Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تفسیر آیت تبلیغ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

 سورۃ المائدة کی آیت 67 کی تفسیر اور شیعہ کا امت مسلمہ کو دھوکہ کی حقیقت:

يٰۤـاَيُّهَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ‌وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَابَلَّغۡتَ رِسٰلَـتَهٗ‌وَاللّٰهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ النَّاسِ‌اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡـكٰفِرِيۡنَ۞ (سورۃ المائدة آیت 67)

ترجمہ: اے رسول! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کرو۔ اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو (اس کا مطلب یہ ہوگا کہ) تم نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تمہیں لوگوں (کی سازشوں) سے بچائے گا۔ یقین رکھو کہ اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

 آیت کی صحیح تفسیر: آیت کی صحیح تفسیر جو کہ آیت کے الفاظ سے ظاہر ہے جس میں نہ روایت کے ملانے کی حاجت، نہ کسی اور کاروائی کی ضرورت یہ ہے احکام حق تعالیٰ اپنے نبی کریمﷺ کو حکم دے رہا ہے کہ جو جو احکام ہماری طرف سے نازل ہوئے ہیں ان سب کو بندوں تک پہنچا دیجیے ورنہ آپ کے ذمہ فریضہ رسالت باقی رہ جائے گا اور کفار کی ایذا رسانیوں کا خیال بلکل نہ کیجیے ہم آپ کے محافظ ہیں یہ مضمون یعنی احکام الٰہی کے تبلیغ کی تاکید کچھ اسی آیت کے ساتھ مخصوص نہیں اور آیات میں بھی ہے، قرآن مجید میں ایسی آیتیں اس تاکید سے بھری ہوئی ہیں۔

اس آیت میں نہ خلافت کا تذکرہ ہے، نہ حضرت علیؓ کی کسی قسم کی فضیلت اس سے نکل سکتی ہے، نہ آیت کو کسی خاص واقعہ سے کوئی تعلق ہے۔                  

مگر شیعہ کہتے ہیں: کہ یہ آیت حضرت علیؓ کی خلافت بلافصل کی بڑی روشن دلیل ہے حتیٰ کہ ان کے امام اعظم شیخ حلی نے "منہاج الکرامہ" میں آیت انما وليكم اللہ کے بعد اسی آیت کو ذکر کیا ہے۔ 

"شیعہ کہتے ہیں اس آیت میں جس چیز کی تبلیغ کا حکم ہے وہ حضرت علیؓ کی خلافت ہی کا حکم تھا عام احکام کی تبلیخ مراد نہیں ہے اور اس کے ساتھ انہوں نے ایک روایت بھی گھڑی ہے کہ "جب رسول اللہﷺ نے اپنے آخری حج سے واپس ہوتے ہوئے مقام غدیر خم میں پہنچے تو جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا کہ خدا کا حکم یہ ہے کہ اس مجمع میں حضرت علیؓ کی خلافت کا اعلان کر دیا دیجیے رسول ﷺ نے عذر کیا کہ مجھے خوف معلوم ہوتا ہے لوگ علیؓ کی خلافت سن کر آمادہ قتل و قتال ہو جائیں گے۔ جبرائیل علیہ السلام نے واپس جا کر اللہ سے یہ سب ماجرا بیان کیا تب یہ آیت اتری کہ اے رسول اللہ کی طرف سے جو حکم نازل ہوا ہے اس کی تبلیغ کر دیں ورنہ آپ ادا کرنے والے فرائض رسالت کے نہ قرار پائیں گے مگر پھر بھی رسول اللہ کی ہمت نہ ہوئی اور انہوں نے عذر کیا تب اللہ نے ان کی حفاظت کا وعدہ کیا مجبور ہو کر رسول خدا نے سب کو جمع کیا اور علی (رضی اللہ عنہ) کی خلافت کا اعلان بالفاظ کیا کہ من کنت مولاه فعلی مولاه

لہٰذا معلوم ہوا کہ اس آیت میں خاص حضرت علیؓ کی خلافت کے اعلان کا حکم ہے لفظ "ما" اس آیت میں اپنے معنیٰ عام پر نہیں پس یہ آیت حضرت علی کے خلیفہ بلافصل ہونے کی واضح دلیل ہو گئی۔

