Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت حسینؓ اہل بیت میں شامل نہیں

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

اعتراض

حضرت حسینؓ اہل بیت میں شامل نہیں ہیں، اس لیے کہ اہلِ بیت سے مراد بیوی یا حقیقی بیٹے اور بیٹیاں ہوتی ہیں، سیدنا حسینؓ حقیقی بیٹے نہیں ہیں بلکہ نواسے ہیں، اس لیے اہل بیت میں شامل نہیں ہوں گے۔

جواب نمبر 1:

معترض کو غلط فہمی اس لیے ہو رہی ہے کہ اس کے پیشِ نظر یہ ضابطہ ہے کہ اہل بیت میں انسان کی مذکر اولاد اور آگے ان کی اولاد ہوتی ہے جبکہ حضرات حسینؓ تو آپﷺ کی مذکر اولاد نہیں یعنی یہ آپ کے پوتے نہیں بلکہ نواسے ہیں، اس لیے انہیں اہلِ بیت میں شامل نہیں کریں گے۔ واضح رہے کہ یہ ضابطہ عام لوگوں کے لیے ہے کہ ان کا نسب باپ سے چلتا ہے جبکہ حضراتِ حسنین کریمینؓ کے لیے ضابطہ الگ ہے، ان کا نسب والد سے نہیں بلکہ والدہ سے چلتا ہے۔

چنانچہ امام ابو القاسم سلیمان بن احمد بن ایوب الشامي الطبرانیؒ (ت 360ھ) روایت نقل کرتے ہیں:

عن عمرؓ قال: سمعت رسول اللہﷺ يقول: كل بني أنثى فإن عصبتهم لأبيهم ما خلا ولد فاطمۃ فإني أنا عصبتهم وأنا أبوهم

ترجمہ: سیدنا عمرؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسولﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہر خاتون کے بیٹوں کی نسبت ان کے والد کی طرف ہوتی ہے سوائے فاطمہ کی اولاد کے کیونکہ میں ہی ان کا نسب ہوں اور میں ہی ان کا والد ہوں۔

(المعجم الكبير للطبرانی: جلد 2 صفحہ 178 رقم الحديث: 2565)

جواب نمبر 2:

حضرات حسنین کریمینؓ اہل بیت میں شامل ہیں کیونکہ بعض احادیث میں انہیں صراحت کے ساتھ اہلبیت میں شمار کیا گیا ہے اور بعض احادیث میں ان کو اولاد شمار کیا گیا ہے۔

اہل بیتؓ میں شامل ہونے کی صراحت:

وہ احادیث جن میں صراحت کے ساتھ انہیں اہلِ بیت میں شمار کیا گیا ہے ان میں سے چند ایک یہ ہیں:

1: امام مسلم بن حجاج القشیری النیشا بوریؒ (ت 261ھ) روایت نقل کرتے ہیں

عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللٰهُ عَنْهَا: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعَرٍ أَسْوَدَ فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَأَدْخَلَهُ ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ فَدَخَلَ مَعَهُ ثُمَّ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَدْخَلَهَا ثُمَّ جَاءَ عَلىٌّ فَأَدْخَلَهُ ثُمَّ قَالَ: اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا

ترجمہ: صفیہ بنت شیبہ سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا: ایک روز صبح سویرے نبی کریمﷺ سیاہ اونی منقش چادر اوڑھے ہوئے تشریف لائے، (اتفاق سے) حسن بن علی رضی اللہ عنہما بھی وہاں آ نکلے آپﷺ نے ان کو اپنی چادر میں لے لیا، پھر یکے بعد دیگرے حضرت حسین، حضرت فاطمہ اور حضرت علی (رضی اللہ عنہم) بھی تشریف لائے، آپﷺ نے ان سب کو اپنی چادر میں جمع فرما لیا، پھر آپﷺ نے آیت مبارکہ تلاوت فرمائی: اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًا (سورۃ الاحزاب: آیت 33) ( صحیح مسلم: رقم الحدیث 2424) 

آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ اے پیغمبر کے گھر والو! آپ کو معصیت و نافرمانی کی گندگی سے دور رکھے اور ظاہراً و باطناً عقیدۃً و عملاً و خلقاً پاک صاف رکھے

2: امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورۃ الترمذیؒ (ت 279ھ) روایت نقل کرتے ہیں:

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍؓ يَقُولُ: سُئِلَ رسول اللہﷺ: أَيُّ أَهْلِ بَيْتِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ

ترجمہ: حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ کو اپنے اہل بیت میں سے کون ( سے بچے ) زیادہ پیارے ہیں؟ تو آپﷺ نے فرمایا! حسن اور حسین 

