کفار کے ساتھ تمام امور میں احتراز کرنا لازم ہے
علامہ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ نے فرمایا کہ قلبی میل جول اور محبت (جو کفار کے ساتھ ممنوع ہے) کا تعلق اگرچہ قلب سے ہے لیکن ظاہری مخالفت کفار کے ساتھ قطع تعلق میں زیادہ مؤثر ہے، ( اور یہ قطع تعلق مطلوب ہے) پھر ظاہری تعلق اگرچہ قلبی تعلق کا سبب قریب یا بعید نہ بن سکے لیکن اس میں قطع تعلق کی مصلحت بھی حاصل نہیں ہوتی، بلکہ یہ ظاہری تعلق ربط اور میل ہی کی طرف مائل کرتا ہے، جیسا کہ انسانی طبعیت اور عادت کا تقاضا ہے۔
اس لئے اسلاف ان آیات سے (جن میں کفار سے مودت و موالات کی ممانعت ہے) اس بات پر استدلال کرتے رہے ہیں کہ سلطنت و انتظام کے امور میں بھی ان سے مدد نہ لی جائے جیسا کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا کہ میرا ایک نصرانی کاتب ہے۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ناراضگی کا اظہار فرما کر کہا کہ کیا تم نے اللہ تعالیٰ جل شانہ کا یہ فرمان نہیں سنا: يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤى اَوۡلِيَآءَ (سورۃ المائدة: آیت، 51) اے ایمان والو ! یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بنایا کرو، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔
تم نے کسی مسلمان کو کیوں نہ کاتب بنایا؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے اس کے لکھنے سے مطلب ہے، اور اس کا دین اس کیلئے ہے۔ تو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ جل شانہ نے ان کی اہانت کی ہے تو میں ان کا اکرام نہیں کروں گا، جب اللہ تعالیٰ جل شانہ نے ان کو ذلیل کیا، تو میں ان کا اعزاز نہیں کروں گا، اور جب اللہ تعالیٰ جل شانہ نے انہیں دور کر دیا تو میں ان کو قریب نہیں کروں گا۔
علامه ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ:
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عاملوں (وزراء) کو لکھ دیا تھا کہ اہلِ کتاب سے لکھنے کا کام نہ لیا کرو، اس لئے کہ اس طرح تم میں اور ان میں محبت قائم ہو جائے گی، جو شرعاً ممنوع ہے۔ اور نہ ان کے لئے کنایہ کے الفاظ استعمال کرو، اس لئے کہ یہ عظیم و تکریم کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں ۔
ایک اور جگہ آیتِ قرآنی لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ (سورۃ الأنعام: آیت 159) کے ذیل میں فرمایا: کہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ان سے تمام امور میں احتراز کیا جائے۔ (اقتضاء الصراط المستقيم: صفحہ 22، 34)