حضرت حسینؓ کی کوشش قابل مدح نہیں
دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓاعتراض
سیدنا حسینؓ کی تمام تر مشقت، ان کی شہادت، خاندان کی شہادت کا عملی فائدہ کچھ بھی نہیں ہوا، تو اس لحاظ سے ان کی اس کوشش کی مذمت ہونی چاہیے، نہ کہ تعریف جب کہ اسے مدح کے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
جواب نمبر 1:
دنیا دار العمل ہے دارالجزاء نہیں، کتنے انبیاء علیہم السلام ایسے گزرے ہیں جنہوں نے تبلیغ کی لیکن اس پر ظاہری فائدہ مرتب نہیں ہوا کہ ایک شخص نے بھی کلمہ پڑھا ہو، تو ظاہری فائدہ نہ ملنا کسی کی ناکامی کی دلیل نہیں ہوتی۔
جواب نمبر 2:
حضرت حسینؓ اپنی جان دے کر امت کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ خلافت کی بنیاد موروثیت نہیں بلکہ اہلیت ہے۔
جواب نمبر 3:
سیدنا حسینؓ اس موقع پر اپنی جان دے کر امت کو یہ سبق دینا چاہتے تھے کہ ظالم کے خلاف علم جہاد بلند کرنا چاہیے خواہ اس کے نتیجے میں جان تک چلی جائے۔