اہل سنت کہتے ہیں: کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ قصہ از سر تا پا غلط اور بےبنیاد ہے اہلسنت کی کتابوں میں ہمیں اس کا وجود نہیں ملتا اہل سنت کی کتابوں میں صرف آخری فقرہ من کنت مولا منقول ہے تو اس کو بھی محدثین نے کہا صحیح نہیں ہے۔

علامہ ابن تیمیہ رحمۃاللہ منہاج السنۃ میں لکھتے ہیں:

اما قوله من کنت مولاه فعلی مولاه فلیس في الصحاح لكن هو مما او العلماء وتنازع الناس في صحته فنقل عن البخاري وابراهیم الحربي طائفة من أهل العلم بالحدیث انهم طعنوا فیه وضعفوه وقال ابومحمد بن حزم اما من کنت مولاه فعلی مولاه فلا یصح من طریق الثقات أصلا

ترجمہ: لیکن بقول من کنت مولاه فعلی مولاه صحیح احادیث میں نہیں ہے بلکہ وہ من جملہ ان چیزوں کے ہے جن کو علماء نے روایت کیا ہے مگر لوگوں نے اس کی صحت میں اختلاف کیا ہے۔

امام بخاری رحمۃاللہ اور ابراہیم ہربی دیگر اور علماء حدیث کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ انہوں نے اس روایت میں جرح کی اور اس کو ضعیف کہا اور ابو محمد بن حزم کہتے ہیں کہ: من کنت مولاه فعلی مولاه بسند ثقات کی طرح ثابت نہیں ہے۔

علامہ بن حجر مکی رحمۃاللہ کی صواعق محرقہ میں لکھتے ہیں:

الطاعنون في صحته جماعة من أئمة الحدیث وعدوله المرجوع الیهم کابی داؤد السجستانی و ابی حاتم الرازی

اس حدیث کی صحت پر جرح کرنے والوں کی ایک جماعت ان ائمہ محدثین کی ہے جو بڑے معتبر ہیں اور جن پر جرح و تعدیل کا دارومدار ہے ابو داؤد سجستانی رحمۃاللہ اور ابوحاتم رازی کی دوسری بات یہ ہے کہ اگر بالفرض من کنت مولاہ کو تسلیم کر لیا جائے تو بھی اس میں حضرت علیؓ کی خلافت کا اعلان کجا کا اشارہ تک نہیں حضرت علی کی خلافت اس حدیث سے اس وقت ثابت ہو سکتی ہے جبکہ مولیٰ بمعنیٰ حاکم ہو اور حدیث کا ترجمہ یہ ہو کہ میں جس کا حاکم ہوں علی بھی اس کے حاکم ہیں حالانکہ زبان عرب میں مولیٰ بمعنیٰ حاکم نہیں آتا۔

قرآن مجید میں ہے:

 فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰٮهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ۞(سورۃ التحريم آیت 4)

ترجمہ: پس بےشک (یاد رکھو کہ) ان کا ساتھی اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک مسلمان ہیں، اور اس کے علاوہ فرشتے ان کے مددگار ہیں۔

اگر مولیٰ بمعنی حاکم ہو تو اس آیت مطلب یہ ہوگا

کہ جبرائیل اور مؤمنین صالحین رسول اللہﷺ کے حاکم ہیں۔ معاذ اللہ منه۔

لہٰذا اس روایت کو صحیح مان لینے سے بھی کچھ نتیجہ حاصل نہ ہوا اور نہ اس حدیث میں حضرت علیؓ کی خلافت کا ذکر ثابت ہوا اور نہ یہ حدیث آیت کے ساتھ کوئی تعلق پیدا نہ کر سکی۔ 

شیعوں کے امام المناظرین شیعہ مجتہد حامد حسین نے اپنی مشہور کتاب عبقات الانوار میں بڑا زور اس بات پر دیا ہے کہ مولیٰ بمعنیٰ حاکم آتا ہے ان شاء اللہ تعالی جب شرح احادیث کا سلسلہ شروع ہو گا اس وقت عبقات کے لفظ لفظ کا رد کر کے دکھا دیا جائے گا کہ مولیٰ بمعنیٰ حاکم ہرگز مستعمل نہیں اور جو عبارتیں مجتہد شیعہ حامد حسین نے نقل کی ہیں ان کا مطلب ہی وہ نہی سمجھے۔

