حضرت حسینؓ نے متقی امام وقت کے خلاف خروج کیا - ردِ رافضیت |…

حضرت حسینؓ نے متقی امام وقت کے خلاف خروج کیا

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 2

ترجمہ: نواصب، ناصبیت اور اہلِ نصب ان لوگوں کو کہتے ہیں جو سیدنا علیؓ سے بغض رکھنے کو دین و ایمان سمجھتے ہیں، انہیں نواصب اس لیے کہتے ہیں کیونکہ انہوں نے حضرت علیؓ سے دشمنی کا جھنڈا نصب کر رکھا ہے۔

(القاموس المحيط للفيروز آبادی: صفحہ177 فصل النون)

فائدہ نمبر 2: یزید بن معاویہ کے دور کے سیاہ ترین واقعات میں سے ایک واقعہ واقعہ حرہ ہے، جو سن 63ھ میں پیش آیا تھا، یزید نے تقریباً دس ہزار اور ایک قول کے مطابق بارہ ہزار شامی افواج کو بھیجا کہ وہ اہلِ مدینہ کو تین دن تک بیعت یزید کی دعوت دیں، اگر وہ بیعت نہ کریں تو تین دن تک اہلیان مدینہ کو لوٹیں اور قتل و قتال کریں، چنانچہ شامی افواج نے ایسا ہی کیا، مدینہ طیبہ میں قتل عام کیا گیا، یزید کی بھیجی ہوئی افواج نے تقریباً سات سو سے زائد افراد صحابہؓ، تابعینؒ اور حفاظ کرام کو شہید کیا، یہاں تک کہ تین دن تک مسجد نبویﷺ میں اذان و نماز بھی نہ ہو سکی۔

فائدہ نمبر 3: مدینہ کے جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں جھلسے ہوئے ٹیلوں کے سلسلے ہیں، کسی زمانہ میں آتش فشاں کی وجہ سے یہ علاقہ جھلس گیا تھا جنہیں حرہ کہا جاتا ہے، اس جگہ کی مناسبت سے اس واقعہ کو واقعۂ حرہ کہا جاتا ہے۔

4: علامہ شہاب الدین ابوالعباس احمد بن محمد بن علی بن حجر الہیثمی المکیؒ (ت 974ھ) لکھتے ہیں:

وعلى القول بأنہ مسلم فهو فاسق شرير سكير جائر۔

(الصواعق المحرقۃ)

ترجمہ: اس قول (کہ یزید مسلمان ہے) کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ وہ فاسق تھا، شریر تھا، شراب خور تھا، ظالم تھا۔

(الصواعق المحرقہ: صفحہ331 تحت الخاتمہ)

5: علامہ ابوالعباس عبد العلی بن مولانا نظام الدین لکھنویؒ الملقب بحر العلوم (ت 1235ھ) فرماتے ہیں:

ويزيد کان من أخبث الفساق وكان بعيدا بمراحل من الإمامة بل الشك في إيمانہ خذلہ اللہ تعالىٰ والصنيعات التي صنعها معروفة من أنواع الخبائث۔

ترجمہ: یزید فاسقوں میں بڑا خبیث تھا اور منصب خلافت سے کوسوں دور تھا بلکہ اس کے تو ایمان میں بھی شک ہے، اللہ تعالیٰ اسے رسوا کرے اور جو مختلف قسم کے خبیث کام اس نے کیے ہیں وہ سب مشہور و معروف ہیں۔

(فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت: جلد 2 صفحہ 273 الاصل الثالث الاجماع)

6: حضرت سید احمد صاحب شہید بریلیؒ (ت 1246ھ) لکھتے ہیں:

رفیق من از جنود حسین بن علی است و رفیق مخالف من از زمره یزید شقی۔

ترجمہ: میرا دوست سیدنا حسین بن علیؓ کے لشکر میں داخل ہے اور میرے مخالف کا دوست یزید بد بخت کی جماعت میں داخل ہے۔

(مکتوبات سید احمد: صفحہ149)

7: قاسم العلوم والخیرات حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ (ت 1297ھ) لکھتے ہیں:

ان (سیدنا امیر معاویہؓ) کے انتقال کے بعد یزید نے پر پرزے نکالنے شروع کیے اور دل کو خواہش نفس اور ہاتھ کو جام شراب پر لے گیا، فسق کھلم کھلا کرنے لگا اور نماز چھوڑ دی۔

(مکتوبات قاسم العلوم: صفحہ 175عنوان: حضرت امیر معاویہؓ کے بعد یزید کی حالت)

8: ابوالحسنات محمد عبدالحی بن محمد عبدالحلیم انصاری لکھنویؒ (ت 1304ھ) لکھتے ہیں:

مسلک اسلم آنست که آن شقی را بمغفرت و ترحم ہرگز یاد نباید کردوبہ لعن او کہ در عرف مختص بکفار گشتہ زبان خود را آلوده نباید کرد۔

ترجمہ: یزید کے متعلق محتاط ترین مسلک یہ ہے کہ اس بد بخت کو مغفرت اور رحمہ اللہ کے کلمات سے ہر گز یاد نہ کیا جائے اور نہ ہی اس پر لعنت، جو کافروں کے لیے مخصوص ہے کر کے اپنی زبان کو گندا کرے۔

(فتاوىٰ عبد الحى: جلد 3 صفحہ 8ـ9)

9: قطب الاقطاب فقيہ النفس حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ (ت 1323ھ) فرماتے ہیں:

کسی مسلمان کو کافر کہنا مناسب نہیں، یزید مومن تھا بسبب قتل کے فاسق ہوا، کفر کا حال دریافت نہیں، کافر کہنا جائز نہیں کہ وہ عقیدہ قلب پر موقوف ہے۔

(فتاویٰ رشیدیہ: صفحہ 49)

10. حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (ت 1362ھ) فرماتے ہیں:

یزید فاسق تھا اور فاسق کی ولایت مختلف فیہ ہے۔

(امداد الفتاوىٰ: جلد 4 صفحہ 465)


صفحہ 2 از 2