حضرت حسینؓ کو عین نبی ماننا
دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓاعتراض
امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورة الترمذیؒ (ت 279ھ) روایت نقل کرتے ہیں:
عن يعلى بن مرةؓ قال: قال رسول اللہﷺ حسين مني وأنا من حسين أحب الله من أحب حسینا۔
ترجمہ: سیدنا یعلیٰ بن مرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت فرماتے ہیں جو حسین سے محبت کرتا ہے (یعنی جو شخص دعویٰ محبت میں عملاً سچا ہو)۔
(جامع الترمذی: رقم الحدیث 3775)
اس حدیث مبارک کو دلیل بنا کر اسے سیدنا حسینؓ کو اللہ کے رسولﷺ کا عین (ایک ہی ذات) قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حسینؓ اور رسول اللہﷺ میں کوئی فرق نہیں، دونوں ایک ہی ذات ہیں۔
جواب نمبر 1
اس جیسی تعبیر کا معنیٰ یہ ہوتا ہے کہ ہمارا راستہ ایک ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں متفق ہیں۔
چنانچہ علامہ محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف النوویؒ (ت 676ھ) لکھتے ہیں:
قوله رسول اللہﷺ (هذا مني وأنا منہ) معناه المبالغۃ في اتحاد طريقتهما، واتفاقهما في طاعۃ اللہ تعالی۔
ترجمہ: آپﷺ کے اس فرمان ”یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں“ کا معنیٰ یہ ہے کہ ہم دونوں کا راستہ ایک ہے اور ہم دونوں اللہ کی اطاعت میں متفق ہیں۔
(شرح مسلم للنووى: جلد 2 صفحہ 295 باب من فضائل جلیبیبؓ)
جواب نمبر 2
اس فرمان کا معنیٰ یہ ہے کہ ہمارا خاندان ایک ہے، ”حسین مجھ سے ہیں“ یعنی میری نسل سے ہیں اور ”میں حسین سے ہوں“ یعنی میں اس کی اصل (آباء میں سے) ہوں۔
جواب نمبر 3
مِنِّی کا لفظ متبعین کے لیے بھی آتا ہے۔
آیت نمبر 1
فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوۡتُ بِالۡجُـنُوۡدِ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبۡتَلِيۡکُمۡ بِنَهَرٍ فَمَنۡ شَرِبَ مِنۡهُ فَلَيۡسَ مِنِّىۡ وَمَنۡ لَّمۡ يَطۡعَمۡهُ فَاِنَّهٗ مِنِّىۡٓ
ترجمہ: جب طالوت (بادشاہ) فوجیں لے کر نکلا اور کہا کہ یقیناً اللہ تعالیٰ ایک نہر کے ذریعے آپ لوگوں کی آزمائش کرنے والا ہے، جس نے اس نہر کا پانی پیا وہ میرا نہیں اور جس نے اسے نہ چکھا یقیناً وہ میرا ہے۔
(سورة البقرة: آیت 249)
آیت نمبر 2:
رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضۡلَلۡنَ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ فَمَنۡ تَبِعَنِىۡ فَاِنَّهٗ مِنِّىۡ وَمَنۡ عَصَانِىۡ فَاِنَّكَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ
(سورۃ ابراہیم: آیت 36)
ترجمہ: (حضرت ابراہیمؑ فرماتے ہیں کہ) اے میرے پروردگار انہی بتوں نے بہت سارے لوگوں کو گمراہ کر رکھا ہے (یعنی گمراہی کا سبب بنے ہوئے ہیں) جو میری بات مانے گا تو وہ مجھ سے ہے اور جو میری نافرمانی کرے گا (اس کا معاملہ آپ کے سپرد ہے چاہیں تو عذاب دیں چاہیں تو انہیں ہدایت کی توفیق دے دیں اور آپ سے امید یہی ہے کہ آپ انہیں ہدایت کی توفیق عطا فرمائیں گے کیونکہ) آپ بہت زیادہ بخشنے والے ہیں (بخشنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ) بہت زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔
فائدہ: مذکورہ آیت کا معنیٰ یہ نہیں کہ میرے متبعین اور میں ایک ہی ذات بن گئے ہیں بلکہ معنیٰ یہ ہے کہ میری بات ماننے والے اور میری اتباع کرنے والے ہیں۔
جواب نمبر 4
اسی طرح کے الفاظ سیدنا حسینؓ کے علاوہ باقی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے بھی ملتے ہیں، تو کیا انہیں بھی اللہ کے نبیﷺ کا عین (ایک ہی ذات) قرار دیا جائے گا؟ چند حوالہ جات پیش کیے جاتے ہیں:
1: حضرت علیؓ
امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہؓ (ت 273ھ) روایت نقل کرتے ہیں:
عن حبشي بن جنادۃؓ قال سمعت رسول اللہﷺ يقول علي مني وأنا منہ۔
