Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

واقعہ کربلا پیش نہیں آیا

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

اعتراض

حافظ عمادالدین ابوالفداء اسماعیل بن خطیب ابی حفص عمر بن کثیر دمشقی شافعیؒ (ت 774ھ) لکھتے ہیں:

فخرج متوجها إليهم في أهل بيتہ وستين شخصا من أهل الكوفة صحبتہ وذلك يوم الاثنين في عشر ذي الحجۃ۔

ترجمہ: سیدنا حسینؓ اپنے اہلِ بیت اور کوفہ کے ساٹھ افراد سمیت دس ذوالحجہ کو ان (اہلِ عراق) کی طرف روانہ ہوئے۔

(البدايہ والنہايہ لابن کثیر: جلد 4 صفحہ 561 صفۃ مخرج الحسين الى العراق

بعض لوگوں نے اس عبارت کی بنیاد پر کربلا کی ایک نئی صورت پیش کرنے کی کوشش کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ سیدنا حسینؓ اور یزید میں کوئی اختلاف نہ تھا، کربلا میں جنگ نہیں ہوئی تھی بلکہ (بقول معترضین کے) اصل واقعہ یہ ہے مکہ سے حضرت حسینؓ کے ساتھ ساتھ کوفی چلے تھے، کوفہ کے قریب حضرت حسینؓ نے مخالف حالات دیکھ کر واپسی کا ارادہ کیا تو انہی کوفیوں نے اصرار کر کے آپؓ کا ارادہ تبدیل کروا دیا، پھر آپؓ دمشق کی طرف چلے تو یہی کوفی تھے جنہوں نے اپنا راز ظاہر ہو جانے کے ڈر سے آپؓ پر کربلا میں اچانک حملہ کر کے شہید کیا، عبیداللہ بن زیاد کی بھیجی گئی سرکاری فوج آپؓ کی حفاظت کے لیے کچھ فاصلے پر کھڑی تھی، ان حفاظتی فوج کے پہنچتے پہنچتے آپؓ شہید ہو گئے، یزید اور عمر بن سعد وغیرہ کا اس واقعہ میں کوئی عمل دخل نہیں تھا اور نہ ہی جو واقعہ مشہور ہے کربلا کا وہ پیش آیا تھا۔ 

جواب نمبر 1

حافظ عماد الدین ابو الفداء اسماعیل بن خطیب ابی حفص عمر بن کثیر دمشقی شافعیؒ (ت 774ھ) نے یہ روایت بغیر سند کے نقل کی ہے، تو ایسی بلا سند روایت جو معتبر تاریخی اسناد کے خلاف ہو کیسے معتبر ہو سکتی ہے؟ نیز آپؓ ساتویں ہجری کے مؤرخ ہیں اور آپ سے پہلے کسی بھی مؤرخ و محدث نے اس طرح کی یا اس مضمون کی موید روایت نقل نہیں کی۔

جواب نمبر 2

واقعہ کربلا کی یہ نئی شکل محض قیاسی ہے جس کا حقیقت کے ساتھ بالکل تعلق نہیں ہے، کیونکہ سیدنا حسینؓ اور یزید کا اختلاف اور عمر بن سعد کی کمان میں جانے والی سرکاری فوج کے ہاتھوں آپؓ کی شہادت مشہور تاریخی روایات سے ثابت ہے جنہیں اکثر مورخین نے بڑی تفصیل کے ساتھ اپنی کتب میں نقل کیا ہے اور مکہ سے ساٹھ کوفیوں کے ساتھ چلنا ایک افسانہ ہی ہے، نہ کہ حقیقت، صحیح تو کیا کوئی ضعیف سے ضعیف روایت بھی واقعہ کربلا کو اس انداز میں ثابت نہیں کرتی۔

چند روایات پیش کی جاتی ہیں:

1: امام ابوالحسن ابن الاثیرؒ (ت 630ھ) روایت نقل کرتے ہیں:

فحملوا عليہ من كل جانب، فضرب زرعۃ بن شريك التميمي على كفہ اليسرى وضرب أيضا على عاتقہ ثم انصرفوا عنہ وهو يقوم ويكبو، وحمل عليہ في تلك الحال سنان بن أنس النخعي فطعنہ بالرمح فوقع، وقال لخولي بن يزيد الأصبحي: احتز رأسہ، فأراد أن يفعل فضعف وأرعد، فقال له سنان: فن اللہ عضدك ونزل إليہ فذبحه واحتز رأسه فدفعہ إلى خولي۔

ترجمہ: اس کے بعد آپؓ پر ہر طرف سے حملہ ہوا، زرعہ بن شریک تمیمی نے آپؓ کے بائیں ہاتھ پر وار کیا اور اس نے آپؓ کے کندھے پر بھی حملہ کیا، اس کے بعد سب لوگ ہٹ کر ایک طرف ہو گئے، آپؓ اٹھنے کی کوشش کرتے لیکن اٹھ نہیں سکتے تھے، اسی حالت میں تھے کہ سنان بن انس نخعی نے آپؓ پر نیزے سے وار کیا اور آپ گر گئے، اس نے خولی بن یزید اصبحی کو کہا اس کا سر کاٹ دو اس نے سر کاٹنے کا ارادہ کیا لیکن اس کا ہاتھ کانپنے لگا اور وہ سر نہ کاٹ سکا، سنان بن انس نے اس سے کہا کہ اللہ تیرے بازو کو توڑ دے یہ کہا اور گھوڑے سے نیچے آپؓ کی طرف آیا آپؓ کا سر گردن سے الگ کر دیا اور خولی کی طرف پھینک دیا۔

(الكامل فی التاريخ: جلد 4 صفحہ 78 ذکر مقتل الحسينؓ)

2: امام ابو الحسن عزالدین علی بن ابی الکرم محمد بن محمد الشیبانی الجزری ابن الاثیرؒ(ت 630ھ) روایت نقل کرتے ہیں:

وكان عدة من قتل من أصحاب الحسين اثنين وسبعين رجلا ودفن الحسين وأصحابہ أهل الغاضريۃ من بني أسد بعد قتلهم بيوم وقتل من أصحاب عمر بن سعد ثمانية وثمانون رجلا سوى الجرحى فصلى عليهم عمر ودفنهم۔

ترجمہ: میدان کربلا میں قافلہ حسینی کے شہداء کی تعداد بہتر 72 تھی، سیدنا حسینؓ اور آپؓ کے قافلہ کے شہداء کو قبیلہ بنو اسد کی شاخ اہلِ غاضریہ نے ایک دن کے بعد دفن کیا جب کہ عمر بن سعد کی فوج کے زخمیوں کے علاوہ اٹھاسی 88 افراد مارے گئے، ان کی نماز جنازہ عمر بن سعد نے پڑھائی اور انہیں دفن کر دیا۔

(الكامل فی التاريخ: جلد 4 صفحہ 80 ذكر مقتل الحسين)