شیعہ اثنا عشریہ کے عقیدے کی حقیقت خود اُن کی زبانی شیعہ…

شیعہ اثنا عشریہ کے عقیدے کی حقیقت خود اُن کی زبانی شیعہ اثنا عشریہ کون ہیں؟

  جمشید عالم عبد السلام سلفیؔ

صفحہ 5 از 7

( پھرحسین رضی اللہ عنہ سے اہل عراق کے بیس ہزار لوگوں نے بیعت کی جنہوں نے آپ کے ساتھ غداری کی، آپ کے خلاف خروج کیا جبکہ آپ کی بیعت ان کے گردنوں میں(لٹکی ہوئی) تھی، اور پھر انہوں نے آپ کو قتل کرڈالا۔(دیکھیں: کتاب (أعیان الشیعۃ) لمحسن امین،۱؍۳۲)۔

٭ اسی طرح وہ اسلامی ممالک کے خلاف دشمنوں کی نصرت ومدد کو واجب کہتے ہیں،اور قبضہ گرجنگجؤوں سے عدم تعرّض کے قائل ہیں۔

(دیکھیں: شیعوں کے بڑے مرجع سیستانی کے ۴ ؍۳؍۲۰۰۳ عیسوی کوجاری کردہ فتوی کو جس میں عراق پر حملہ کرنے والی امریکی فوجیوں سے جنگ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،اور شیعوں کے شیخ محمد مہری نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ عراق میں جو شیعہ کے مراجع کی طرف سے فتوی صادر ہوتا ہے اور جس میں ان اجنبی فوجیوں کے خلاف وجوب جہاد کا مطالبہ کیا جاتا ہےجوعراق کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں وہ فتوی دلیل سے خالی ہے، اور یہ فتاوےمحض تقیہ وخوف اور زندگی کی حفاظت کے طور پر ہیں،کیوں کہ یہ اکراہ واجبار کے تحت ہیں۔ اور اس کی تاکید شیعوں کے مرجع صادق شیرازی مقیم ’’قُم‘‘ کے فتوی سے ہوتی ہے جو عراقی نظامِ حکومت کے اسقاط کے لئے امریکہ کے ساتھ تعاون کو جائز سمجھتا ہے۔ (دیکھیں: جریدہ الوطن،کویت، بروز جمعہ، ۲۷؍۹؍۲۰۰۲م)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

بےشک وہ مسلمان جو سرحدوں پر کفار سے لڑائی کرتے ہیں وہ دنیا وآخرت میں جنگجو ہیں، اور شہداء تو صرف شیعہ امامیہ ہیں گرچہ اپنی بستروں پر ہی وفات پائیں۔(دیکھیں: کتاب (تھذیب الأحکام) للطوسی، ۶؍۹۸)۔

شیعہ اثنا عشریہ کا مکہ اور مدینہ سے بغض و عداوت رکھنا
٭شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

اہل مکہ اعلانیہ طور پر اللہ کا انکار وکفرکرتےتھے، اور اہل مدینہ اہل مکہ سے ستّر گنازیادہ خبیث تھے۔(دیکھیں: کتاب(أصول الکافي) للکلینی، ۲؍۴۱۰)۔

شیعہ اثنا عشریہ کا مصر وشام سے بغض و عداوت رکھنا
٭شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

مصر کے لوگ داؤد علیہ السلام کی زبانی لعنت کئے گئے ،چناں چہ ان میں سے بندر اور سور بنادئے گئے۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

جب اللہ تعالیٰ بنو اسرائیل سے ناراض ہوا تو انہیں مصر میں داخل کردیا، اور جب ان سے راضی ہوا تو اس سے باہر نکال دیا۔

٭ اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ان کے معصوم امام ابوجعفرؒ نے فرمایا کہ:میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ کسی ایسی چیز کو کھاؤں جو مصر کی پکی ہوئی مٹی سے بنائی گئی ہو، اور میں مصر کی مٹی سے اپنا سر دھونے کو نا پسند کرتا ہوں اس خوف سے کہ کہیں اس کی مٹی وراثت میں مجھے ذلت نہ دیدے،اور میری غیرت کو ختم کردے، مصرکو فتح کرو لیکن اس میں قیام کا مطالبہ نہ کرو، اور میرا گمان ہےکہ انہوں نے کہا: کہ وہ دیوثیت پیدا کردےگی۔(دیکھیں: کتاب(تفسیر القمي) للقمی،۲؍۲۴۱،وکتاب (تفسیر البرھان) لہاشم بحرانی ،۱؍۴۵۶،وکتاب(فروع الکافي) للکلینی،۶؍۵۰۱، وکتاب (بحار الأنوار) للمجلسی،۶۰؍۲۱۱)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

