شیعہ اثنا عشریہ کے عقیدے کی حقیقت خود اُن کی زبانی شیعہ…

شیعہ اثنا عشریہ کے عقیدے کی حقیقت خود اُن کی زبانی شیعہ اثنا عشریہ کون ہیں؟

  جمشید عالم عبد السلام سلفیؔ

صفحہ 3 از 7

اگر علی نہ ہوتے تو محمد ﷺ کی پیدائش نہ ہوتی، اور اگر فاطمہ نہ ہوتیں تو تم دونوں کو نہ پیدا کرتا۔(دیکھیں: کتاب (الأسرار الفاطمیۃ) لمحمد مسعودی ،ص۹۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

فاطمہ رضی اللہ عنہا الٰہی عظمت و قوت کا زندہ وجود ہیں جو عورت کی شکل میں نمودار ہوا (دیکھیں: کتاب (الأسرار الفاطمیۃ) لمحمد مسعودی ،ص۳۵۵)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنی ماں سے گفتگوکرتی تھیں حالاں کہ وہ ان کی پیٹ میں تھیں ۔(دیکھیں: کتاب (فاطمۃ الزھراء من المھد إلی اللحد) لمحمد قزوینی ،ص۳۸)۔

شیعہ اثنا عشریہ کا اپنے اماموں کو نبیوں پر فوقیت دینا اور ان کے حق میں غلو کرنا
٭ شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

ائمہ اثنا عشریہ انبیاء ورسل سے افضل ہیں۔ (دیکھیں: کتاب (الأنوار النعمانیۃ) لنعمۃ اللہ جزائری،۳؍۳۰۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

شیعہ کے ائمہ ماکان وما یکون(ازل سے ابد تک) کی بات جانتے ہیں، اور ان پر کوئی چیز مخفی نہیں ہے، اور وہ اپنی اختیار سے ہی موت پاتے ہیں۔ (دیکھیں: کتاب( أصول الکافي) للکلینی،۱؍۲۵۸،۲۶۰)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک امام کے لئے مقام محمود،بلند درجہ اور ایسی تکوینی خلافت ہوتی ہے جس کی ولایت اور تسلط و سطوت کے لئے دنیا کے تمام ذرّے تابع ہوتے ہیں۔(دیکھیں: کتاب (تحریر الوسیلۃ) للخمینی، ص۵۲)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ائمہ اثنا عشریہ کے لئے خالق کے علاوہ تکوینی ولایت حاصل ہے، اور یہ ولایت اسی طرح ہے جس طرح مخلوق پر اللہ تعالیٰ کی ولایت ہے۔( دیکھیں: کتاب (مصباح الفقاھۃ) لابی القاسم خوثی، ۵؍۳۳)۔

٭اسی طرح و ہ کہتے ہیں کہ:

ہمارے (یعنی ائمہ اثنا عشریہ) کے اللہ کے ساتھ ایسے حالات ہیں جہاں تک کسی مقرّب فرشتہ اور نبی مرسل کی پہنچ نہیں ہوسکتی ہے۔(دیکھیں: کتاب (تحریر الوسیلۃ) للخمینی، ص۹۴)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ائمہ اثنا عشریہ کو اپنی اجازت سے معاملات جاری کرنے اور شب قدر وغیرہ میں اسے تنفیذ کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، اور اس امر کے ثبوت میں کوئی مانع نہیں ہے۔(دیکھیں: کتاب (البرھان القاطع) ،لمحمد تقی بہجت ،ص۱۴، یہ شرعی وعقدی سوالوں کے جوابات کا مجموعہ ہے جسے شیعہ اثنا عشریہ کے شیخ محمد تقی بہجت نے دئیے ہیں)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک اوصیاء یعنی(ائمہ اثنا عشریہ) پہلؤوں میں اٹھائے جاتے ہیں،اور رانوں سے نکالے جاتے ہیں، اور انہیں کوئی نجاست نہیں لگتی۔ (دیکھیں: کتاب (مدینۃ المعاجز) لہاشم بحرانی، ۸؍۲۲)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک اللہ،اس کے فرشتے، اور انبیاء ومومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کرتے ہیں۔(دیکھیں: کتاب (الفروع من الکافي) للکلینی ،۴؍۵۸۰)ْ