 تںیسری بات یہ ہے کہ اس آیت کا بروز غدیر نازل ہونا بھی غلط ہے یہ آیت غدیر خم کے موقع سے بہت پہلے نازل ہو چکی تھی۔

شیعہ مجہتد حامد حسین نے عبقات کی حدیث غدیر میں اس پر بھی بڑا زور دیا ہے کہ یہ آیت غدیر خم کے موقع پر نازل ہوئی تھی اور شیعوں کو کتاب عبقات پر بڑا ناز ہے کبھی بھی سنیوں کو طعنے دیتے ہیں کہ تمہارے علماء نے عبقات کا جواب کیوں نہیں لکھا۔

اگرچہ شیعہ حامد حسین کی کتاب استقصاء الافهام اور عبقات الانوار دونوں پر کافی تنقید النجم (یہ ایک نایاب رسالہ ہے) دور قدیم میں ہو چکی ہے لیکن یہ مبحث چونکہ تمام عبقات میں چوٹی کا مبحث سمجھا جاتا ہے لہٰذا اس کی حالت کا اظہار اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے جس سے یہ بات بھی ظاہر ہو جائے گی کہ عبقات کا جواب نہ لکھنے کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ ان خرافات کی طرف توجہ کرتا وہ کندن کاہ برآوردن کا مصداق ہے اہل سنت کی صحیح روایات سے ثابت ہے کہ یہ آیت مدینہ منورہ میں رات کے وقت نازل ہوئی تھی نہ غدیر خم میں دن کے وقت۔

 حافظ ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں ترمذی وغیرہ بہت سے محدثین سے یہ روایت نقل کی ہے کہ صحابہ کرامؓ رات کے وقت رسول خدا کی پاسبانی کیا کرتے تھے جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول خدا نے بالا خانہ سے سر باہر نکالا اور فرمایا کہ تم لوگ واپس چلے جاو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اب کسی کی پاسبانی کی ضرورت نہیں حاکم نے مستدرک میں اس روایت کو صحیح الاسناد کہا ہے۔ " 

نیز انہیں حافظ ابن کثیر نے سورہ مائدہ کی آیت یا ایها الذين آمنوا لاتخذوا اليهود والنصارى اولیاء کے تحت بحوالہ تفسیر طبری زہری سے نقل کیا ہے کہ حضرت عبادہ بن صامتؓ نے یہودیوں سے دوستی قطع کردی مگر رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے ان سے تعلق قائم کیا اس وقت اللہ نے یا ایها الذين آمنوا والله يعصمک من الناس تک یہ سب آیتیں نازل فرمائیں۔

معلوم ہوا کہ یہ آیت غدیر خم سے برسوں پہلے مدینہ میں بوقت شب نازل ہوئی اور اس کے نزول کے وقت عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین بھی زندہ تھا۔ 

اب دیکھیے شیعہ حامد حسین صاحب نے اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں کہ یہ آیت غدیر خم کے روز نازل ہوئی تھی کیا دلائل پیش فرمائے ہیں:

واضح ہو کہ شیعہ حامد حسین نے اپنی عادت شریفہ کے مطابق اس بحث کو طول تو بہت دیا ہے کئی جز و کاغذ سیاہ کر ڈالے مگر روایتیں کل چار پیش کی ہیں اور کارروائی کی ہے کہ ان روایتوں کو متبر کتابوں سے نقل کر کے ہر ہر کتاب کے اعتبار سے اس کو ایک جداگانہ روایت قرار دیا ہے اس طور پر چار روایتوں کو بہت سی روایات بنا کر ناز کیا ہے۔ 

پہلی روایت: ابوسعید "خدری" کی ہے جس کو عطیہ کوفی روایت کرتا ہے عطیہ مذکور کی نسبت میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ ضعیف ہے، 

 امام احمد رحمۃاللہ فرماتے ہیں: بلغني انه كان ياتي الكلى وكان يسأله عن التفسير و كان يكنیه بابی سعيد فيقول قال ابو سعید یعنی یہ عطیہ کلبی کے پاس جایا کرتا تھا اور اس سے تفسیر آیات پوچھا کرتا تھا اور کلبی کی کنیت اس نے ابو سعید رکھی تھی لہٰذا یہ کہا کرتا تھا کہ مجھ سے ابوسعید نے یوں بیان کیا۔

