صحابہ کرامؓ کا حسینؓ کو کربلا میں تنہا چھوڑنا
دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓاعتراض
سیدنا حسینؓ پر ایک یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ کربلا میں آپؓ اپنے خاندان کے ساتھ تھے، صحابہ کرامؓ، آپؓ کے ساتھ شریک نہیں تھے، تو کیا صحابہ کرامؓ آپؓ کو باطل پر سمجھتے تھے یا صحابہ کرامؓ کے ساتھ آپؓ کی دشمنی تھی؟
جواب نمبر 1:
سیدنا حسینؓ جنگ کے ارادہ سے نکلے ہی نہیں تھے بلکہ آپؓ کو کوفیوں نے بلایا تھا کہ آپؓ آ جائیں، ہم آپؓ کا ساتھ دیں گے، اس بنیاد پر آپؓ نکلے تھے۔
چنانچہ علامہ تقی الدین ابوالعباس احمد بن عبد الحلیم بن عبد السلام بن تیمیہ الحرانی الحنبلیؒ (ت 728ھ) لکھتے ہیں:
والحسينؓ ما خرج مقاتلا، ولكن ظن أن الناس يطيعونہ، فلما رأى انصرافهم عنہ، طلب الرجوع إلى وطنہ، أو الذهاب إلى الثغر، أو إتيان يزيد، فلم يمكنہ أولئك الظلمۃ لا من هذا ولا من هذا ولا من هذا وطلبوا أن يأخذوه أسيرا إلى يزيد، فامتنع من ذلك وقاتل حتىٰ قتل مظلوما شهيدا، لم يكن قصده ابتداء أن يقاتل۔
ترجمہ: سیدنا حسینؓ جنگ کے ارادے سے نکلے ہی نہیں تھے بلکہ ان کا تو خیال یہ تھا کہ لوگ ان کی اطاعت کریں گے، لہٰذا جب لوگوں نے ان کے ساتھ غداری کی تو حضرت حسینؓ نے ان کے سامنے تین باتیں رکھیں۔
1. مجھے واپس اپنے وطن جانے دیا جائے۔
2. یا مجھے اسلامی سرحدوں پر بھیج دیا جائے۔
3. یا مجھے براہِ راست یزید کے پاس جانے دیا جائے۔
ان ظالموں نے کوئی بات بھی تسلیم نہیں کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ ان کو قیدی بنا کر یزید کے پاس پہنچایا جائے گا، تو اس نا گفتہ بہ صورتحال سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے کھلے طور پر انکار کر دیا اور جنگ کی یہاں تک کہ ظلماً شہید کر دیے گئے حالانکہ شروع میں آپؓ کا جنگ کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
(منہاج السنہ النبويہ: جلد 2 صفحہ 173)
تو حضرت حسینؓ جنگ کے ارادے سے نکلے ہی نہیں اس لیے صحابہ کرامؓ آپؓ کے ساتھ نہیں چلے۔
جواب نمبر 2:
سیدنا حسینؓ نے جب کوفہ کی طرف سفر کا ارادہ کیا تو اس موقع پر صحابہ کرامؓ کا ان کو مشورہ تھا کہ آپؓ نہ جائیں، تو جب صحابہ کرامؓ ان کو جانے سے روک رہے تھے اور ان کے کوفہ جانے کے حق میں نہیں تھے اس لیے خود ان کے ساتھ کیسے جاتے؟
عبد اللہ بن عباسؓ کا مشورہ
حافظ عمادالدین ابو الفداء اسماعیل بن خطیب عمر بن کثیر الدمشقیؒ (ت 774ھ) روایت فرماتے ہیں:
عن ابن عباسؓ قال: استشارني الحسين بن علیؓ في الخروج فقلت لولا أن يزري بي وبك الناس لشبثت يدى في رأسك فلم أتر كل تذهب، فكان الذي رد على أن قال: لأن أقتل في مكان كذا وكذا أحب إلي من أن أقتل بمكۃ قال فكان هذا الذي سلي نفسي عنہ۔
ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ سیدنا حسین بن علیؓ نے مجھ سے اپنی روانگی سے متعلق مشورہ لیا، میں نے کہا کہ اگر لوگ میرے اور آپ کے بارے میں بدگوئی نہ کریں تو میں اپنا ہاتھ آپ کے سر میں پیوست کر دوں اور آپ کو نہ جانے دوں، تو آپؓ نے مجھے جواب دیا کہ فلاں فلاں مقام پر قتل ہو جانا مجھے مکہ میں قتل ہو جانے سے زیادہ محبوب ہے، سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ کے اس جواب سے میرے دل کو تسلی ہوئی۔
(البدايہ والنہايہ لابن كثير: جلد 4 صفحہ 555 صفہ مخرج الحسين الى العراق)
عبد اللہ بن عمرؓ کا مشورہ
حافظ عمادالدین ابوالفداء اسماعیل بن خطیب عمر بن کثیر الدمشقیؒ (ت 774ھ) روایت فرماتے ہیں:
عن الشعبي يحدث عن ابن عمر أنہ كان بمكة فبلغه أن الحسين بن على قد توجہ إلى العراق فلحقہ على مسيرة ثلاث ليال، فقال: أين تريد؟ قال العراق وإذا معہ طوامير وكتب فقال هذه كتبهم وبيعتهم فقال لا تأتهم فأبي فقال ابن عمر إني محدثك حديثا، إن جبريل أتى النبيﷺ فخيره بين الدنيا والآخرة فاختار الآخرة ولم يرد الدنيا وإنك بضعة من رسول اللہﷺ، واللہ ما يليها أحد منكم أبدا وما صرفها اللہ عنكم إلا للذي هو خير لكم، فأبي أن يرجع قال فاعتنقہ ابن عمر وبكى وقال: أستودعك اللہ من قتيل۔
(البدايہ والنہايہ لابن كثير: جلد 4 صفحہ 556 صفہ مخرج الحسينؓ العراق)
ترجمہ: امام شعبیؒ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ وہ مکہ مکرمہ میں تھے، جب انہیں معلوم ہوا کہ سیدنا حسین بن علیؓ عراق کی طرف روانہ ہو گئے ہیں، تو وہ تین دن کی مسافت پر آپؓ سے آ کر ملے اور پوچھا کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ سیدنا حسین بن علیؓ نے فرمایا کہ عراق آپؓ کے پاس (کوفیوں کے لمبے لمبے اور جھوٹے) خطوط بھی تھے، ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ان کے خطوط ہیں اور یہ ان کی طرف سے بیعت (کی یقین دہانی) سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے کہا کہ آپ ان کے پاس نہ جائیں لیکن سیدنا حسینؓ نے آپ کی رائے کو قبول نہ کیا، تو سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ میں آپ کو ایک حدیث سناتا ہوں، حضرت جبرئیلؑ ایک دن اللہ کے نبیﷺ کے پاس آئے اور (بحکمِ خدا) آپﷺ کو دنیا یا پھر آخرت میں رہنے کا اختیار دیا، آپﷺ نے آخرت کو اختیار کر لیا اور دنیا میں رہنے کا ارادہ ترک فرما دیا، اے حسین بن علیؓ آپ تو اللہ کے رسولﷺ کے جگر گوشے ہیں اور اللہ کی قسم آپ میں کوئی شخص کبھی دنیا کا حکمران نہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا سے ہٹا کر اس چیز کی طرف پھیر دیا ہے جو آپ کے حق میں بہتر ہے، سیدنا حسینؓ نے واپس پلٹ جانے سے یکسر انکار کیا، راوی فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ نے آپ کو گلے لگایا، زار و قطار رو دیے اور فرمایا شہادت کے راستے پر جانے والے میں آپ کو اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔
فائده: مخلص احباب آپؓ کو محبت کی بنیاد پر کوفہ جانے سے روکتے رہے مگر آپؓ اپنی خلوص نیت کی بنیاد پر یہ سمجھتے تھے کہ میرے جانے سے وہاں کے لوگوں کا فائدہ ہو گا، اس لیے ان کے مشوروں کے باوجود بھی کوفہ تشریف لے گئے۔