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

امام نبی کی طرح ہے، لہذا اس کے لئے ضروری ہے کہ طفولیت کی عمر سے لے کر موت تک عمدا یا سہوا تمام ظاہری وباطنی فواحشات ورزائل سے معصوم ہو، کیوں کہ ائمہ شریعت کے محافظ ونگراں ہیں، اس سلسلے میں ان کی حالت نبی کی حالت کی طرح ہے۔ (دیکھیں: شیعہ اثناعشریہ کے شیخ ابراھیم زنجانی کی کتاب (عقائد الإمامیۃ) ،۳؍۱۷۹ کو)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ملائکہ کی پیدائش اہل بیت کی خدمت کرنے کے لئے ہوئی ہے۔(دیکھیں: کتاب(بحار الأنوار) للمجلسی،۲۶؍۳۳۵)۔

شیعہ اثناعشریہ کا تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علاوہ بقیہ کوکافر قراردینا
٭ شیعہ اثنا عشریہ تین صحابہ کرام کو چھوڑ کر بقیہ تمام صحابہ کرام کو کافر ومرتد کہتےہیں، اور ان میں سر فہرست ابوبکر،عمر، عثمان،خالد بن ولید، معاویہ بن ابی سفیان اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم ہیں ۔(دیکھیں: کتاب( الروضۃ من الکافي) للکلینی، ۸؍۲۵۴)۔

شیعہ اثنا عشریہ کا ابوبکر،عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سے بغض و عداوت رکھنا

٭شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

تبرّا کے سلسلے میں ہمارا (شیعہ اثنا عشریہ کا )عقیدہ یہ ہے کہ: ہم چار بتوں (ابو بکر، عمر، عثمان، معاویہ ) اور چار عورتوں(عائشہ، حفصہ، ہند، امّ الحکم )، اور ان کے تمام متبوعین وپیروکاروں سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں، اور (ہم یہ کہتے ہیں کہ) یہ لوگ روئے زمین پر سب سے بُرے لوگ ہیں، اور اللہ ،اس کے رسول اور ائمہ پر ان کے دشمنوں سے تبرا بازی کئے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔ (دیکھیں: کتاب(حق الیقین) للمجلسی ،ص۵۱۹)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کافر ہیں، اور ان دونوں سے محبّت کرنے والا بھی کافر ہے۔ (دیکھیں: کتاب(بحار الأنوار) للمجلسی،۶۹؍۱۳۷،۱۳۸)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ابوبکر وعمر ملعون ہیں ،اور یہ دونوں اللہ عزوجل کے ساتھ کفروشرک کرکے مرے۔(دیکھیں: کتاب(بصائر الدرجات) للصفّار،۸؍۲۴۵)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

نبی ﷺ ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ غار (ثور) اس وجہ سے لے گئے کیوں کہ خدشہ تھا کہ کہیں وہ کفار کو آپ ﷺکے بارے میں جانکاری نہ دیدیں۔(دیکھیں: کتاب (تفسیر البرھان) لہاشم بحرانی، ۲؍۱۲۷)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے حالاں کہ ان کی گردن میں بُت لٹکے ہوتے اور وہ ان کی سجدہ کر رہے ہوتے۔(دیکھیں: کتاب(الأنوار النعمانیۃ) لنعمۃ اللہ جزائری، ۱؍۵۳)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

عمررضی اللہ عنہ کو ایک ایسی بیماری لاحق تھی کہ جسے آدمی کا پانی (منی)ہی شفا دے سکتا تھا، اور ۔معاذ اللہ۔ ان کی دادی زنا کی بیٹی تھیں۔ (دیکھیں: کتاب(الأنوار النعمانیۃ) لنعمۃ اللہ جزائری، ۱؍۶۳، و کتاب (الصراط المستقیم) لزین الدین النباطی البیاضی،۳؍۲۸)۔

٭ اسی طرح یوم نیروز کی تعظیم کے قائل ہیں، اور عمر رضی اللہ کے قتل کیے جانے والے دن کا جشن مناتے ہیں، اور ان کے قاتل کو بابا شجاع الدین کا نام دیتے ہیں، اور عمر رضی اللہ عنہ کے قتل کرنےکی وجہ سے بطور جزا اس کی قبر کی زیارت پر لوگوں کو ابھارتے ہیں۔(دیکھیں: کتاب (عقد الدرر في بقر بطن عمر) لیاسین الصوّاف،ص۱۲۰)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

قریش کے دوبت یعنی( ابوبکر وعمر) پر بد دعا کرنا عظیم ترین نیکی اور طاعات میں سے ہے، اور انہیں لوگوں نے ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما پر جبت اور طاغوت کا اطلاق کیا ہے۔ (دیکھیں: کتاب(إحقاق الحق) للمرعشی،۱؍۳۳۷)۔

صفحہ 3 از 7