Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

یزدگرد کے قتل کے بعد نصاریٰ کا اس کے ساتھ تعاطف اور جھکاؤ

  علی محمد الصلابی

یزدگرد کے قتل کی اطلاع اہواز کے ایک شخص کو ملی جو مرو کا اسقف اعظم (بڑا پادری) تھا جس کو ایلیاء کہتے تھے، اس نے وہاں موجود نصاریٰ کو جمع کیا اور ان سے کہا شاہِ فارس قتل کیا جا چکا ہے جو شہریار بن کسریٰ کا بیٹا تھا اور شہریار شیریں کا بیٹا تھا، جو نصرانیت پر ایمان رکھتی تھی اس کے حق و احسان کو تم اچھی طرح جانتے ہو کہ وہ کس طرح اپنے اہلِ ملت کا مختلف طریقہ سے تعاون کرتی رہی ہے۔ لہٰذا اس بادشاہ کے اندر نصرانیت کا عنصر شامل ہے اور اس کے ساتھ اس کے دادا کے دور میں نصاریٰ کو جو شرف و مقام حاصل ہوا وہ بھی واضح ہے، اور اس سے قبل اس کے پیش رو بادشاہوں کے دور میں خیر پہنچتی رہی ہے، اس نے نصاریٰ کے لیے گرجا گھر تعمیر کیے، اور نصاریٰ کی مدد کی، لہٰذا ہمیں اس کے قتل پر اسی قدر حزن و غم کرنا چاہیے جس قدر اس کے آباء و اجداد اور اس کی دادی شیریں کا نصاریٰ پر احسان رہا ہے۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ اس کے لیے پتھر کا ایک تابوت بنا کر اس میں اس کی لاش کو دفن کروں۔ نصاریٰ نے کہا: اے اسقف اعظم! ہم آپ کے تابع ہیں اور آپ کی رائے پر آپ کے موافق ہیں۔ اسقف اعظم نے حکم جاری کیا اور مرو میں پادریوں کے باغ میں یہ تابوت تراشا گیا، اور اسقف اعظم خود نصاریٰ کے ساتھ گیا اور دریا سے اس کی لاش کو نکالا، اور اس کو کفن دے کر تابوت میں رکھ کر وہ اور اس کے ساتھی نصاریٰ اسے اپنے کندھوں پر رکھ کر لائے، اور اس پتھر کے تابوت میں رکھا جس کو تیار کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور پھر اس کا دروازہ بند کر دیا گیا۔

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 304)