Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

یزید کی بیعت کرنے نہ کرنے میں روایات متعارض ہیں

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

اعتراض

یزید کی بیعت کرنے نہ کرنے میں دو روایات منقول ہیں، ایک سے ثابت ہوتا ہے کہ آپؓ بیعت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے جب کہ دوسری سے بیعت کے لیے تیار ہونا ثابت ہے، اس لیے دونوں میں تعارض ہے۔

روایت نمبر 1

امام ابو الحسن عز الدین علی بن ابی الکرم محمد بن محمد الشیبانی الجزری ابن الاثیرؒ (ت 630ھ) لکھتے ہیں:

وقد روي عن عقبۃ بن سمعان أنہ قال صحبت الحسين من المدينۃ إلى مكۃ ومن مكۃ إلى العراق ولم أفارقہ حتى قتل، وسمعت جميع مخاطباتہ للناس إلى يوم مقتله، فواللہ ما أعطاهم ما يتذاكر الناس أنہ يضع يده في يد يزيد۔

ترجمہ: حضرت عقبہ بن سمعانؒ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا حسینؓ کے ساتھ مدینہ سے مکہ اور مکہ سے عراق تک مسلسل ساتھ رہا اور ان کی شہادت کے وقت تک ان سے کہیں الگ نہیں ہوا، میں نے یومِ شہادت تک آپؓ کی وہ تمام باتیں سنی ہیں جو آپؓ نے لوگوں سے کیں، اللہ کی قسم یہ بات آپؓ نے لوگوں کے سامنے رکھی ہی نہیں جس کا لوگ ذکر کرتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ یزید کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیں گے اور اس سے بیعت کر لیں گے۔

روایت نمبر 2

امام ابو الحسن عزالدین علی بن ابی الکرم محمد بن محمد الشیبانی الجزری ابن الاثیرؒ (ت 630ھ) روایت نقل کرتے ہیں:

قال له اختاروا مني واحدة من ثلاث إما أن أرجع إلى المكان الذي أقبلت منه، وإما أن أضع يدى في يد يزيد بن معاويۃ فيرى فيما بيني وبينہ رأيہ، وإما أن تسيروا بي إلى أي ثغر من ثغور المسلمين۔

ترجمہ: سیدنا حسینؓ نے عمر بن سعد سے فرمایا کہ آپ لوگ میری طرف سے ان تین چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو اختیار کرلیں:

(الكامل فی التاريخ: جلد 4 صفحہ 54 ذكر مقتل الحسين)

1: میں جہاں سے آیا ہوں مجھے وہاں واپس جانے دیا جائے۔

2: مجھے موقع دیا جائے کہ میں یزید کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دوں وہ اپنے اور میرے درمیان جو فیصلہ چاہے کر لے۔

3: میں اسلام کی سرحدوں میں سے کسی سرحد کی طرف جانا چاہتا ہوں (مجھے جانے دیا جائے تاکہ وہاں اسلام کی حفاظت کر سکوں)۔

مذکورہ بالا دو روایات میں سے پہلی روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت حسینؓ یزید کی بیعت کے لیے تیار نہیں ہوئے تھے جب کہ دوسری روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ تیار ہو گئے تھے، تو دونوں روایتوں میں تعارض ہے۔

جواب:

مذکورہ بالا پہلی روایت اور اس مضمون سے ملتی جلتی تمام وہ روایات جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا حسینؓ یزید کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہوئے تھے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں:

1: مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ اور ابتداء یزید کے ہاتھ پر بغیر مذاکرات، بغیر گفتگو اور بغیر اپنے تحفظات کو دور کیے بیعت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

2: عبیداللہ بن زیاد کے ہاتھ کے واسطہ سے یزید کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

دوسری روایت اور اس سے ملتی جلتی تمام وہ روایات جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت حسینؓ یزید کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کے لیے تیار ہو گئے تھے:

کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ 

یزید سے بالمشافہ بات کر کے۔

اپنے تحفظات دور کر کے۔

اور کچھ شرائط طے کر کے۔

بیعت کرنے کے لیے تیار ہو جاتے۔

لہٰذا دونوں میں کوئی تعارض نہیں۔