حضرت حسینؓ نے متقی امام وقت کے خلاف خروج کیا - ردِ رافضیت |…

حضرت حسینؓ نے متقی امام وقت کے خلاف خروج کیا

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 2

اعتراض

حافظ عمادالدین ابو الفداء اسماعیل بن خطیب ابی حفص عمر بن کثیر دمشقی شافعیؒ (ت 774ھ) لکھتے ہیں:

وَلَهُ مُصَنَّفُ فِي فَضْلِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، أَتىٰ فِيهِ بِغَرَائِبَ وَعَجَائِبَ۔

ترجمہ: ان (شیخ عبد المغیث بن زہیرالحربی) کی یزید بن معاویہ کے فضائل و مناقب پر مستقل ایک کتاب ہے جس میں انہوں نے اس (یزید) کی زندگی کے عجیب و غریب حالات بیان کیے۔

اس عبارت کی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ

1: علامہ ابن کثیرؒ نے یزید کے فضائل و مناقب میں لکھی جانے والی کتاب کا تذکرہ مدح کے انداز میں کیا ہے۔

2: یزید کے فضائل و مناقب کا تذکرہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک متقی امام عادل تھا، تو امام عادل کے خلاف حضرت حسینؓ کا خروج کرنا درست نہیں ہو سکتا۔

جواب:

1: معترض نے یزید کی عدالت کو ثابت کرنے کے لیے علامہ ابن کثیرؒ کی عبارت نقل کرنے میں بد دیانتی کی ہے، اس لیے کہ علامہ ابن کثیرؒ کی مکمل عبارت کو دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ آپؒ اس عبارت میں یزید کی عدالت کو ثابت نہیں کر رہے بلکہ اس کا رد کر رہے ہیں، چنانچہ اصل عبارت ملاحظہ ہو:

حافظ عمادالدین اسماعیل بن خطیب ابی حفص عمر بن کثیر دمشقی شافعیؒ (ت 774ھ) لکھتے ہیں:

الشيخ عبد المغيث زھیر بن زھير الحربي كان من صلحاء الحنابلۃ، وكان يزار، ولہ مصنف في فضل يزيد بن معاويہ، أتى فیہ بغرائب وعجائب، وقدرد عليہ أبوالفرج ابن الجوزي في هذا الكتاب فأجاد وأصاب.

ترجمہ: شیخ عبد المغيث زھیر بن زھیر الحربی حنبلی صلحاء میں سے تھے، لوگ (دور دور) ان کی زیارت کے لیے آیا کرتے تھے، انہوں (شیخ عبد المغيث زھیر بن زھیر الحربی) نے یزید بن معاویہ کے فضائل و مناقب پر مستقل کتاب لکھی، اس کتاب میں ان کی زندگی کے عجیب و غریب حالات بیان کیے، اور علامہ ابن الجوزیؒ نے اس کتاب کا رد لکھا ہے اور بہت ہی عمدہ تردید کی ہے اور بالکل درست کی ہے۔

البدايہ والنہایہ لابن کثیر: جلد 6صفحہ 859 تحت عبد المغيث زھیر بن زھیر الحربي

فائدہ: ابوالفرج عبدالرحمٰن بن ابی الحسن علی بن محمد البغدادی الحنبلي المعروف بابن الجوزیؒ (ت 597ھ) کی کتاب کا نام ہے الرَّدُّ عَلَى الْمُتَعَصِّبِ الْعَنِيْدِ الْمَانِعِ مِنْ ذَمِّ يَزِيدَ

2: یزید متقی اور عادل نہیں بلکہ فاسق و فاجر تھا، اس پر علمائے اہلِ السنت والجماعت کی چند تصریحات پیش کی جاتی ہیں:

1: صدر الاسلام ابوالیسر محمد بن محمد بن الحسین بن عبد الکریم البزدویؒ (ت 483ھ) لکھتے ہیں:

واما يزيد بن معاويہ فإنہ كان ظالما ولكن هل كان كافرا؟ تكلم الناس فيہ، بعضهم كفروه لما حكى عنہ من أسباب الكفر وبعضهم لم يكفروه وقالوا: لم يصح منہ تلك الأسباب ولا حاجۃ بأحد إلى معرفۃ حاله، فإن اللہ تعالى أغنانا عن ذلك۔

