شیعہ اثنا عشریہ کے عقیدے کی حقیقت خود اُن کی زبانی شیعہ…

شیعہ اثنا عشریہ کے عقیدے کی حقیقت خود اُن کی زبانی شیعہ اثنا عشریہ کون ہیں؟

  جمشید عالم عبد السلام سلفیؔ

صفحہ 4 از 7

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ان کے من گھڑت وجھوٹے مہدی ابوبکر اور عمررضی اللہ عنہما کو زندہ کریں گے اور انہیں پھانسی دے کر جلائیں گے، پھر وہ امّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو زندہ کریں گے اور ان پر حد قائم کریں گے۔(دیکھیں: کتاب ( الرجعۃ) لاحمد احسائی ،ص۱۱۶، ۱۶۱)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

عثمان رضی اللہ عنہ زانی اور مخنّث(ہجڑے) تھے اور دف بجاتے تھے۔(دیکھیں: کتاب (الصراط المستقیم) لزین الدین النباطی البیاضی،۳؍۳۰)۔

شیعہ اثنا عشریہ کے من گھڑت (جھوٹے وخود ساختہ)مہدی اور قولِ رجعت
٭ شیعہ اثنا عشریہ اس بات کے قائل ہیں کہ:

جبرئیل ،میکائیل، کرسی، لوح محفوظ اور قلم سب ان کے مہدی کے تابع ومطیع ہیں، یہ اس لئے کہ ان کے مہدی سفّاح (خون ریز )ہیں۔ (دیکھیں : کتاب( عقائدالإمامیۃ) لمحمد رضا مظفر ،ص۱۰۲)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

شیعہ کے نام نہادمہدی کا جسم اسرائیلی جسم ہے۔(دیکھیں: کتاب( الإمام المھدي من الولادۃ إلی الظھور) لمحمد قزوینی ،ص۵۳)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

شیعہ کے مہدی نیا حکم ،نیا کتاب، نیا فیصلہ لے کر آئیں گے اور وہ عرب پر شدید ہوں گے،ان کا معاملہ صرف تلوار کاہوگا، نہ وہ کسی کا توبہ قبول کریں گے اور نہ ہی اللہ کی راہ میں کسی ملامت گر کی ملامت کو خاطر میں لائیں گے۔(دیکھیں: کتاب( الغیبۃ) لمحمد نعمان ،ص۱۵۴)۔

٭اسی طر ح وہ کہتے ہیں کہ:

جب مہدی خروج کریں گے تو ان کے اور عرب وقریش کے درمیان معاملہ صرف تلوار کا ہوگا۔ (دیکھیں: کتاب( الغیبۃ) لمحمد نعمان ،ص۱۵۴)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ہمارےاور عربوں کے درمیان صرف ذبح کا معاملہ باقی رہ گیا ہے، اور پھرہاتھ سے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا۔( دیکھیں: کتاب( الغیبۃ) لمحمد نعمانی ،ص۱۵۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ان کے مہدی مسجد حرام اور مسجد نبوی کو مسمار کریں گے، اور آل داؤد کے حکم کے مطابق فیصلہ کریں گے، اور اللہ سے اپنے عبرانی نام سے کلام کریں گے، بلکہ دوتہائی زمین کے لوگوں کو قتل کریں گے۔(دیکھیں: کتاب (بحار الأنوار) للمجلسی،۵۲؍۳۳۸، وکتاب(أصول الکافي) ،۱؍۳۹۷، وکتاب(الغیبۃ) للنعمانی،ص۳۲۶،وکتاب (الّرجعۃ) لاحمد احسائی ،ص۵۱)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

جہاد اس وقت تک جائز نہیں جب تک ان کے نام نہادمہدی اپنے سرداب(غار) سےباہر نہ آجائیں۔(دیکھیں: کتاب (وسائل الشیعۃ) للحر العاملی،۱۱؍۳۷)۔