(جامع الترمذی: رقم الحدیث 3772)

اولاد ہونے کی صراحت

وہ احادیث جن میں صراحت کے ساتھ انہیں اولاد میں شمار کیا گیا ہے، ان میں سے چند ایک ذکر کی جاتی ہیں:

1: امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورۃ الترمذیؒ (ت 279ھ) روایت نقل کرتے ہیں:

عن أبي بريدةؓ يقول: كان رسول اللہﷺ يخطبنا إذ جاء الحسن والحسين عليهما قميصان أحمران يمشيان ويعثران فنزل رسول اللہﷺ من المنبر فحملهما ووضعهما بين يديه ثم قال! صدق اللہ (اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ) نظرت إلى هذين الصبيين يمشيان ويعثران فلم أصبر حتى قطعت حديثي ورفعتهما

(ترجمہ: حضرت ابو بریدہؓ سے مروی ہے کہ ہمیں رسول اللہﷺ خطبہ دے رہے تھے اسی دوران حسن اور حسین (جو ابھی کم عمر بچے تھے) سرخ رنگ کی قمیض زیب تن کیے ہوئے گرتے پڑتے ہوئے آئے، آپﷺ انہیں دیکھ کر منبر سے نیچے تشریف لائے اور دونوں کو اٹھا کر اپنے سامنے بٹھا لیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے کہ تمہارے مال اور اولاد تمہارے لیے باعث آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو ان کی قمیضوں میں گرتے پڑتے دیکھا تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے اپنی گفتگو وہیں چھوڑ دی اور انہیں اٹھا لیا۔(جامع الترمذی: رقم الحدیث 3774)

2: امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورة الترمذیؒ (ت 279ھ) روایت نقل کرتے ہیں:

عن أسامة بن زيدؓ قال: طرقت النبيﷺ ذات ليلة في بعض الحاجة فخرج النبيﷺ وهو مشتمل على شيء لا أدري ما هو، فلما فرغت من حاجتي قلت: ما هذا الذي أنت مشتمل عليہ؟ فكشفه فإذا حسن وحسين على وركيه فقال: هذان ابناي وابنا ابنتي اللهم إني أحبهما فأحبهما وأحب من يحبهما.

ترجمہ: حضرت اسامہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ میں ایک رات کسی کام کی غرض سے نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپﷺ باہر تشریف لائے اور اپنی چادر میں کوئی چیز لپیٹے ہوئے تھے، اس وقت مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ آپﷺ نے چادر میں کیا لپیٹا ہوا ہے، جب میرا کام پورا ہو گیا تو میں نے آپﷺ سے پوچھا کہ آپﷺ نے کیا چیز چادر میں لپیٹی ہوئی ہے؟ اللہ کے رسولﷺ نے چادر کو ہٹایا تو میں نے دیکھا کہ حسن و حسین رضی اللہ عنہما ہیں جو آپﷺ کے دونوں کولہوں سے چمٹے ہوئے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی (فاطمہ) کے بیٹے ہیں، اے اللہ! میں حسن و حسین سے محبت کرتا ہوں، آپ بھی ان سے محبت فرمائیں اور اس شخص سے بھی محبت فرمائیں جو ان سے محبت کرتا ہے۔

(جامع الترمذی: رقم الحدیث 3769)

3: امام ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ بن محمد المعروف امام حاکمؒ(ت 405ھ) روایت نقل کرتے ہیں:

عن فاطمہؓ أن رسول اللہﷺ أتاها يوما فقال: أين ابناي؟ فقالت ذهب بهما علي فتوجہ رسول اللہﷺ فوجدهما يلعبان في مشربة وبين أيديهما فضل من تمر ، فقال: يا علي: ألا تقلب ابنى قبل الحر 

ترجمہ: حضرت فاطمہؓ سے مروی ہے کہ ایک دن اللہ کے رسولﷺ میرے ہاں تشریف لائے اور مجھ سے پوچھا کہ میرے بیٹے (حسن و حسین) کہاں ہیں؟ میں نے عرض کی کہ علی ان دونوں کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں، اللہ کے رسولﷺ ان کی تلاش میں تشریف لے گئے تو انہیں ایک پانی پینے والی جگہ (کنویں) کے قریب کھیلتے ہوئے دیکھا، اس وقت ان کے سامنے کچھ کھجوریں بچی ہوئی موجود تھیں، آپﷺ نے فرمایا: علی! دھیان رکھنا میرے بیٹوں کو تیز دھوپ پڑنے سے پہلے پہلے واپس لے آنا۔

(المستدرک علی الصحیحین: جلد 4 صفحہ 155 رقم الحدیث: 4827)