 نیز امام احمد رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

حدثنا ابو احمد الزبيري سمعت الكلبي يقول کنانی عطية ابوسعید وقال ابن حبان سمع من ابی سعید احادیث فلما مات جعل يجالس الكلبي يحضر بصفته فاذا قال الكلبي قال رسول الله الله فيحفظه و كناه أبا سعيد ويروى منه فاذا قيل من لینک بهذا فيقول حدثنی ابوسعيد فيتوهمون انه يريد اباسعيد الخدری وانما أراد الكلبي لا يحل کتب حديثه الا على جهة التعجب وقال السناجی ليس بحجة و كان يقدم عليا على الكل وقال ابن عدى كان يعد مع شيعة اهل ورقة وقال الجوزجانی مائل وقال ابوداؤد ليس بالذي يعتمد عليه وقال ابو بكر البزار كان بعده في التشيع

 ترجمہ: ہم سے ابو احمد زبیری نے بیان کیا وہ کہتے تھے میں نے کلبی کو کہتے ہوئے سنا کہ میری کنیت عطیہ نے ابوسعید رکھی تھی، ابن حبان کہتے ہیں عطیہ نے حضرت ابوسعید خدری سے کچھ روایتیں کی تھیں مگر جب ان کی وفات ہو گئی تو یہ جا کر کلبی کے پاس بیٹھنے لگا اور کلبی جب قال رسول اللہﷺ کہتا تھا تو یہ اس کو یاد کر لیتا تھا اور کلبی کی کنیت اس نے ابوسعید رکھ لی تھی اور کلبی رافضی ہی سے یہ روایت کیا کرتا تھا جب اس سے کوئی پوچھتا کہ یہ حدیث تجھ سے کس نے بیان کی تو کہتا تھا کہ ابوسعید نے۔ لوگ یہ گمان کرتے تھے کہ ابوسعید خدری صحابی مراد ہیں حالانکہ ابوسعید کلبی رافضی کو مراد لینا تھا عطیہ کی روایت کو لکھنا جائز نہیں مگر بطور تعجب کے اور ساجی نے کہا ہے کہ عطیہ معتبر شخص نہیں ہے وہ حضرت علیؓ کو تمام صحابہ پر مقدم سمجھتا تھا اور ابنِ عدی نے کہا ہے کہ عطیہ کا شمار کوفہ کے شیعوں میں تھا اور جوز جانی نے اسکو مائل بتشیع بیان کیا ہے اور ابو داؤد نے کہا ہے کہ عطیہ ایسا شخص نہیں جس پر اعتماد کیا جائے اور کہا ہے کہ ابوبکر بزار کا مرتبہ عالیہ کے بعد ہے۔ 

پس اس روایت میں دو رافضی ہوئے ایک عطیہ دوسرا کلبی جس کو دھوکہ دینے کیلئے ابوسعید کہا گیا ہے تاکہ لوگ ابوسعید کو صحابی سمجھ کر روایت کو قبول کر لیں حالانکہ وہ کلبی ابوسعید ہے اور روایت اس نے گڑھی ہے۔ لہٰذا اس روایت کو اہل سنت کے سامنے پیش کرنا شیعہ حامد حسین کی دیانت کا ایک نمونہ ہے اور پھر اس پر مزید یہ کہ اس روایت کو متعدد کتابوں سے مل نقل کر کے کتاب کے لحاظ سے اس کو جداگانہ روایت قرار دیکر یہ ظاہر کرنا کہ یہ روایت کثرت طرق سے مروی ہے شیعہ حامد حسین کی چالاکی کا ایک معمولی کرشمہ ہے۔

دوسری روایت: ابن عباسؓ کی ہے جس کو کلبی نے بواسطہ ابوصالح کے ابن عباس سے کیا ہے کلبی کا رافضی اور کذاب ہونا مسلم الكل ہے۔

میزان الاعتدال میں ہے کہ امام بخاری رحمۃاللہ فرماتے تھے کہ سفیان کہتے تھے کلبی نے مجھ سے کہا کہ جتنی روایتیں میں نے ابوصالح سے نقل کی ہیں وہ سب جھوٹی ہیں۔ 

