Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کے لشکر اور طخارستان، جوزجان، طالقان اور فاریان والوں کے مابین قتال

  علی محمد الصلابی

سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے مرو والوں سے مصالحت کر لی اور حضرت احنف رضی اللہ عنہ کو چار ہزار فوج کے ساتھ طخارستان کی طرف روانہ کیا، وہ آگے بڑھے اور مرو روز میں احنف کے قصر کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ ان کے مقابلہ کے لیے طخارستان، جوزجان، طالقان اور فاریان کے لوگ جمع ہو گئے، اور تیس ہزار کے تین لشکر تیار ہو گئے۔ اس کی اطلاع سیدنا احنف رضی اللہ عنہ کو پہنچی، آپؓ نے لوگوں سے اس سلسلہ میں مشورہ کیا۔ لوگوں کے خیالات مختلف رہے، اتفاق رائے نہ ہو سکا کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہم مرو واپس ہو جائیں، کچھ کی رائے تھی کہ ابر شہر چلے جائیں، کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ یہیں ٹھہریں اور مزید کمک طلب کریں، کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمیں دشمن سے ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہے۔ شام کے وقت حضرت احنفؓ جائزہ لینے کے لیے لشکر میں نکلے، اور لوگوں کی گفتگو کان لگا کر سننے لگے۔ ایک خیمے سے آپؓ کا گزر ہوا کوئی خزیرہ (ایک قسم کا کھانا ہے جو چربی اور آٹے سے تیار کیا جاتا ہے۔) پکا رہا تھا، یا آٹا گوندھ رہا تھا اور لوگ آپس میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے، دشمن کا ذکر چھڑا ہوا تھا۔ ان میں سے بعض نے کہا کہ امیر کے لیے مناسب یہ ہے کہ صبح سویرے اچانک دشمن پر حملہ کر دیں اس سے دشمن مرعوب ہو کر شکست خوردہ ہو جائے گا۔ اس پر خزیرہ بنانے والے یا آٹا گوندھنے والے نے کہا: اگر ہمارے امیر نے ایسا کیا تو یہ ان کی غلطی ہو گی اور تم غلط مشورہ دیتے ہو، کیا تم انہیں اس بات کا مشورہ دیتے ہو کہ وہ دیارِ غیر میں تھوڑی سی جماعت کے ساتھ اس عظیم لشکر پر صبح سویرے حملہ کر دیں۔ اگر انہوں نے ایک حملہ کر دیا تو ہم سب کو پیس کر رکھ دیں گے، البتہ صحیح رائے یہ ہے کہ مرغاب اور پہاڑی کے درمیان اپنا لشکر لے کر اتر پڑیں، مرغاب کو دائیں اور پہاڑی کو بائیں کر لیں، ایسی صورت میں دشمن زیادہ تعداد میں مقابلہ میں نہیں آ سکتا، بلکہ اتنی ہی تعداد میں آ سکتا ہے جتنی تعداد ان کے لشکر کی ہے۔ یہ بات سن کر سیدنا احنف رضی اللہ عنہ اپنے خیمے کی طرف واپس ہو گئے، یہ بات ان کے دل میں بیٹھ گئی، اور اپنا لشکر لے جا کر اس جگہ ٹکا دیا۔ مرو کے لوگوں نے دشمن کے مقابلہ میں مسلمانوں کا ساتھ دینے کی پیش کش کی۔ حضرت احنف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ مشرکین سے مدد لوں، تم اپنی جگہ ٹھہرے رہو اور اس عہد پر قائم رہو جو ہم نے تم سے کیا ہے، اگر ہم غالب آ گئے تو تمہیں وہ حاصل ہو گا جس کا ہم نے تم سے عہد کیا ہے، اور اگر ہم مغلوب ہو گئے اور دشمن تم سے قتال کرنے لگے تو تم اپنا دفاع کرتے ہوئے ان سے قتال کرنا۔ ابھی نمازِ عصر کا وقت ہوا تھا کہ مشرکین نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا اور شام تک گھمسان کی جنگ چلتی رہی، سیدنا احنفؓ ابنِ جوبہ اعرجی کا یہ شعر پڑھتے رہے: 

احق من لم یکرہ المنیۃ

خزور لیس لہ ذریۃ 

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 317)

ترجمہ: جو موت کو ناپسند نہیں کرتا حقیقت میں وہ ایسا بہادر ہے جس کے پیچھے اولاد نہیں۔

ایک روایت میں یوں آیا ہے کہ رات کا اکثر حصہ دشمن کے ساتھ لڑتے رہے پھر اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکستِ فاش دی، مسلمانوں نے انہیں خوب قتل کیا اور قتل کرتے ہوئے رسکن پہنچ گئے جو قصرِ احنف سے بارہ فرسخ پر واقع ہے۔

ادھر مرو کا حاکم طے شدہ رقم ادا کرنے میں تاخیر کر رہا تھا تاکہ جنگ کے نتائج دیکھ لے، لیکن جب سیدنا احنف رضی اللہ عنہ فتح یاب ہوئے تو فوراً دو آدمیوں کو اس کے پاس روانہ کیا اور ان سے کہا جب تک طے شدہ رقم اس سے وصول نہ کر لیں اس سے بات نہ کریں۔ اس صورتِ حال کو دیکھ کر وہ سمجھ گیا کہ مسلمان فتح یاب ہو چکے ہیں ورنہ وہ ایسا نہ کرتے اس لیے فوراً ادا کر دی۔

(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 317)

سیدنا احنفؓ نے حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو شہسواروں کے دستہ کے ساتھ جوزجان روانہ کیا کیوں کہ جس لشکر کو حضرت احنفؓ نے شکست دی تھی ان کے کچھ لوگ وہاں باقی رہ گئے تھے، حضرت اقرع رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کیا اور دشمن کو کچل کر رکھ دیا، ان کے صرف دو شہسوار شہید ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطاء کی اور دشمن کو شکستِ فاش ہوئی۔ کُثَیِّر نَہْشَلی نے اسی مناسبت سے کہا ہے: 

سقی مزن السحاب اذا استھلب

مصارع فتیۃ بالجوزجان

ترجمہ: بدلیوں کی موسلا دھار بارش ہوئی تو اس نے جوزجان کے مقتولین جوانوں کو سیراب کیا۔

الی القصرین من رستاق خوط

اقادھم ہناک الاقرعان

ترجمہ: رستاق خوط سے قصرین تک سیدنا اقرع کی فوج نے ان کو دوڑایا۔