعرب اور ابو جعفر العقیلی نے اسے ضعفاء میں ذکر کیا ہے۔
ابن حجر عسقلانیؒ تھذیب التھذیب میں جوزجانی کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں:
وقال الجوزجانی سیء المذھب
(جلد 5 صفحہ 530)
جوزجانی نے کہا کہ یہ بدمذہب والے تھے۔
5: عباد بن عبد اللہ الاسدی: منھال سے روایت کرنے والا راوی عباد بن عبداللہ اسدی کوفی ہے جو اس حدیث کا آخری راوی ہے۔
حافظ ذہبی میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں:
قال ابن المدینی: ضعیف الحدیث و ذکرہ ابن حبان فی الثقات
(جلد 4 صفحہ 368)
ابن المدینی کہتے ہیں (عباد) ضعیف الحدیث تھے اور ابن حبان نے اس کا ذکر ثقات میں کیا ہے۔
امام بخاریؒ کہتے ہیں: فیہ نظر
اس پر اعتراض ہے۔
(ایضاً)
ابن حجر عسقلانیؒ تھذیب التھذیب میں لکھتے ہیں:
قال ابن الجوزی: ھو منکر و قال ابن حزم: ھو مجھول
(جلد 3 صفحہ 64)
ابن جوزی نے کہا یہ منکر تھا اور ابن حزم نے کہا کہ یہ مجھول تھا۔
ابن جوزی کتاب الموضوعات میں لکھتے ہیں:
قال علی بن المدینی: کان ضعیف الاحادث و قال الازدی: روی احادیث لا یتابع علیھا و اما النھال فترکہ شعبہ
(جلد 1 صفحہ 341)
جب اصل راوی ہی ضعیف و مجہول ہو تو پھر روایت کس بنیاد پر قابلِ حجت بنے گی؟
حیرت انگیز تضاد
اہلِ تشیع کی کسی روایت میں اگر ایسا راوی آ جائے: جس پر تشیع کا غلو ہو، منکر الحدیث ہو یا جسے محدثین ضعیف کہیں، تو یہی لوگ فوراً "ضعیف، مردود، ناقابلِ احتجاج" کا شور مچاتے ہیں۔
لیکن جب روایت ان کے موقف کے موافق ہو تو:
ضعیف راوی "ثقہ" بن جاتا ہے، باطل روایت "فضیلت" بن جاتی ہے اور موضوع حدیث "اہلِ بیت کی شان" قرار دی جاتی ہے۔
کیا یہی علمی دیانت ہے؟
اہلِ سنت کا مؤقف: اہلِ سنت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عظمت کے منکر نہیں۔
سیدنا علیؓ خلیفۂ راشد، عشرۂ مبشرہ میں شامل اور جلیل القدر صحابی ہیں۔ لیکن ان کی فضیلت ثابت کرنے کے لیے جھوٹی یا باطل روایات کی ضرورت نہیں۔
صحیح احادیث میں ان کے بے شمار فضائل موجود ہیں۔
لہٰذا ضعیف اور موضوع روایات کے ذریعے صحابہ کرامؓ کے درمیان مقابلہ بازی پیدا کرنا علمی خیانت ہے۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
اصل مسئلہ صرف ایک روایت نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پہلے ایک نتیجہ ذہن میں طے کر لیا جاتا ہے،
پھر اس کے مطابق روایات تلاش کی جاتی ہیں، چاہے وہ باطل ہی کیوں نہ ہوں۔
یہ منہج محدثین کا نہیں، بلکہ اہلِ تعصب کا طریقہ ہے۔
آخر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ لیکن محبت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ضعیف روایت قبول کر لی جائے، ہر منکر روایت کو فضیلت بنا دیا جائے اور ہر باطل اثر کو عقیدہ بنا لیا جائے۔ دین جذبات سے نہیں، اصول سے چلتا ہے۔
اور اصول یہی کہتے ہیں کہ: "باطل روایت، باطل ہی رہے گی؛ چاہے اسے کتنے ہی جذباتی انداز میں پیش کیا جائے۔"