یزید بن يذیع کہتے ہیں کہ کلبی عبداللہ بن سبا کے فرقہ کا شخص تھا۔

ابن حبان کہتے ہیں کہ کلبی عبداللہ بن سبا کے فرقہ کا شخص تھا اور ان لوگوں میں سے تھا جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ سیدنا علیؓ نہیں مرے اور جب بادل کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ امیر المؤمنین اس میں ہیں۔

 بنوز کی کہتے ہیں کہ میں نے کلبی سے سنا وہ کہتا تھا کہ میں سبائی فرقے سے ہوں یعنی عبداللہ بن سباء کا پیروکار ہوں۔

حسن بن یحی رحمۃاللہ کہتے تھے میں نے کلبی سے سنا کہ جبرائیل علیہ السلام جب وحی لیکر آتے تھے آپ محمدﷺ اگر پاخانہ میں جاتے تو جبرائیل علیہ السلام اتنی دیر علیؓ سے وحی بیان کرتے تھے۔

احمد بن زبیر رحمۃاللہ کہتے ہیں میں نے امام احمد رحمۃاللہ سے پوچھا کلبی کی تفسیر کو پڑھنا جائز ہے تو انہوں نے کہا کہ جائز نہیں۔

 جوزجانی نے کلبی کو کذاب کہا ہے اور ایک جماعت دارقطنی نے اس کو متروک الروایت کہا ہے 

ابن حبان فرماتے ہیں کلبی کا رافضی ہونا ایسا ظاہر ہے کہ محتاج بیان نہیں اور کلبی بواسطہ ابو صالح کے ابن عباسؓ سے روایت کرتا ہے حالانکہ ابوصالح نے ابنِ عباسؓ کو دیکھا بھی نہیں کلبی ایسا شخص تھا کہ کتابوں میں اس کا ذکر جائز نہیں کلبی کا شیعہ ہونا شیعوں کی کتابوں سے ثابت ہے۔

چنانچہ اصول کافی میں کلبی کی بہت سی روایات ہیں اور اصول کافی میں ہے: فلم يزل الكلبي يدين الله بحب اهل هذا البيت حتى مات لین

 کلبی ہمیشہ اللہ کی اطاعت محبت اہل بیت کے ذریعہ سے کرتا رہا یہاں تک کہ مر گیا۔ 

اس سے ظاہر ہو گیا کہ یہ روایت بھی قابل اعتبار نہیں کلبی رافضی کذاب کی گھڑی ہوئی ہے شیعہ حامد حسین صاحب نے اس روایت کو اہل سنت کے مقابلہ میں پیش کر کے اپنی دیانت کا ایک عمدہ ثبوت پیش کر دیا۔ 

اس روایت کو بھی شیعہ مجتہد حامد حسین نے متعدد کتابوں سے نقل کر کے ایک روایت کو مستند بنانے کی کارروائی کی ہے۔ 

اگر خدانخواستہ کوئی سنی اس قسم کی کارروائی شیعوں کے مقابلہ میں کرتا تو علما شیعہ تو جو کہتے بعد میں کہتے، پہلے علماء اہل سنت ہی اس کو ذلیل و خوار کر تے مگر شیعہ ہیں کہ اپنے مجتہد حامد ان کی مدح و ثناء میں رطب اللسان رہتے ہیں اس کا سبب سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے کہ شیعوں کے ہاں فریب و دغا کی کارروائیاں جائز ہیں بلکہ موجب کمال ہیں۔ 

 تیسری روایت: براء بن عازب کی ہے مگر مجتہد محمد حسین نے اس کی پوری سند ہی نقل نہیں کی معلوم ہوتا کہ ان کی سند میں کون کون راوی ہیں اور ان راویوں کی بابت ائمہ جرح و تعدیل نے کیا لکھا ہے لہٰذا ایسی مجہول السند روایت کو پیش کرنا سوائے شیعہ مجہتد حامد حسین یا ان کے ہم مذہب علماء کے اور کسی سے شاید نہ ہو سکتا۔ 

چوتھی روایت: شیعہ حامد حسین نے عبقات میں یہ بھی لکھا ہے

 عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول خدا کے زمانہ میں اس آیت کو یوں پڑھتے تھے "یاایها الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک ان علیا مولى المؤمنین" اس روایت کو مجتہد حامد حسین نے اپنی کتاب استقصاء الافھام میں بھی ذکر کیا ہے

