حضرت حسینؓ صحابی نہیں
دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓاعتراض
حافظ عمادالدین ابو الفداء اسماعیل بن خطیب ابی حفص عمر بن کثیر دمشقی شافعیؒ (ت 774ھ) لکھتے ہیں:
وقد روى صالح بن أحمد بن حنبل، عن ابيہ، انہ قال فی الحسن بن علیؓ: انہ تابعی ثقۃ فلان يقول فی الحسينؓ انہ تابعی بطريق الأولى
ترجمہ: صالح بن احمد اپنے والد امام احمد بن حنبلؒ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت حسن بن علیؓ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ثقہ تابعی تھے تو حضرت حسینؓ تو بطریق اولیٰ تابعی شمار ہوں گے(اس لیے کہ وہ عمر میں ان سے چھوٹے ہیں)
البدایہ والنہایہ لابن کثیر: جلد 4 صفحہ 546 قصہ الحسین بن علی و سبب خروجہ من مكۃ)
اس عبارت کے پیش نظر حضرت حسینؓ پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپ صحابی نہیں ہیں بلکہ تابعی ہیں۔
جواب نمبر 1: اگر ”البدایۃ والنہایۃ“ کی مکمل عبارت دیکھی جائے تو اعتراض ختم ہو جاتا ہے چنانچہ اصل عبارت ملاحظہ ہو:
حافظ عمادالدین ابو الفداء اسماعیل بن خطیب ابی حفص عمر بن کثیر دمشقی شافعیؒ(ت 774ھ) لکھتے ہیں:
قد روى صالح بن احمد بن حنبلؒ، عن ابيہ، انہ قال فی الحسن بن علیؓ: انہ تابعی ثقۃ وهذا غريب فلأن يقول في الحسينؓ انہ تابعی بطريق الأولى
ترجمہ: صالح بن احمد اپنے والد امام احمد بن حنبلؒ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت حسن بن علیؓ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ثقہ تابعی تھے (یہ قول غلط ہونے کی بناء پر) عجیب ہے اس لیے اگر اس قول کو تسلیم کر لیا جائے تو حضرت حسینؓ کے متعلق کہنا پڑے گا کہ وہ بھی تابعی تھے (اس لیے کہ وہ عمر میں حضرت حسنؓ سے چھوٹے ہیں)
(البدایہ والنہایہ لابن كثير: جلد 4 صفحہ 546 قصہ الحسين بن علی و سبب خروجہ من مكۃ)
فائدہ: علامہ ابن کثیرؒ ”ھٰذَا غَرِيبٌ“ کہ کر اس قول کا عجیب ہونا بیان فرما رہے ہیں نہ کہ اس قول کی تائید کر رہے ہیں، اس پر قرینہ یہ ہے کہ آپؒ نے دیگر کئی مقامات پر حضرت حسینؓ کی صحابیت کا تذکرہ کیا ہے، ذیل میں چند عبارات پیش کی جاتی ہیں:
عبارت نمبر 1: حافظ عمادالدین ابو الفداء اسماعیل بن خطیب ابی حفص عمر بن کثیر دمشقی شافعیؒ (ت 774ھ) لکھتے ہیں:
وقد أدرك الحسين من حياة النبيﷺ خمس سنين أو نحوها، وروى عنہ أحاديث۔
وقال مسلم بن الحجاج لہ رؤية من النبيﷺؓ
ترجمہ: حضرت حسینؓ نے نبی کریمﷺ کی زندگی کے پانچ سال یا اس کے لگ بھگ سال دیکھے ہیں اور احادیث بھی نقل کی ہیں، امام مسلم (بن حجاج القشیریؒ 261ھ) کہتے ہیں: سیدنا حسینؓ نے رسولﷺ کی زیارت کی ہے۔
(البدايہ والنہايہ لابن كثير: جلد 4 صفحہ546 قصہ الحسين بن على وسبب خروجہ من مكۃ)
عبارت نمبر 2: حافظ عمادالدین ابو الفداء اسماعیل بن خطیب ابی حفص عمر بن کثیر دمشقی شافعیؒ (ت 774ھ) لکھتے ہیں:
والمقصود أن الحسين عاصر رسول اللہﷺ وصحبه إلى أن توفی وهو عنہ راض، ولكنہ كان صغيرًا
ترجمہ: اور مقصود یہ ہے کہ حضرت حسینؓ نے نبی کریمﷺ کا زمانہ پایا ہے اور صحبت اٹھائی ہے یہاں تک کہ آپﷺ فوت ہوئے تو اس وقت آپ سے راضی تھے البتہ اس وقت عمر میں حضرت حسینؓ چھوٹے تھے۔
(البدايہ والنہايہ لابن کثیر: جلد 4 صفحہ 546 قصہ الحسین بن علی و سبب خروجہ من مكۃ)
عبارت نمبر 3: حافظ عمادالدین ابوالفداء اسماعیل بن خطیب ابی حفص عمر بن کثیر دمشقی شافعیؒ (774ھ) لکھتے ہیں:
فإنه من سادات المسلمين، وعلماء الصحابۃ وابن بنت رسول اللہﷺ التي هي أفضل بناتہ، وقد كان عابدًا وشجاعًا وسخيًا
ترجمہ: حضرت حسینؓ سادات مسلمین اور علماء صحابہؓ میں سے ہیں اور رسول اللہﷺ کی اس صاحبزادی کے بیٹے ہیں جو آپﷺ کی صاحبزادیوں میں سب سے افضل ہیں، حضرت حسینؓ عبادت گزار، بہادر اور سخی تھے۔
(البدايہ والنہايہ لابن كثير: جلد 4 صفحہ 600 صفۃ مقتلہ)
جواب نمبر 2: حضرت حسینؓ صحابی ہیں۔
اس لیے کہ صحابی اسے کہتے ہیں جس میں تین باتیں پائی جائیں:
1: مومن ہو۔
2: حالت ایمان میں نبی سے ملاقات کرے۔
3: ایمان کی حالت میں وفات ہو۔
چنانچہ صحابی کی تعریف یوں کی جاتی ہے:
علامہ حافظ ابو الفضل شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر عسقلانی الشافعیؒ (ت 852ھ) صحابی کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَهُوَ مَنْ لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا بِهِ وَمَاتَ عَلَى ال٘إس٘لَامِ
ترجمہ: صحابی اس شخص کو کہتے ہیں جو حالت ایمان میں نبی کریمﷺ سے ملے اور حالت اسلام ہی پر فوت ہو جائے۔
(نزهۃ النظر شرح نخبۃ الفكر: صفحہ 133)
اور یہ تینوں باتیں حضرت حسینؓ میں موجود ہیں، لہٰذا آپؓ بالیقین صحابی ہیں۔