روافض مرتد ہیں
نویں صدی ہجری کے علامہ بزازی رحمۃ اللہ کا فتویٰ
روافض مرتد ہیں اور ان سے مرتدین کا معاملہ رکھنا ضروری ہے:
علامہ بزازی رحمۃ اللہ نے روافض کو مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر کافر کہا ہے:
پہلی وجہ: روافض اس عقیدے کے قائل ہیں کہ انسان مرنے کے بعد دوبارہ ایک دوسری جنم میں دنیا کو واپس لوٹ سکتا ہے۔
دوسرى وجہ: روافض دوسرے مذاہب باطلہ کی طرح عقیدہ تناسخ کے بھی قائل ہیں۔ عقیدہ تناسخ کا مطلب یہ ہے کہ انسان پر موت واقع ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے اس کا جسم ختم ہو جاتا ہے لیکن اس کی روح ہمیشہ کے لئے زندہ رہتی ہے، جو دوبارہ کسی انسانی یا حیوانی شکل میں آ کر اپنے نیک یا بد اعمال کی سزا بھگتی ہے۔
تیسری وجہ: معبود کی روح اللہ تعالیٰ جل شانہ سے نکل کر امام وقت میں منتقل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے امام کو خدائی کا درجہ مل جاتا ہے اور پھر اسے امر و نہی اور مکمل تشریح کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔
چوتهی وجہ: اماموں کا یہ سلسلہ موقوف ہو چکا ہے، یہ ترتیب دوبارہ پھر قیامت کے قریب شروع ہو جائے گی، لہٰذا تب تک کے لئے امر و نہی کا اختیار بند ہے۔
پانچویں وجہ: قرآن کریم کے نزول اور حضرت جبرئیل علیہ السلام کے بارے میں ان کا خیال یہ ہے کہ وحی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جگہ حضرت محمدﷺ پر غلطی سے اُتاری گئی، وحی کے اصل مستحق (نعوذباللہ) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ تھے۔
چھٹی وجہ: خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت کا انکار کرتے ہیں۔
ان وجوہات کی وجہ سے روافض مرتد ہیں اور ان سے مرتدین کا معاملہ رکھنا ضروری ہے۔ (مذاہبِ اربعہؒ میں توہین رسالت اور توہين صحابہؓ كاتحقیقی جائزه: صفحہ 226)