Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حسینؓ جنگ قسطنطنیہ میں شہید ہوگئے تھے

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

اعتراض

حافظ عمادالدین اسماعیل بن خطیب ابی حفص عمر بن کثیر دمشقی شافعیؒ (ت 774ھ) لکھتے ہیں:

ولما توفي الحسن كان الحسين يفد إلى معاويۃ في كل عام فيعطيہ ويكرمہ، وقد كان في الجيش الذين غزوا القسطنطنيۃ مع ابن معاويۃ يزيد في سنۃ إحدى وخمسين۔

ترجمہ: جب سیدنا حسنؓ کا انتقال ہوا تو سیدنا حسینؓ ہر سال سیدنا امیر معاویہؓ کی خدمت میں آیا کرتے تھے، سیدنا معاویہؓ اُن کا اکرام کرتے، اور آپؓ اس لشکر میں بھی موجود تھے جس لشکر نے جنگ قسطنطنیہ میں یزید بن معاویہ کے ساتھ سن 51ھ میں جنگ کی۔

(البدايہ والنہايہ لابن کثیر: جلد 4 صفحہ 546، قصۃ الحسين بن علی و سبب خروجہ من مكۃ)

اس عبارت کو بنیاد بنا کر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ سیدنا حسینؓ جنگ قسطنطنیہ میں شریک ہوئے اور اسی جنگ میں شہید ہوگئے تھے، جنگ قسطنطنيہ سن 51 ہجری میں ہوئی، اور واقعہ کربلا (بقول معترض کے) جو ایک افسانہ پیش کیا جاتا ہے وہ سن 61 ہجری میں ہے، لہٰذا سیدنا حسینؓ کا اس وقت زندہ ہونا بھی ثابت نہیں تو واقعہ کربلا میں شرکت کیسے ثابت ہوگی؟

جواب نمبر 1

حافظ عمادالدین اسماعیل بن خطیب ابی حفص عمر بن کثیر دمشقی شافعیؒ (ت 774ھ) نے یہ روایت بغیر سند کے نقل کی ہے اور بلا سند روایت قابلِ اعتبار نہیں۔

جواب نمبر 2

کسی بھی معتبر روایت سے سیدنا حسینؓ کی جنگ قسطنطنیہ میں شرکت ثابت نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ سے پہلے سات صدیوں کے مؤرخین و محدثین میں سے کسی نے بھی اس طرح کی روایت نقل نہیں کی۔

جواب نمبر 3

بالفرض سیدنا حسینؓ کا جنگ قسطنطنیہ میں شریک ہونا ثابت ہو بھی جائے تو جنگ میں شہید ہونا کیسے ثابت ہوا؟