روم کی نقل و حرکت کو ناکام کرنے میں کوفیوں کی مشارکت
علی محمد الصلابیجب حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ آذربیجان میں اپنی ذمہ داری مکمل کر کے واپس موصل چلے آئے تو امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی جانب سے انہیں یہ فرمان ملا:
حضرت امیرِ معاویہ بن ابی سفیانؓ نے اپنی تحریر کے ذریعہ سے مجھے یہ خبر دی ہے کہ اہلِ روم مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کے لیے بڑی تعداد میں جمع ہو گئے ہیں، اور میں اس صورتِ حال میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ کوفہ کے لوگ اپنے بھائیوں کی امداد کے لیے شام روانہ ہوں، لہٰذا جب تمہیں میرا یہ خط ملے تو جہاں میرا پیغام مبر تمہیں یہ خط پہنچائے وہیں سے آٹھ ہزار، نو ہزار یا دس ہزار مجاہدین کو ایسے شخص کی قیادت میں روانہ کر دو جس کے اسلام اور قوت و شجاعت سے تم خوش ہو۔
والسلام!
سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو جب یہ خط موصول ہوا تو انہوں نے لوگوں کو خطاب فرمایا اور حمد و صلاۃ کے بعد فرمایا:
حضرات! یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس علاقہ میں مسلمانوں کو اچھی طرح آزمایا، الحمدللہ ان کے علاقے انہیں واپس کر دیے اور دیگر علاقوں کو فتح کرایا، اور مسلمانوں کو اجر و غنیمت کے ساتھ صحیح سالم لوٹایا۔ سیدنا امیر المؤمنینؓ نے مجھے یہ خط تحریر کیا ہے جس میں آپؓ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم میں سے آٹھ ہزار سے دس ہزار تک لوگوں کو اہلِ روم کے مقابلہ میں تمہارے شامی بھائیوں کی مدد کے لیے روانہ کروں، اس میں اجرِ عظیم اور بڑی فضیلت ہے، اللہ تم پر رحم کرے، سیدنا سلمان بن ربیعہ باہلیؓ کی قیادت میں تم اس کے لیے تیار ہو جاؤ۔
تین دن نہیں گزرے کہ آٹھ ہزار مجاہدین اہلِ کوفہ میں سے تیار ہو کر شام کی طرف روانہ ہو گئے۔ شامی فوج کے جرنیل سیدنا حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ تھے، اور کوفی فوج کے جرنیل سیدنا سلمان بن ربیعہ باہلی رضی اللہ عنہ تھے، دونوں نے مل کر رومیوں پر حملہ کیا، لوگوں کو ڈھیر سا مالِ غنیمت اور بہت سے قیدی ہاتھ آئے اور بہت سے قلعوں کو فتح کیا۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 247)
سیدنا ولید بن عقبہؓ کے غزوات و جہاد سے متعلق بعض راویوں کا بیان ہے کہ میں نے امام شعبی رحمۃ اللہ کو دیکھا وہ سیدنا محمدؒ بن عمرو بن ولید بن عقبہؒ کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔ سیدنا محمد نے مسلمہ بن عبدالملکؒ کی جہادی سرگرمیوں کا ذکر کیا، تو امام شعبیؒ نے فرمایا: اگر تم حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کا دور پائے ہوتے اور ان کی جہادی سرگرمیوں کو دیکھتے تو کیا کہتے، وہ تو جہاد کرتے تھے اور ایک سے بڑھ کر ایک معرکہ سر کرتے تھے، سستی ان کو لاحق نہیں ہوتی تھی، کوئی ان سے بغاوت نہیں کرتا تھا، ان کی یہی کیفیت رہی یہاں تک کہ وہ معزول ہو گئے۔
(عثمان بن عفان: صادق عرجون: صفحہ، 201)