شیعہ اثنا عشریہ کا قبروں اور مزاروں کی عبادت کے بارے میں قبیح غلو
٭شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت بیت اللہ الحرام سے زیادہ بہتر ہے، بلکہ حسین کے زائرین پاک لوگ ہیں، اور ان کے بارے میں شک وتردّد(توقّف) کرنے والے اولاد زنا ہیں۔(دیکھیں: کتاب (بحار الأنوار للمجلسي) ،۹۸؍۸۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کرنا دو ملیون (بیس لاکھ) حج ،دو ملیون(بیس لاکھ) عمرہ اور دو ملیون(بیس لاکھ) غزوہ کے برابر ثواب ہے، اور ہر حج ،عمرہ اور غزوہ کا ثواب رسول اللہ ﷺ اور ائمہ راشدین کے ساتھ حج ،عمرہ اور غزوہ کے ثواب کی طرح ہے۔ (دیکھیں: کتاب( نور العینین في المشي إلی زیارۃ قبر الحسین) لمحمد الاصطھباناتی،ص۲۶۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

کربلا اسلام میں سب سے مقدّس جگہ ہے، نیز مکہ و مدینہ اور بیت المقدس سے زیادہ عظیم ہے۔(دیکھیں: شیعوں کے شیخ عباس کاشانی کی کتاب(مصابیح الجنان) ،ص۳۶۰)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک حسین رضی اللہ عنہ کی قبر کی مٹی کو کھانا ہر بیماری سے شفاہے۔(دیکھیں: شیعوں کے شیخ مفید کی کتاب(المزار) ،ص۱۲۵)۔

٭ اسی طرح وہ ۔جھوٹے طور پر۔ کہتے ہیں کہ:

ابو عبد اللہ (جعفر صادق) رحمہ اللہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! اگر میں تمہیں حسین اور ان کے قبر کی زیارت کی فضیلت بیان کردوں، تو تم لوگ سرے سے حج ہی کرنا چھوڑ دوگے، تمہاری بربادی ہو، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرم بنانے سے پہلے کربلا کو امن والا اور مبارک حرم بنایا تھا؟! (دیکھیں: شیعوں کے شیخ ابن قولویہ قمی کی کتاب(کامل الزیارات) ، ص۴۴۹)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک مقبروں میں نماز ادا کرنا مسجد میں نماز ادا کرنے سےزیادہ بہتر ہے، بلکہ کہا گیا ہے کہ: مسجد حرام میں نماز ادا کرنے کے بالمقابل علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی مسجد میں نماز ادا کرنا اس سے دوگُنا اجر کا باعث ہے۔ (دیکھیں: شیعوں کے شیخ علی سیستانی کی کتاب(منھاج الصالحین) ، ۱؍۱۸۷)۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

اسلام میں سب سے بڑی عید ،عید الفطر اور عید الأضحٰی نہیں ہے، بلکہ عید غدیر ہے جو کہ بدعی(نئی ایجاد کردہ) ہے اور اسلام میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔(دیکھیں: شیعوں کے شیخ محمد شیرازی کا رسالہ(عید الغدیر) ،ص۱۱)۔

شیعہ اثنا عشریہ کی کفار سے دوستی ، اور ان کی خیانتوں اور بے وفائیوں کا بیان
٭شیعہ اثناعشریہ کہتے ہیں کہ:

اور اہل کوفہ پرملامت وناگواری کی وجہ یہ ہےکہ انہوں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو طعن کا نشانہ بنایا، اورحسین کو دعوت دینے کے بعد قتل کرڈالا(دیکھیں: کتاب (تاریخ الکوفہ) ،ص۱۱۳)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بے شک حسین رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ہمارے اور اس قوم کے درمیان فیصلہ کر دےجنہوں نے ہماری مدد کے لئے ہمیں دعوت دی لیکن انہوں نے ہمیں قتل کرڈالا۔(دیکھیں :کتاب( منتھی الآمال) ،۱؍۵۳۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں:

حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان لوگوں (یعنی کوفہ کے شیعوں) نے ہمیں خوفزدہ کیا، اور یہ اہل کوفہ کی کتابیں(خطوط) ہیں، اور یہی میرے قاتل ہیں۔ (دیکھیں: کتاب(مقتل الحسین) لعبد الرزاق المقرم،ص۱۷۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

علی بن حسین رحمہ اللہ نے اہل کوفہ کو روتے اور نوحہ کرتے دیکھ کر فرمایا: ہماری خاطر تم روتے اور نوحہ کرتے ہو! تو پھر وہ کون ہے جس نے ہم کو قتل کیا ہے؟؟(دیکھیں: کتاب (نفس المھموم) لعباس قمی،ص۳۵۷)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

صفحہ 4 از 7