Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

آل سلمان صبر کرو

  علی محمد الصلابی

دوسری روایت میں ہے کہ جب حضرت عبدالرحمٰن بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے جامِ شہادت نوش کر لیا تو ان کے بھائی حضرت سلمان بن ربیعہ باہلی رضی اللہ عنہ نے پرچم سنبھالا اور جم کر قتال کیا، ایک آواز دینے والے نے آواز دی: آلِ سلمان صبر کرو۔ یہ آواز سن کر سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا بے صبری دیکھ رہے ہو۔ پھر بعد ازیں کہ اپنے بھائی سیدنا عبدالرحمٰن بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو بلنجر کے مضافات میں دفن کیا،

(معجم البلدان: جلد، 2 صفحہ، 278) 

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ باقی ماندہ فوج لے کر میدانِ قتال سے نکلتے ہوئے جیلان کے علاقہ سے ہوتے ہوئے جرجان پہنچ گئے۔

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 309 قادۃ الفتح الاسلامی فی أرمینیۃ: صفحہ، 151)

اور اس طرح پیچھے سے نکل کر بھائی کی باقی ماندہ فوج کو بچا لیا۔

(قادۃ الفتح الاسلامی فی ارمینیۃ: صفحہ، 151)

محمود شیت خطاب نے اس روایت کو راجح قرار دیا ہے۔ فرماتے ہیں: اس دن قتال کرنے سے پیچھے نکل جانا زیادہ بہتر تھا، کیوں کہ یہ دشمن کی طرف سے شدید دباؤ اور بڑے جانی نقصان کی صورت میں ہوا، اور انسحاب اس مقصد سے ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر پوری تیاری سے دوبارہ دشمن پر حملہ کیا جائے۔ سیدنا سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے حکم پر اپنے بھائی حضرت عبدالرحمٰن بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کی مدد کے لیے پہنچے تھے، لہٰذا یہ معقول بات نہیں ہے کہ وہ باب میں باقی رہیں، اور یہ بھی معقول نہیں ہے کہ ان کے بھائی سیدنا عبدالرحمنؓ دشمن کے ساتھ سخت گھمسان کی جنگ لڑ رہے ہوں اور وہ ان کو اس حالت میں چھوڑ دیں، جب کہ جرنیل کو ایک ایک سپاہی کی شدید ضرورت ہوتی ہے، تو بھلا اس حال میں کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اس لشکر کو چھوڑ دیں جس کا قائد ان کا بھائی ہو اور اس سے استفادہ نہ کریں؟

قدیم مؤرخین ہزیمت کو ’’انسحاب‘‘ کے معنیٰ میں استعمال کرتے تھے، کیوں کہ ان کی اکثریت مدنی تھی، ان دونوں تعبیروں میں وہ تفریق نہیں کرتے تھے۔ حالاں کہ ہزیمت بغیر کسی نظام و قیادت کے میدانِ قتال کو چھوڑ دینے کو کہتے ہیں جو محض ایک حادثہ ہے، جب کہ انسحاب میدانِ قتال کو متعین و منظم منصوبہ کے مطابق ایک قیادت کے تحت چھوڑنے کو کہتے ہیں، انسحاب بھی قتال کا ایک طریقہ ہے اس کا مقصد معرکہ کے تقاضے کے مطابق تیاری کی تکمیل کے بعد دشمن پر دوبارہ حملہ آور ہونا ہوتا ہے۔ امید ہے کہ جدید مؤرخین تعبیر کی اس غلطی کا شکار نہ ہوں گے کہ وہ ہزیمت و انسحاب میں تفریق نہ کریں، کیوں کہ دونوں میں بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ 

(قادۃ الفتح الاسلامی فی أرمینیۃ: صفحہ، 152 153)