اہلِ السنۃ والجماعۃ شہادت حسینؓ پر ماتم کیوں نہیں کرتے؟
دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓاعتراض
امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل البخاریؒ (ت 256ھ) روایت نقل کرتے ہیں:
عن أنس بن مالكؓ قال دخلنا مع رسول اللہﷺ على أبي سيف القين وكان ظںرا لإبراهيم فأخذ رسول اللہﷺ إبراهيم فقبلہ وشمہ ثم دخلنا عليہ بعد ذلك وإبراهيم يجود بنفسه فجعلت عينا رسول اللہﷺ تذر فان فقال له عبد الرحمٰن بن عوفؓ: وأنت يا رسول اللہ؟ فقال: يا ابن عوف إنها رحمۃ ثم أتبعها بأخرى فقال رسول اللہﷺ إن العين تدمع والقلب يحزن ولا نقول إلا ما يرضى ربنا وإنا بفراقك يا إبراهيم لمحزونون۔
(ترجمہ: سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ابو سیف لوہار کے پاس گئے، یہ ابراہیمؓ (جو نبی اکرمﷺ کے صاحبزادے ہیں) کو دودھ پلانے والی کے خاوند تھے، نبی کریمﷺ نے حضرت ابراہیمؓ کو گود میں لیا، پیار کیا اور سونگھا، پھر اس کے بعد دوبارہ ہم ان کے پاس گئے، دیکھا کہ اس وقت حضرت ابراہیمؓ کی روح قبض ہو رہی ہے، رسول اللہﷺ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں، تو سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے عرض کیا: کہ یا رسول اللہﷺ آپﷺ بھی اور لوگوں کی طرح آنسو بہاتے ہیں؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اے ابن عوف یہ تو رحمت ہے، پھر آپﷺ دوبارہ روئے اور فرمایا آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے، لیکن پھر بھی ہم زبان سے وہی بات کہیں گے جو ہمارے رب کو پسند ہے، اے ابراہیم ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں۔
(صحیح البخاری: رقم الحديث 1303)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مصیبت پر رونا چاہیے، ظاہر ہے سیدنا حسینؓ کی شہادت مظلومانہ ہے، کتنی بڑی مصیبت ہے تو اس پر ماتم کرنا چاہیے اور اپنے غم کا اظہار کر کے ان کے ساتھ اظہارِ محبت کرنا چاہیے جب کہ اہلِ السنۃ والجماعۃ کی طرف سے ماتم نہیں کیا جاتا۔
جواب:
ایک ہوتا ہے صدمہ پر طبعی غم، اس غم کا رونے سے اظہار کرنا اور بوقت غم آنسووں کا خود بخود نکلنا، یہ جائز ہے اور حدیث بالا سے یہی ثابت ہے۔
ایک ہے سال بھر پرسکون رہنا اور محرم کے آجانے پر قصداً رونا، ماتم کرنا، سیاہ لباس پہننا، نوحہ کرنا، زنجیر زنی کرنا، بیڑیاں پہننا، چہرہ پیٹنا اور واویلا کرنا یہ سب امور اہلِ اسلام کے ہاں ناجائز ہیں، ان کا ناجائز ہونا کتب اہلِ سنت اور کتب اہلِ تشیع دونوں سے ثابت ہے، چنانچہ ذیل میں دلائل پیش کیے جاتے ہیں۔
كتب اہل السنۃ والجماعۃ:
1: امام ابوعبداللہ احمد بن حنبل البغدادیؒ (ت 241ھ) روایت نقل کرتے ہیں:
عن ابن عباسؓ قال لما ماتت زينب ابنۃ رسول اللہﷺ فبكت النساء فجعل عمر يضربهن بسوطہ فأخذ رسول اللہﷺ بيده وقال: مهلا يا عمر ثم قال: ابكين وإياكن ونعيق الشيطان ثم قال: انہ مهما كان من العين والقلب فمن اللہ عز وجل ومن الرحمۃ وما كان من اليد والنسان فمن الشيطان۔
ترجمہ: سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینبؓ کا انتقال ہوا تو عورتوں نے رونا شروع کر دیا، سیدنا عمرؓ ان کو کوڑے سے مارنے لگے جس پر حضورﷺ نے سیدنا عمرؓ کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا کہ ان کو چھوڑ دو، پھر نبی کریمﷺ نے ان عورتوں سے فرمایا کہ تم رو لو لیکن شیطانی آواز مت نکالو، پھر فرمایا جو رونا آنکھ اور دل سے ہو وہ جائز ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، اور جو ہاتھ اور زبان سے ہو وہ شیطانی فعل ہے۔