ترجمہ: یزید بن معاویہ ایک ظالم شخص تھا، لیکن کیا وہ کافر بھی تھا یا نہیں؟ اس بارے میں علماء کرام کا اختلاف ہے، بعض علماء اس کی تکفیر کرتے ہیں کیونکہ اس کے بارے میں منقول ہے کہ اس میں کفر کے اسباب پائے جاتے تھے اور علماء بعض اس کی تکفیر نہیں کرتے بلکہ یہ بات کہتے ہیں کہ یہ باتیں درست نہیں ہیں، کسی کو اس کے احوال معلوم کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے بے نیاز کر دیا ہے۔

(اصول الدین: صفحہ 204)

2: علامہ تقی الدین ابوالعباس احمد بن عبد الحلیم بن عبدالسلام بن تیمیہ الحرانی الحنبلیؒ (ت 728ھ) لکھتے ہیں:

واما ترك محبتہ فلأن المحبۃ الخاصۃ إنما تكون للنبيين والصديقين والشهداء والصالحين وليس واحدا منهم وقد قال النبيﷺ: المرء مع من أحب ومن أمن باللہ واليوم الآخر لا يختار أن يكون مع يزيد ولا مع أمثاله من الملوك الذين ليسوا بعادلين۔

 ترجمہ: یزید سے محبت نہ رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ خصوصی محبت تو انبیاء کرام، صدیقین، شہداء و صالحین سے کی جاتی ہے اور یزید کا شمار ان میں سے کسی میں بھی نہیں ہے جبکہ نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ انسان کا حشر انہی لوگوں کے ساتھ ہوگا جن سے اسے محبت ہوگی تو جو شخص بھی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اس بات کو پسند ہی نہیں کرے گا کہ اس کا حشر یزید یا اس جیسے بادشاہوں کے ساتھ ہو جو عادل نہیں تھے۔

(مجموع الفتاوىٰ لابن تيميہ: جلد 4 صفحہ 251 کتاب مفصل الاعتقاد)

3: علامہ شمس الدین ابوعبداللہ محمد بن احمد بن عثمان ذہبیؒ(ت 748ھ) لکھتے ہیں:

يزيد بن معاويہ بن أبي سفيان كان ناصبيا فظا غليظا جلفا يتناول المسكر ويفعل المنكر افتتح دولتہ بمقتل الشهيد الحسين واختتمها بواقعہ الحرة فمقتۃ الناس ولم يبارك في عمره۔

ترجمہ: یزید بن معاویہ بن ابی سفیان ناصبی، متشدد، سخت اور بد اخلاق قسم کا آدمی تھا، وہ شراب پیتا اور غلط کام کرتا تھا۔ اس نے حکومت کی ابتداء سیدنا حسینؓ کے قتل سے کی اور اپنی حکومت کا اختتام واقعہ حرہ پر کیا، اس لیے لوگ اس سے ناراض تھے اور اس کی عمر میں کوئی برکت نہیں تھی۔

(سیر اعلام النبلاء للذهبي: جلد 4 صفحہ 316۔ 318 ترجمہ یزید بن معاويہ بن ابی سفیان)

فائدہ نمبر 1: علامہ شمس الدین الذہبیؒ نے اس عبارت میں یزید کو ناصبی کہا ہے، اس لیے ذیل میں ناصبی کی تعریف پیش کی جاتی ہے:

1: علامہ تقی الدین ابوالعباس احمد بن عبد الحلیم بن عبد السلام بن تیمیہ الحرانی الحنبلیؒ (ت 728ھ) لکھتے ہیں:

النواصب: الذين يؤذون اہل البيت بقول او عمل

ترجمہ: ناصبی ان لوگوں کو کہتے ہیں جو اہلِ بیت کو اپنے قول یا عمل کے ذریعے ایذاء (تکلیف) دیتے ہیں۔

(مجموع الفتاوىٰ لابن تیمیہ: جلد 3 صفحہ93 کتاب مجمل اعتقادالسلف)

2: حافظ ابوالفضل شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر عسقلانی الشافعیؒ (ت 852ھ) لکھتے ہیں:

والنصب: بغض علی وتقديم غيره عليہ

ترجمہ: سیدنا علیؓ سے بغض رکھنا اور دوسروں کو آپؓ پر ترجیح دینا ناصبیت ہے۔

(هدى السارى مقدمۃ فتح الباری: صفحہ 646 فصل في تمييز اسباب الطعن)

3: علامہ مجدالدین محمد بن یعقوب الفيروز آبادیؒ (ت 817ھ) لکھتے ہیں:

والنواصب والناصبيۃ واهل النصب: المتدينون ببغضۃ علیؓ لأنهم نصبوا له ای: عادوه

صفحہ 1 از 2