اور اس سے تحریف قرآن ثابت کرنی کی کوشش کی ہے پوری سند اس روایت کی بھی مجتہد شیعہ صاحب نے ذکر نہیں کی صرف اس قدر نقل کیا ہے کہ ابوبکر بن عیاش نے عاصم سے انہوں نے زر سے انہوں نے ابن مسعود سے لیا ہے اس کو نقل کیا ہے ابوبکر بن عیاش کے بعد کے روای معلوم ہیں کیسے ہیں لہٰذا ایک خرابی تو اس روایت میں یہ ہوئی کہ سند اس کی مجہول ہے۔

دوسری خرابی یہ ہے کہ ابوبکر بن عیاش مجروح ہیں میزان الاعتدال میں ہے اور یہ کہ وہ حدیث میں غلطی کرتے تھے اور وہم ہو جاتا تھا، محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ان کو ضعیف کہا ہے یحی بن سعید انکا بالکل اعتبار نہ کرتے تھے ان کے سامنے ابوبکر بن عیاش کا ذکر ہوتا تو چیں بہ جبیں ہو جاتے کہ اگر ابوبکر بن عیاش میرے سامنے موجود ہوتے تو میں ان سے کچھ نہ پوچھتا۔ 

امام احمد رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ "وہ حد سے زیادہ کثیر الغلط ہیں،''

ابن مبارک رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوبکر بن عیاش سے بڑھ کر حدیث پر بہت جلد جرأت کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔

 تیسری خرابی یہ ہے ابوبکر بن عیاش عاصم سے روایت کرتے عاصم نام کے کئی راوی ہیں جن میں بعض کذاب بھی ہیں۔

 جب تک معلوم نہ ہو کہ کون عاصم ہیں اس وقت تک راویت بھی مجہول و ناقابل اعتبار ہے۔

پس یہ کل چار روایتیں شیعہ حامد حسین نے اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں پیش کی تھیں کہ یہ آیت غدیر خم کے موقع پر نازل ہوئی۔ عبقات کی حقیقت معلوم کرنے کیلئے یہ نمونہ کافی ہے ایک عجیب لطف یہ ہے:

شیعوں کی معتبر روایتوں سے بھی یہ ثابت ہے کہ یہ آیت غدیر خم کے موقع پر نہیں نازل ہوئی بلکہ عرفہ کے دن نازل ہوئی تھی جو غدیر خم سے نو دن پہلے تھا اب اس کے بعد شیعہ حامد حسین کے بارے میں یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ  

           در کفر ہم ثابت نہ شد او را رسوا کن

کیونکہ ان کی تحقیق شیعوں کے بھی خلاف نکلی ملاحظہ ہو:

 اصول کافی مطبوعہ لکھنؤ صفحہ 187 میں ہے کہ ابو الجار وہ کہتا ہے میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ثم نزلت المولاتيه وانما اتاه ذلك في يوم الجمعة بعرفة انزل الله رجل اليوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی و كان اكمال الدين بولاية على بن ابی طالب عليه السلام فقال عند ذلک رسول الله غالب امتی حدیثو عهد بالجاهلية ومتى اخبرتهم بهذا في ابن عمي يقول قائل ويقول قائل فقلت في نفسي من غير أن ينطق به لسانی قاتانی عزيمة من الله عز وجل بتلة فنزلت یا ایها الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالته والله يعصمک من الناس أن الله لا يهدي القوم الكافرين

ترجمہ: پھر نازل ہوئی امامت علی کی یہ حکم نبی کے پاس جمعہ کے دن عرفہ میں آیا اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی

دین کا کمال علی بن ابی طالب علیہ السلام کی امامت سے ہوا تو اس وقت رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میری امت جاہلیت سے قریب العہد ہے جب میں ان کو اپنے چچا کے بیٹے (یعنی علی) کے متعلق کوئی خبر دونگا تو کوئی کچھ کہے گا اور کوئی کچھ کہے گا۔ ابھی یہ خیال میں نے اپنے دل میں کیا تھا زبان سے کوئی لفظ نہ نکالا تھا کہ اللہ عزوجل کی طرف سے سخت تاکید آ گئ اور یہ آیت نازل ہوئی: يٰۤـاَيُّهَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ‌وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَابَلَّغۡتَ رِسٰلَـتَهٗ‌ وَاللّٰهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ النَّاسِ‌اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡـكٰفِرِيۡنَ

