32 ہجری میں سیدنا ابنِ عامر رضی اللہ عنہ کی فتوحات
علی محمد الصلابیاس سال حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے مرو، روذ، طالقان، فاریاب، جورجان اور طخارستان کو فتح کیا، آپؓ نے سیدنا احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کو مرو، اور روذ روانہ کیا۔ آپؓ نے وہاں پہنچ کر ان کا محاصرہ کر لیا، وہ آپؓ کے مقابلہ کے لیے نکلے، لیکن مسلمانوں نے انہیں شکست دے کر ان کے قلعہ کی طرف لوٹنے پر انہیں مجبور کر دیا، وہ اپنے قلعہ پر چڑھ گئے اور کہا: عرب کے لوگو! ہم تمہیں جیسا دیکھ رہے ہیں تمہارے بارے میں کبھی ایسا سوچا نہیں تھا، جیسا ہم تمہیں دیکھ رہے ہیں اگر ہم تمہیں ایسا سمجھتے تو کیفیت کچھ اور ہی ہوتی، لہٰذا تم ہمیں موقع دو تاکہ آج ہم غور و فکر کر سکیں اور آپ لوگ اپنے معسکر میں لوٹ جائیں، چنانچہ حضرت احنف رضی اللہ عنہ اپنی فوج کو لے کر لوٹ آئے، جب صبح ہوئی تو محاصرہ کر لیا وہ لوگ بھی جنگ کی تیاری کر چکے تھے، اتنے میں عجمیوں میں سے ایک شخص شہریوں کو طرف سے خط لے کر نکلا اور کہا: میں پیغام رساں ہوں مجھے امان دیجیے، مسلمانوں نے اسے امان دے دی، وہ مرو کے حاکم کا پیغام رساں تھا، وہ اس کا بھتیجا اور ترجمان بھی تھا، اس نے خط پیش کیا۔ سیدنا احنف رضی اللہ عنہ نے خط پڑھا تو اس میں تحریر تھا:
ہم اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں جس کے ہاتھ میں ملک ہیں، جس کی حکومت کو چاہتا ہے بدلتا ہے، جس کو چاہتا ہے ذلت کے بعد رفعت عطاء کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے رفعت کے بعد پست کر دیتا ہے۔ آپ حضرات سے مصالحت کی طرف میں اس لیے بڑھ رہا ہوں کیوں کہ میرے دادا مسلمان ہو چکے تھے، اور آپ کے رسولﷺ کی کرامت و منزلت کا انہوں نے مشاہدہ کیا تھا، لہٰذا آپ حضرات کو خوش آمدید کہتا ہوں اور آپ کو ایک دوسرے کے درمیان مصالحت کی دعوت دیتا ہوں، میں سالانہ آپ کو ساٹھ ہزار درہم خراج (ٹیکس) ادا کروں گا، بشرطیکہ شہنشاہ کسریٰ نے جو جاگیر میرے بڑے دادا کو دی تھی وہ مجھ سے نہ چھینی جائے، کیوں انہوں نے اس سانپ کو مار ڈالا تھا جس نے بہت سے لوگوں کو ڈس لیا تھا، اور آمد و رفت کے راستہ کو روک دیا تھا اس پر بطورِ انعام کسریٰ نے یہ جاگیر عطا کی تھی، اور یہ کہ میرے گھرانے میں سے کسی سے بھی خراج نہ لیا جائے اور ریاست و سرداری میرے گھرانے کے علاوہ دوسروں کو نہ دی جائے۔ اگر آپ نے ان شرائط کے ساتھ مصالحت منظور کر لی تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گا، میں نے آپ کے پاس بھتیجے ماہک کو بھیجا ہے تاکہ وہ آپ سے معاہدہ طے کر لے۔
اس کے جواب سیدنا احنف رضی اللہ عنہ نے یہ خط تحریر فرمایا:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
امیرِ جیش سیدنا صخر بن قیسؓ کی طرف سے باذان حاکم مرو روز اور اس کے ساتھی فوجی افسران اور اعاجم کے نام!
اس پر سلام جو ہدایت کی پیروی کرے، ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرے۔
اما بعد!
یقیناً تمہارا بھتیجا ماہک میرے پاس آیا، تمہاری خیر خواہی میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی، تمہارا خط پہنچایا اور میں نے اس کو اپنے ساتھی مسلمانوں پر پیش کیا، میں اور وہ تمہارے سلسلہ میں برابر ہیں۔ ہم نے تمہاری اس پیش کش کو قبول کر لیا ہے کہ تم اپنے کاشتکاروں، کسانوں اور اس زمین کا خراج ادا کرو گے جو ظالم کسریٰ نے تمہارے پڑدادا کو اس سانپ کے قتل کرنے پر عطاء کی تھی جس نے فساد برپا کیا تھا اور راستہ روک رکھا تھا، زمین اللہ اور اس کے رسول اللہﷺ کی ہے اپنے بندوں میں سے اللہ جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے، تمہارے ذمہ مسلمانوں کی مدد اور اپنے فوجی افسران کے ساتھ ان کے دشمنوں سے قتال کرنا ہے اگر مسلمان ان کو چاہیں اور پسند کریں، اور اس کے عوض تمہیں ایسے وقت میں مسلمانوں کی نصرت حاصل ہو گی جب تمہارے ہم ملت اعداء تم سے قتال کریں۔ اس سلسلہ میں میری طرف سے تمہیں تحریر حاصل ہو گی۔ تمہارے اوپر یا تمہارے خاندان اور قرابت داروں پر کوئی خراج عائد نہ ہو گا۔ اور اگر تم اسلام قبول کر لو اور نبی کریمﷺ کی اتباع کرنے لگو تو تمہیں مسلمانوں کی طرف سے عطیات، منزلت اور روزینہ حاصل ہو گا اور تم ان کے بھائی ہو گے، اور تمہیں میرا اور میرے والد اور مسلمانوں اور ان کے آباء کا ذمہ حاصل ہو گا۔
اس تحریر پر جزء بن معاویہ یا معاویہ بن جزء سعدی، حمزہ بن ہرماس مازنی،حمید بن خیار مازنی، عیاض بن ورقاء اسیدی شاہد ہیں، اسے کیسان مولیٰ بنی ثعلبہ نے بروز یکشنبہ ماہِ محرم میں تحریر کیا، اور امیرِ جیش سیدنا احنف بن قیسؓ نے مہر ثبت کی آپؓ کی مہر نقش نعبد اللہ ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 اصفحہ، 316)