شیعہ اثنا عشریہ کے عقیدے کی حقیقت خود اُن کی زبانی شیعہ…

شیعہ اثنا عشریہ کے عقیدے کی حقیقت خود اُن کی زبانی شیعہ اثنا عشریہ کون ہیں؟

  جمشید عالم عبد السلام سلفیؔ

صفحہ 1 از 7

شیعہ اثنا عشریہ کے عقیدے کی حقیقت خود اُن کی زبانی
شیعہ اثنا عشریہ کون ہیں؟
تالیف: شیخ عبد اللہ بن محمد سلفؔی ۔حفظہ اللہ۔

ترجمہ: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنیؔ

مراجعہ: جمشید عالم عبد السلام سلفیؔ،

عزیزالرّحمن ضیاء اللہ سنابلیؔ

شیعہ اثنا عشریہ کے یہاں امامت رُکن ہے اور اس کا منکر کافر ہے

٭اسی طرح رافضی  کہتے ہیں کہ:

جوشخص امامت کا اعتقاد نہیں رکھتا تو اس کا ایمان بغیر اس پر ایمان واعتقاد کے نا مکمل ہے۔(کتاب (عقائد الإمامیۃ) لمحمد رضا مظفر ،ص۷۸)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

امامت نبوّت کی بقا کے لئے ہے، اور وہ دلیل جورسولوں کو بھیجنے اور انبیاء کو مبعوث کرنے کو واجب ٹہراتی ہے وہ دلیل بعینہ رسول کے بعد امام کے تعیین کو واجب کرتی ہے۔ (دیکھیں: کتاب (عقائد الإمامیۃ) لمحمد رضا مظفر ،ص۸۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

امامت سے ان کی مراد ایک ایسا الٰہی منصب ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کےبارے میں اپنے سابق علم سے اختیار کرتا ہے، جس طرح کہ وہ نبی کا انتخاب کرتا ہے ، اور نبی کو اس بات کا حکم دیتا ہے کہ امّت کو اللہ کی طرف رہنمائی کریں، اور امّت کو ان کی اتباع کا حکم دیتا ہے۔ (دیکھیں: کتاب (أصل الشیعۃ وأصولھا) لمحمد حسین کاشف الغطاء، ص۱۰۲۹)۔

بلکہ یہ (امامت) دین کے اصولوں میں سے ایک اصل ہے جس کا اعتقاد رکھے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوسکتا ، اور دوسری عبارت میں وہ یوں کہتے ہیں: امامت نبّوت کے استمرار وبقا کے لئے ہے۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

جس نے امیر المومنین علی بن ابی طالب کی امامت اور ان کے بعد کے ائمہ کا انکار کیا تو گویا اس نے تمام انبیاء کی نبوّت کا انکار کیا، اور جس نے امیر المومنین کا اقرار کیا او ر ان کے بعد کے ائمہ میں سے کسی ایک کا انکار کیا تو وہ تمام انبیاء کےاقرار کرنے والے کے درجے میں ہوگا اور محمد ﷺ کی نبوّت کا انکار کرنے والاٹھرے گا۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

جس نے( ائمہ اثنا عشریہ میں) سے کسی ایک امام کا انکار کیا تو وہ تمام انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی نبوت کے انکارکرنے والے کےدرجے میں ہوگا۔ (دیکھیں: کتاب (منھاج النجاۃ) للفیض الکاشانی، ص ۴۸)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

شیعہ امامیہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس نے کسی ایک امام کا انکار کیا اور ان ائمہ کے تئیں اللہ تعالیٰ نے اس پر جو اطاعت فرض کی ہے اس کا انکار کیا تو وہ کافر اور گمراہ ہے، اور خلود فی النار کا مستحق ہے۔ (دیکھیں: کتاب (حق الیقین في معرفۃ أصول الدین) لعبد اللہ شبر۲،؍۱۸۹)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

ایسے شخص پر شرک و کفر کا اطلاق کرنا جو امیرالمومنین (علی رضی اللہ عنہ) کی امامت کا اعتقاد رکھتا ہےاور نہ ہی ان کی اولاد میں سے(دیگر) ائمہ کی امامت کا، اور ان پر دیگر لوگوں کو فوقیت دیتا ہے تو یہ اس کے خلود فی النّار ہونے پر دلالت کرتا ہے۔(دیکھیں : کتاب (بحار الأنوار) للمجلسی، ۲۳؍۳۹۰)۔