اس روایت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آیت تبلیغ کا نزول غدیر کے دن نہیں ہوا بلکہ عرفہ کے دن ہوا علمائے شیعہ کا عجب حال ہے سنیوں کے مقابلہ میں آ کر وہ اپنی کتابوں سے بھی ناواقف بن جاتے ہیں۔

خلاصہ: آیت تبلیغ اور ملت شیعیت کو دعوتِ فکر:

 اس آیت کے متعلق جو قصہ شیعہ صاحبان نے جبرائیل علیہ السلام کے بار بار آنے اور اللہ تعالیٰ کے بار بار تاکید کرنے اور رسولﷺ کے ہر بار عذر کرنے کا بیان کیا ہے اس میں جس قدر تمسخر، توہین، اللہ اور رسولﷺ ساتھ ہے۔

 ظاہر ہے عجب تماشہ ہے کہ توحید کی تبلیغ میں رسولﷺ کفار مکہ کا کچھ خوف نہ کیا اور بڑی وضاحت و صراحت کے ساتھ تمام اہل مکہ کے خلاف توحید کے مضامین کو بیان فرمایا اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن میں توحید کا مضمون خوب تفصیل و توضیح سے بےشمار آیتوں میں نازل فرمایا ہے لیکن حضرت علیؓ کی خلافت اللہ جانے کیسی خطرناک چیز کہ اللہ نے بھی اس کا بیان صاف صاف نہ کیا اور رسول اللہﷺ بھی اس کی تبلیغ میں اس قدر خائف ہوئے اور اللہ تعالیٰ حفاظت کا وعدہ نہ کرتا تو چاہے کتنی تاکیدات اللہ کی طرف سے ہوتی رسول اللہﷺ ہرگز تبلیغ نہ کرتے۔

 پھر ان سب امور کے بعد یہ بھی کچھ کم قابل حیرت نہیں کہ رسولﷺ تبلیغ کرنے کھڑے ہوئے تو ان کو حضرت علیؓ کی خلافت کے بیان کرنے کے لیے کوئی لفظ ہی نہ ملا "مولا" کا لفظ ارشاد فرمایا جس سے خلافت کا مفہوم کسی طرح ثابت نہیں ہو سکتا ایسا فصیح العرب اور اس معاملہ میں اس کو کوئی سری لفظ ہی نہ ملے۔

العجب کل العجب: اچھا ہم اس تمام قصے سے قطع نظر کر لیں اور صرف اتنی سی بات مان لیں کہ اس آیت میں لفظ "ما" سے حضرت علیؓ کی خلافت مراد ہے تب بھی یہ اعتراض اللہ پر ضرور ہوتا ہے کہ جب حضرت علیؓ کے خلاف ایسی اہم اور ضروری چیز ہے کہ رسولﷺ کو اس کے اعلان کی اس قدر تاکید کی جا رہی کہ اس قدر تاکید نہ عقیدہ توحید کے لیے کی گئی، نا عقیدہ قیامت کے لیے نہ عقیدہ رسالت کے لئے!!

حتیٰ کہ اس خلافت کا اعلان نہ کرنے کی صورت میں رسولﷺ کا نام رسولوں کی فہرست سے کاٹ دینے کی وعید آئی ایسی اہم اور ضروری چیز کو خدا نے مبہم کیوں بیان فرمایا یا جس طرح عقیدہ توحید وغیرہ کو اللہ نے صاف صاف بیان فرمایا تھا کہ آج ہر شخص ان آیات کو دیکھ کر اصل مقصود کو سمجھ لیتا ہے خلافِ مقصود کا وہم بھی کسی کو نہیں ہوتا اس طرح حضرت علیؓ کی خلافت کو صاف صاف بیان کیوں نہ بیان فرمایا!؟ 

معلوم ہوتا ہے اللہ بھی ڈرتا تھا کہ میں اگر علیؓ کی خلافت کو صاف صاف بیان کر دوں گا تو نہ معلوم میرے ساتھ اور میرے قرآن کے ساتھ ساتھ مخالفین علیؓ کیا سلوک کریں گے اور رسولﷺ پر بھی یہ اعتراض ہوتا ہے کہ انہوں نے بھی حکمِ خداوندی کی تعمیل نہ کی اللہ کا حکم تھا کہ علیؓ کی خلافت کا اعلان کریں

