یزید بن معاویہ کا قتل
علی محمد الصلابیسیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اہلِ کوفہ کئی سال تک بلنجر پر حملہ کرتے رہے، نہ تو کوئی عورت ان کی بیوہ ہوئی اور نہ ان حملوں کی وجہ سے کوئی بچہ یتیم ہوا، یہاں تک کہ خلافتِ عثمانی کے نویں سال حملہ سے دو روز قبل یزید بن معاویہ نے خواب دیکھا کہ ایک انتہائی خوبصورت ہرن ان کے خیمے کے پاس لایا گیا، ایسا خوبصورت ہرن انہوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا، انہوں نے اس کو اپنے لحاف میں لپیٹ لیا، پھر ایک قبر لائی گئی اس پر چار افراد کھڑے تھے ایسی خوبصورت اور سیدھی قبر کبھی دیکھی نہیں گئی، پھر اس ہرن کو اس میں دفن کر دیا گیا۔
جب ترکوں پر لوگوں نے حملہ کیا تو ایک پتھر آ کر یزید کو لگا جس سے ان کا سر پھٹ گیا، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ان کے کپڑے خون سے آلودہ ہونے کے بجائے مزین ہو گئے ہیں، خود ہی وہ ہرن تھے جس کو خواب میں دیکھا تھا۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 310)
یزید بڑے نرم مزاج اور خوبصورت تھے، یہ خبر جب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو فرمایا: انا للہ و انا الیہ راجعون۔ کوفہ والے شکست خوردہ ہو گئے، اللہ ان کو معاف فرمائے اور فتح نصیب فرمائے۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 311)