32 ہجری میں اہل بلخ کے ساتھ حضرت احنف رضی اللہ عنہ کی مصالحت
علی محمد الصلابیسیدنا احنف رضی اللہ عنہ مرو سے بلخ پہنچے اور ان کا محاصرہ کر لیا، ان لوگوں نے آپؓ سے چار ہزار پر مصالحت کر لی۔ آپؓ نے اسے پسند کیا اور اپنے بھتیجے اسید بن متشمش کو مقرر کیا تاکہ وہ ان سے یہ وصول کر لیں پھر حازم کی طرف آگے بڑھے اور ٹھہرے رہے یہاں تک کہ تیز سردی پڑنے لگی، ساتھیوں سے فرمایا: کیا چاہتے ہو؟ لوگوں نے کہا عمرو بن معدی کرب کا شعر ہے:
اذا لم تستطع امرا فدعه
وجاوزہ الی ما تستطیع
ترجمہ: جب کسی چیز کی استطاعت نہ ہو تو اسے ترک کر دو، اور اس چیز کی طرف آگے بڑھو جس کو کر سکتے ہو۔
چنانچہ سیدنا احنفؓ نے لوگوں کو کوچ کرنے کا حکم دے دیا اور بلخ لوٹ آئے، اور آپؓ کے چچا زاد بھائی اسید نے ان سے وہ رقم وصول کی جس پر معاہدہ ہوا تھا۔ اتفاق سے جس دن وہ ان سے رقم وصول کرنے گئے وہ ان کے جشن کا دن تھا، چنانچہ ان لوگوں نے انہیں ہدیہ میں سونے اور چاندی کے برتن، دینار و درہم اور سامان و کپڑے پیش کیے۔ اسید نے ان سے پوچھا: کیا مصالحت کے وقت یہ طے ہوا تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، لیکن آج کے دن ہم اپنے حکام کے لیے اس طرح ہدیہ پیش کرتے ہیں تاکہ ان کی نظرِ عنایت ہم پر رہے۔ اسید نے کہا: آج کون سا دن ہے؟ انہوں نے کہا مہرگان (جشن کا دن) اسید نے کہا: مجھے معلوم نہیں یہ کیا ہے اور میں یہ ناپسند کرتا ہوں کہ تمہارا یہ ہدیہ واپس کر دوں اور شاید یہ میرا حق ہو، لیکن ابھی میں اسے لے لیتا ہوں اور اسے الگ رکھتا ہوں پھر دیکھوں گا کہ اس سلسلہ میں کیا کرنا ہے۔ آپ نے اسے لے لیا اور جب سیدنا احنف رضی اللہ عنہ آئے تو انہیں اس کی اطلاع دی۔ حضرت احنف رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اس سے متعلق دریافت کیا تو لوگوں نے انہیں وہی بتایا جو اسید سے ان لوگوں نے کہا تھا۔ حضرت احنفؓ نے کہا خیر اسے امیر کو پیش کرتے ہیں دیکھتے ہیں کہ وہ اس سلسلہ میں کیا فرماتے ہیں، چنانچہ اسے سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں پیش کر دیا حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہما نے آپ سے کہا: ابو بحر! تم اسے لے لو یہ تمہارا ہے۔ انہوں نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ سیدنا ابنِ عامر رضی اللہ عنہما نے مسمار قرشی سے کہا اسے تم عام مال میں شامل کر دو تو انہوں نے اسے عام مال میں شامل کر لیا۔
(تاریخ الطبری: جلد، صفحہ، 319)