انہوں نے بجائے خلافت کے علیؓ کے "مولا" ہونے کا اعلان کر کے خاموشی اختیار کر لی۔

استغفراللہ استغفراللہ 

مذہب شیعہ سیر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین الٰہی کا مقصود سوائے حضرت علیؓ کی خلافت کے اور کچھ تھا ہی نہیں نہ توحید کا اس قدر اہتمام کا نہ رسالت اور نہ کسی اور چیز کا لہٰذا وہ شعر مشہور اثنا عشریوں کے مذہب کے مطابق بھی بالکل صحیح ہے۔

"کہ جبرئیل کارآمد زبر خالق بچیوں، درپیش محمد شدو مقصود علی بود''

 مگر رونا اس کا ہے کہ دینِ الٰہی کا یہ مقصود پورا نہ ہوا رسول ﷺ کی رسالت سب سے زیادہ ناکام رہی کیونکہ جو مقصد اصلی آپ کی بعثت کا تھا یعنی حضرت علیؓ کی خلافت اس میں کوئی کامیابی نہ ہوئی۔

حضرت علیؓ پہلی خلافت تو کیا ملتی جو چوتھے درجے میں ملی بھی تو بقول شیعہ برائے نام تھی،  

اس کا ماتم حضرات شیعہ جس قدر کریں ہجا ہے اور جتنا روئیں حق بجانب ہیں۔

نتیجہ: 1: رسول اللہﷺ نے اللہ حکم کی تعمیل کا معاملہ دو تین مرتبہ ٹالا تیسری دفعہ مبہم الفاظ میں تعمیل کی جو عدم تعمیل ہی کی ایک شکل ہے کیا نبی کریمﷺ اور خدا کا تعلق ایسا ہی ہوتا ہے؟؟

2: رسول اللہﷺ صحابہ کرامؓ سے اتنا ڈرتے تھے کہ اللہ کی نافرمانی تک کے لئے تیار ہوگئے؟؟  

3: حضورﷺ کی حیات طیبہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ توحید رسالت اور معاد کی تبلیغ کے لئے پورے عرب کی مخالفت قبول کر لی مگر تبلیغ اور پوری وضاحت کے ساتھ تبلیغ سے باز نہ آئے۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ حضرت علیؓ کی خلافت کے لیے اعلان کے بارے میں غیروں سے نہیں اپنوں سے ڈرتے رہے آخری دم تک کوئی واضح اعلان نہیں فرمایا۔

4: حضورﷺ کو حضرت علیؓ کے بارے میں قوم سے خطرہ کیوں تھا؟ کہ قوم اس فیصلے کو قبول نہ کرے گی؟ یا حضرت علیؓ اس کے اہل نہیں تھے؟ یا حضورﷺ پر کنبہ پروری کا الزام آتا تھا اس کی کیا وجہ تھی؟ 

5: حضورﷺ کی 23 سالہ نبوی زندگی میں کیا کوئی اور ایسا مقام بھی آیا کہ اللہ نے کوئی حکم دیا ہو اور حضورﷺ اسے ٹالتے رہے ہوں۔

6: ماانزل میں صیغہ مجہول کا ہے جو زمانہ گزشتہ کو چاہتا ہے یعنی اس آیت سے پہلے خلافت علیؓ کی خلافت کا حکم نازل ہو چکا تھا مگر حضورﷺ نے چھپائے رکھا کیا رسول امین کے متعلق یہ تصور کیا جاسکتا ہے؟؟

جو شخص بندوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں دشمنوں کی زبان سے بھی آمین کہلاتا ہے وہ اللہ کے دین کے معاملے میں معاذاللہ خیانت کرے حضورﷺ کی سیرتِ طیبہ میں ایسا تضاد تو دشمن بھی نہیں پیش کر سکے۔

7: وحی کا ایک بات کے لئے بار بار آنا اور نبی ﷺ کا بار بار ٹالنا اگر تسلیم کر لیا جائے تو ماننا پڑے گا معاذاللہ حضورﷺ نے وحی کو مذاق سمجھ رکھا تھا حضورﷺ کا وحی کے ساتھ یہ سلوک تو وحی کے ساتھ استہزاء توہین اور اور تلعب بلوحی ہے کوئی باہوش آدمی یہ تصور کر سکتا ہے؟؟؟