ترجمہ: سیدنا حبشی بن جنادہؓ سے مروی ہے کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔
(سنن ابن ماجہ: رقم الحدیث 119)
2: حضرت عباسؓ
امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورة الترمذیؒ (ت 279ھ) روایت کرتے ہیں:
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول اللہﷺ العباس مني وأنا منہ۔
(ترجمہ: سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: عباس مجھ سے ہے اور میں عباس سے ہوں۔
(جامع الترمذی: رقم الحديث 3759)
3: حضرت جلیبیبؓ
امام مسلم بن حجاج القشیری النیشابوریؒ (ت 261ھ) روایت نقل کرتے ہیں:
عن أبي برزةؓ أن النبي ﷺ، كان في مغزى له، فأفاء اللہ عليه فقال لأصحابه هل تفقدون من أحد قالوا نعم، فلانا، وفلانا، وفلانا ثم قال هل تفقدون من أحد قالوا نعم، فلانا، وفلانا، وفلانا، ثم قال هل تفقدون من أحد قالوا لا، قال لكني أفقد جليبيبا، فاطلبوه فطلب في القتلى، فوجدوه إلى جنب سبعۃ قد قتلهم، ثم قتلوه، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فوقف عليہ، فقال قتل سبعة، ثم قتلوه، هذا مني وأنا منہ، هذا مني وأنا منہ۔
ترجمہ: سیدنا ابو برزہؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبیﷺ ایک غزوہ میں شریک تھے، اللہ تعالیٰ نے اس غزوہ میں آپﷺ کو مال عطا فرمایا آپﷺ نے اپنے صحابہ کرامؓ سے فرمایا کیا تم لوگ اپنے میں سے کسی کو غائب تو نہیں پاتے، انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں فلاں فلاں فلاں شخص غائب ہیں، آپﷺ نے پوچھا کہ (ان کے علاوہ) کوئی اور تو غائب نہیں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پھر جائزہ لیا تو مذکورہ لوگوں کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی غائب تھے) انہوں نے جواب دیا کہ فلاں فلاں فلاں غائب ہیں، آپﷺ نے پوچھا کہ (ان کے علاوہ) کوئی اور تو غائب نہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ نہیں آپﷺ نے فرمایا کہ مجھے جلیبیب نظر نہیں آرہا، انہیں تلاش کرو چنانچہ انہیں مقتولین کے اندر تلاش کیا گیا تو ان کی لاش کو (کفار کی) سات لاشوں کے پاس پایا، جنہیں حضرت جلیبیبؓ نے قتل کر دیا تھا، ان سات کو قتل کر کے خود بھی شہید ہوچکے تھے، اللہ کے نبیﷺ ان کے قریب تشریف لائے اور وہاں کھڑے ہو کر فرمایا اس (جلیبیب رضی اللہ عنہ) نے سات (کافروں) کو قتل کیا، پھر کفار نے انہیں شہید کر دیا یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔
(صحیح مسلم: رقم الحدیث 2472)
4: یمنی اشعریین
امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل البخاریؒ (ت 256ھ) روایت نقل کرتے ہیں:
قال أبو موسیٰؓ عن النبيﷺ هم مني وأنا منهم۔
ترجمہ: سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے ان (اشعریین اور اہلِ یمن) کے بارے میں فرمایا وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔
(صحیح البخاری: کتاب المغازى، بَابِ قُدُومِ الْأَشْعَرِيِّينَ وَأَهْلِ الْيَمَنِ)
امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل البخاریؒ (ت 256ھ) روایت نقل کرتے ہیں:
عن أبي موسىٰؓ قال: قال النبيﷺ إن الأشعريين إذا أرملوا في الغزو أو قل طعام عيالهم بالمدينۃ جمعوا ما كان عندهم في ثوب واحد ثم اقتسموه بينهم في إناء واحد بالسوية فهم مني وأنا منهم۔
ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا جب قبیلہ اشعر کے لوگ جہاد میں (مشغولیت کی وجہ سے کچھ کما نہیں سکتے اور) ضرورت مند بن جاتے ہیں، یا مدینہ منورہ میں ان کے اہل و عیال کے پاس کھانا کم رہ جاتا ہے تو سب لوگ اپنا اپنا موجودہ کھانے پینے کا سامان ایک کپڑے میں اکٹھا کر لیتے ہیں پھر آپس میں ایک پیمانے سے برابر تقسیم کر لیتے ہیں (ان کے اس جذبہ خیر خواہی اور بوقت حاجت مساوات والے عمل سے میں اتنا خوش ہوں کہ) وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔
(صحیح البخاری: رقم الحدیث 2486)