Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

31 ہجری میں سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی فتوحات

  علی محمد الصلابی

31ھ میں حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے خراسان کا رخ کیا اور ابرشہر، طوس، بیورد اور نسا کو فتح کرتے ہوئے سرخس پہنچے اور وہاں باشندگانِ مرو سے مصالحت کی۔ اور سیدنا سکن بن قتادہ عرینیؒ کی روایت ہے کہ سیدنا ابنِ عامر رضی اللہ عنہ نے فارس کو فتح کیا، اور بصرہ لوٹ آئے۔ اصطخر پر شریک بن اعور حارثیؒ کو گورنر مقرر کیا، شریکؒ نے جامع مسجد اصطخر تعمیر کی۔

حضرت ابنِ عامر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص بنو تمیم میں سے حاضر ہوا۔ ہم کہتے ہیں کہ وہ سیدنا احنفؓ تھے، اور کہا جاتا ہے کہ وہ سیدنا اوس بن جابر جشمیؓ تھے۔ اس نے آپؓ سے عرض کیا: آپؓ کا دشمن آپؓ سے بھاگ رہا ہے، اور وہ آپؓ سے خوف زدہ ہے، اور ملک طویل و عریض ہے لہٰذا آپؓ اس کا پیچھا کیجیے، اللہ آپ رضی اللہ عنہ کا حامی و ناصر ہے اور اپنے دین کو غالب کرنے والا ہے۔ سیدنا ابنِ عامرؓ نے تیاری کی اور لوگوں کو تیار ہونے کا حکم جاری کیا، بصرہ پر سیدنا زیادؓ کو اپنا نائب مقرر کیا، اور کرمان کی طرف روانہ ہو گئے، پھر خراسان کی راہ لی، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اصفہان کی راہ لی، پھر خراسان پہنچے اور کرمان پر حضرت مجاشع بن مسعود سلمیٰؓ کو مقرر کیا۔ اور خود حضرت ابنِ عامرؓ نے وابرا کے بیابان کا راستہ اختیار کیا جو اسّی (80) فرسخ کی دوری پر تھا، پھر طَبَّسَین کی طرف چلے، منزلِ مقصود ابرشہر تھا جو نیسا پور کا شہر ہے۔ مقدمۃ الجیش پر حضرت احنف بن قیسؓ تھے پھر آپؓ نے قہستان کا راستہ لیا اور ابرشہر پہنچ گئے وہاں ہرات کے لوگوں یعنی ہباطلہ سے مڈبھیڑ ہوئی، سیدنا احنف بن قیسؓ نے ان سے قتال کر کے انہیں شکست دے دی پھر سیدنا ابنِ عامر رضی اللہ عنہما نیسا پور آ گئے۔ 

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 305)

ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابنِ عامر رضی اللہ عنہ ابرشہر میں اترے، اور اس کے نصف حصہ پر بزورِ قوت قبضہ کر لیا اور باقی نصف حصہ کناری کے قبضہ میں رہا اور نسا اور طوس کا نصف بھی اسی کے ہاتھ میں رہا، جس کی وجہ سے آپؓ مرو نہ پہنچ سکے، لہٰذا آپؓ نے کناری سے مصالحت کر لی اور اس نے اپنے بیٹے ابوالصلت بن کناری اور بھتیجے سلیم کو بطورِ رہن آپؓ کے حوالہ کر دیا، پھر آپؓ نے سیدنا عبداللہ بن حازمؒ کو ہرات کی طرف اور سیدنا حاتم بن نعمانؒ کو مرو کی طرف بھیجا، حضرت ابنِ عامر رضی اللہ عنہما نے کناری کے بیٹے اور بھتیجے کو اپنے ساتھ لیا، اور نعمان بن افقمؒ بصریٰ کی طرف روانہ ہوئے پھر وہاں ان دونوں کو آزاد کر دیا۔

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 306)

سیدنا ابنِ عامر رضی اللہ عنہ نے ابرشہر کے ارد گرد مثلاً طوس، بیورد، نسا، حمران کو فتح کیا یہاں تک کہ سرخس پہنچ گئے، حضرت ابنِ عامر رضی اللہ عنہ نے اسود بن کلثم عدویؒ کو بیہق روانہ کیا جو ابرشہر کے علاقے میں پڑتا تھا ان دونوں کے درمیان سولہ فرسخ کا فاصلہ تھا، انہوں نے اسے فتح کر لیا اور خود اسود بن کلثوم عدویؒ نے جامِ شہادت نوش کر لیا۔ آپؓ بڑے دیندار اور صالح تھے۔ حضرت عبداللہ بن عامر العنزی رضی اللہ عنہ کے اصحاب حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو جب بصرہ سے کوچ کرنا پڑا تو آپؓ کہتے تھے کہ مجھے عراق کی کسی چیز پر اتنا افسوس نہیں جس قدر مجھے ہواجر کی پیاس، مؤذنوں کے جواب اور اسود بن کلثومؒ جیسے دوستوں کا افسوس ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 307)

حضرت ابنِ عامر رضی اللہ عنہ نے نیسا پور پر غلبہ حاصل کیا اور سرخس کا رخ کیا تو مرو والوں نے ان سے مصالحت کا مطالبہ کیا تو سیدنا ابنِ عامر رضی اللہ عنہ نے حاتم بن نعمان باہلیؒ کو ان کے پاس بھیجا انہوں نے مرو کے حاکم براز سے بائیس (22) لاکھ پر مصالحت کر لی۔

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 307)