(مسند احمد: جلد 2 صفحہ 530، رقم الحدیث 2127)
2: امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل البخاریؒ (ت 256ھ) روایت نقل کرتے ہیں:
عن عبد عبداللہ عن النبيﷺ قال: ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهليۃ۔
ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو آدمی رخسار پیٹے، گریبان چاک کرے اور زمانہ جاہلیت کی سی باتیں کرے وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے (یعنی ہماری شریعت کے طریقے پر نہیں ہے)
(صحیح البخاری: رقم الحدیث 1297)
امام مسلم بن حجاج القشیریؒ (ت 261ھ) روایت نقل کرتے ہیں:
عن أبي مالك الأشعري أن النبيﷺ قال: أربع في أمتي من أمر الجاهليۃ لا يتركونهن الفخر في الأحساب والطعن في الأنساب والإستسقاء بالنجوم والنياحۃ وقال: النائحۃ إذا لم تتب قبل موتها تقام يوم القيامۃ وعليها سربال من قطران ودرع من جرب۔
ترجمہ: سیدنا ابو مالک اشعریؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میری امت میں جاہلیت کی چار خصلتیں ایسی ہیں جنہیں وہ نہیں چھوڑیں گے،
1: حسب پر فخر کرنا
2: نسب پر طعن کرنا
3: ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا
4: نوحہ کرنا
(صحیح مسلم: رقم الحدیث 934)
پھر آپﷺ نے فرمایا: نوحہ کرنے والی اگر موت سے پہلے پہلے توبہ نہ کر لے تو قیامت کے دن اس پر گندھک کی قمیص ہو گی اور خارش کا کرتہ ہوگا۔
3: امام ابو الحسن عزالدین علی بن ابی الکرم محمد بن محمد الشیبانی الجزری ابن الاثیرؒ (ت 630ھ) روایت نقل کرتے ہیں:
يا أخية إني أقسم عليك لا تشقي على جيبا، ولا تخمشي على وجها ولا تدعى على بالويل والنبور إن أنا هلكت۔
ترجمہ: (سیدنا حسینؓ نے اپنی بہن سیدہ زینب بنت علیؓ کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا) میری بہن میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ میری وجہ سے تم اپنے کپڑے نہ پھاڑنا، اپنا چہرہ نہ نوچنا اور میری شہادت کی خبر سن کر مجھ پر آہ و زاری نہ کرنا۔
(الكامل فی التاريخ: جلد 4 صفحہ 59 ذکر مقتل الحسین)
کتب اہلِ تشیع:
1: (شیعہ مصنف) ابو جعفر محمد بن یعقوب بن اسحاق کلینی رازی (ت 328ھ) روایت نقل کرتا ہے:
إن رسول اللہﷺ قال لفاطمۃ عليها السلام: إذا أنا من فلا تخمشي على وجها ولا تنشرى على شعرا ولا تنادي بالويل ولا تقيمي على نائحۃ۔
ترجمہ: رسول اللہﷺ نے بوقت وفات سیدہ فاطمہؓ سے فرمایا کہ میری وفات پر منہ نہ پیٹنا، بال نہ بکھیرنا، واویلا نہ کرنا اور نہ ہی کسی نوحہ کرنے والی کو بلانا۔
(الفروع من الکافی: جلد 5 صفحہ 527 کتاب النکاح باب صفہ مبایعۃ النبیﷺ النساء)
2: (شیعہ مصنف) ابوجعفر محمد بن یعقوب بن اسحاق کلینی رازی (ت 328ھ) روایت نقل کرتا ہے:
عن أبي عبداللہ قال: الصبر من الإيمان بمنزلۃ الرأس من الجسد فإذا ذهب الرأس ذهب الجسد كذلك إذا ذهب الصبر ذهب الإيمان۔
(ترجمہ: امام ابو عبداللہ (جعفر صادقؒ) سے روایت ہے، فرماتے ہیں: صبر کا ایمان سے ایسا تعلق ہے جیسے سر کا جسم کے ساتھ، جب سر نہ رہے تو جسم نہیں رہتا، اسی طرح جب صبر نہ رہے تو ایمان بھی نہیں رہتا۔
الاصول من الکافی: جلد 2 صفحہ 89 كتاب الايمان والكفر، باب الصبر)
3: (شیعہ مصنف) محمد بن حسین بن موسیٰ سید شریف رضی شیعی (ت 406ھ) روایت نقل کرتا ہے:
ينزل الصبر على قدر المصيبۃ ومن ضرب يده على فخذه عند مصيبته حبط أجره۔
ترجمہ: صبر مصیبت کے مطابق ملتا ہے، تو جس نے مصیبت کے وقت اپنی ران پر مارا تو اس کا اجر و ثواب ضائع ہو گیا۔
(شرح نہج البلاغہ لابن الحديد: جلد 18 صفحہ 342 نبذة من الوصايا الحكميۃ)