شام کیا ہی بہتر زمین ہے، اور اس کے باشندے کتنے ہی برے ہیں، رومیوں نے کفر کیا لیکن ہم سے دشمنی نہیں کی، جبکہ شامیوں نے کفر کیا اور ہم سے دشمنی کی، اور یہ نہ کہو کہ اہل شام سے،بلکہ کہو اہل شؤم(منحوس ملک) سے۔(دیکھیں: کتاب (تفسیر البرھان) لہاشم بحرانی،۱؍۴۵۶، وکتاب (أصول الکافي) للکلینی،۲؍۴۱۰، وکتاب (تفسیر القمي) للقمی،۲؍۲۴۱)۔

شیعہ اثنا عشریہ کےاصحاب عمائم کا خُمس کھانا
٭شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

خُمس کا مال جو خاندان نبی ﷺ کے لئے مختص تھا اسے اصحاب عمائم اس حجّت کی بنا پر لیتے ہیں کہ وہ ان کے سرداب(غار) میں روپوش غائب امام کے قائم مقام ہیں۔(دیکھیں: کتاب( وسائل الشیعۃ) للحر العاملی،۶؍۳۸۳)۔

شیعہ اثنا عشریہ کا رخسار پیٹنے اور کودنے واچھلنے کو عظیم ترین نیکی سمجھنا
٭شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ:

عاشوراء کے موقع پر رخسار نوچنا، کودنا واچھلنا اور کالا لباس پہننا اور حسین رضی اللہ عنہ کا نوحہ وماتم کرنا عظیم ترین نیکیوں میں سے ہیں، بلکہ یہ افعال پسندیدہ اعمال میں سے ہیں۔(دیکھیں: فتاوی محمد کاشف الغطا، والروحانی، والتبریزی، وغیرھم من مراجع الإمامیۃ)۔

شیعہ اثنا عشریہ کا مُتعہ پر ابھارنا اور بدکار عورتوں سے لطف اندوز ہونا
٭شیعہ اثنا عشری کہتے ہیں کہ:

آدمی بطور متعہ ہزار بار شادی کرسکتاہے، کیوں کہ متعہ والی عورت کو نہ طلاق دی جاتی ہے اور نہ وارث بنایا جاتا ہے،بلکہ یہ تو کرایہ پر لی ہوئی چیز ہوتی ہے۔ (دیکھیں: کتاب( الاستبصار) لابی جعفر طوسی،۳؍۱۵۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

متعہ کی اولاد دائمی بیوی کی اولاد سے افضل ہوتی ہے۔(دیکھیں: کتاب(منھج الصادقین) للملا فتح اللہ کاشانی،ص۳۵۶)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

بدکار اور فاجرہ عورتوں سے متعہ کرنا جائز ہے، بلکہ ان کے نزدیک ان (عورتوں سے متعہ)کے بارے میں ترغیب آئی ہوئی ہے۔(دیکھیں:کتاب(بحار الأنوار) للمجلسی،۱۰۰؍۳۱۹،۳۲۰) ۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

متعہ شدہ عورت چار(بیویوں) میں سے نہیں ہے، کیونکہ نہ اس کی طلاق ہوتی ہے اور نہ وارث ہوتی ہے، بلکہ یہ کرایہ پر لی ہوئی چیز ہوتی ہے۔(دیکھیں:کتاب (الفروع من الکافي) للکلینی،۵؍۴۱۵)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ :

حسینہ عورتوں سے متعہ کرنا جائز ہے گرچہ وہ شادی شدہ یا بدکار ہوں۔(دیکھیں: الفروع من الکافي) للکلینی،۵؍۴۶۲)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

ادنیٰ درجے کا متعہ یہ ہے کہ آدمی عورت سے ایک مرتبہ متعہ کرے۔(دیکھیں: کتاب (الفروع من الکافي) للکلینی،۵؍۴۶۰)۔

٭اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ:

زانیہ عورت سے کراہت کے ساتھ متعہ کرنا جائز ہے ،خاص طور سے جب وہ زنا وبدکاری سے مشہور ہو۔(دیکھیں: کتاب(تحریر الوسیلۃ) للخمینی،۲؍۲۵۶)۔

صفحہ 5 از 7