شیعہ اثنا عشریہ کانبیﷺ،آپ کی بیٹیوں اور آل بیت کے ساتھ اساءت وبد سلوکی
٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

جب نبی ﷺ پیدا ہوئے تو کئی دنوں تک دودھ پئے بغیر رہے، تو ابوطالب نے ان کو اپنے پستان سے لگایا تو اللہ نے اس کے اندر دودھ پیدا کردیا ، چناں چہ کئی روز تک آپ ابو طالب(کی چھاتی )سے دودھ پیتے رہے یہاں تک کہ ابوطالب کوحلیمہ سعدیہ مل گئیں تو آپ نے نبیﷺکو ان کے حوالے کردیا ۔ (دیکھیں: کتاب (أصول الکافی) للکلینی، ۱؍۴۴۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

علی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے زیادہ بہادر تھے، بلکہ آپﷺ کو سرے سےبہادری دی ہی نہیں گئی تھی۔ (دیکھیں: کتاب (الأنوار النعمانیۃ) لنعمۃ اللہ جزائری، ۱؍۱۷)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

نبی ﷺ اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک کہ وہ فاطمہ کا رخساریا سینہ کا بوسہ نہیں دے لیتے تھے۔(دیکھیں: کتاب (بحار الأنوار) للمجلسی ۴۲؍۴۳)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

نبیﷺکی بیٹیوں میں سے صرف فاطمہ رضی اللہ عنہا(حقیقی) بیٹی تھیں، اور رقیہ ،ام کلثوم اور زینب یہ آپﷺ کی ربائب(پرورش کردہ بیٹی) تھیں۔ (دیکھیں: دائرۃ المعارف الإسلامیۃ الشیعیۃ) ج۱؍۲۷)

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

حسن بن علی رضی اللہ عنہ مومنوں کو ذلیل کرنے والے تھے کیونکہ انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کرلی تھی۔(دیکھیں: کتاب (رجال الکشي) ص۱۰۳)۔

شیعہ اثناعشریہ کا امہات المومنین عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کو کا فر قراردینا
٭ شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ :

بے شک نبی ﷺ کی بیوی نوح اور لوط علیہما السلام کی بیوی کی طرح کافر ہوسکتی ہے۔

اور ان کے نزدیک نبیﷺ کی بیوی سے مراد ام المومنین عائشہ ہیں اللہ ان سے اور ان کے باپ سے راضی ہو۔(دیکھیں: کتاب (حدیث الأفک) لجعفر مرتضی ،ص۱۷)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

عائشہ رضی اللہ عنہا نبیﷺ کی وفات کے بعد مرتد ہوگئیں تھیں جس طرح کہ بہت سارے صحابہ مرتد ہوگئے تھے۔ (الشھاب الثاقب في بیان معنی الناصب) لیوسف بحرانی، ص۲۳۶)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

عائشہ رضی اللہ عنہا نے خیانت ودھوکہ سے چالیس دینار جمع کیا تھا ، اور اسے علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے والوں میں تقسیم کردیا تھا!! (دیکھیں: کتاب (مشارق أنوار الیقین) لرجب البرسي ،ص۸۶)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ۔نعوذ باللہ۔ زناکا صدور ہوا تھا، چناں چہ اللہ کے اس قول:﴿ أُولَـٰئِكَ مُبَرَّ‌ءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ﴾ [النور:۲۶] ’’ ایسے پاک لوگوں کے متعلق جو کچھ بکواس (بہتان بازی) کر رہے ہیں وه ان سے بالکل بری ہیں، ‘‘ کے بارے میں کہتے ہیں کہ: اس آیت میں نبیﷺ کی زنا سے تنزیہہ(پاک قراردینا) ہے نہ کہ ان کی تنزیہہ مقصود ہے (اور اس سے ان کا مقصود عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں)۔(دیکھیں : کتاب (الصراط المستقیم) لزین الدین النباطي البیاضي ۳،؍۱۶۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

صفحہ 1 از 7