صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے گستاخ کا مال فئی میں کوئی حصہ نہیں
علامہ قرطبی رحمۃ اللہ کا فتویٰ
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ۞
(سورة الحشر: آيت 10)
یہ آیت کریمہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ محبت کے واجب ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد آنے والے لوگوں کیلئے مال فئی میں اس شرط کے ساتھ حصہ مقرر فرمایا ہے کہ وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ محبت کریں گے، اور ان کے لئے استغفار کریں گے، اور بے شک وہ شخص جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں دے یا ان میں سے کسی ایک کو برا بھلا کہے یا ان کے بارے میں برا گمان رکھے تو بیشک اس کا مال فئی میں کوئی حصہ نہیں۔
(توہين صحابہؓ كا شرعى حكم: صفحہ 29)