حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 12 ذوالحجہ یا 18…

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 12 ذوالحجہ یا 18 ذوالحجہ؟

  عبداللہ نوید

صفحہ 2 از 2

تو جیسا کہ صحیح ترین اقوال سے ثابت ہوا کہ سیدنا عثمانؓ کی تاریخِ شہادت 18 ذی الحجہ ہے اور ابو عثمان النہدیؒ کا بھی یہی قول ہے جو کہ حادثے کے معاصر ہیں۔

تو اب ہم ذرا عقلی دلائل کی طرف آتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ سیدنا عثمانؓ کی تاریخِ شہادت 18 ہی ہے۔

اب آپ کو اُن تمام باتوں میں سے چند باتوں کو دوبارہ زہن میں لانا ہوں گا جن کے بارے ہم نے کہا تھا کہ ان کو یاد کر لیں۔

2: سیدنا عثمانِ غنیؓ جمعہ کے دن شہید ہوئے۔

4: لوگوں نے سیدنا علیؓ کی بیعت کرنا 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ کو شروع کر دیا۔

5: سیدنا علیؓ کی بیعت تمام لوگوں نے 25 ذی الحجہ بروز جمعہ تک مکمل کر لی تھی۔

اب ہم تاریخ اور دن کے حساب سے یہ فیصلہ کریں گے کہ صحیح قول کون سا ہے۔

نیچے ہم نے ایک تاریخ کا گراف بھی بنا کر لگا دیا ہے۔

قارئین کرام! ابھی ہم وقتی طور پر مان لیتے ہیں کہ سیدنا عثمانؓ کی شہادت 12 ذی الحجہ بروز جمعہ کو ہوئی اور اس دن سے لے کر 25 ذی الحجہ تک چلتے ہیں کہ کیا روایات کے مطابق اس لحاظ سے 25 تاریخ کو جمعہ کا دن بنتا ہے یا نہیں؟

12 جمعہ، 13 ہفتہ، 14 اتوار، 15 سوموار، 16 منگل، 17 بدھ، 18 جمعرات 19 جمعہ، (یہاں ہی تاریخ غلط ہوگئی ہے کیونکہ روایات کے مطابق 19 کو سیدنا علیؓ کی بیعت شروع ہوئی اور تب ہفتے کا دن تھا خیر اس بحث کو یہاں چھوڑ کر ہم آگے چلتے ہیں)

20 ہفتہ، 21 اتوار، 22 سوموار، 23 منگل، 24 بدھ، 25 جمعرات (یہاں پھر سے غلطی آگئی ہے کیونکہ روایات کے مطابق سیدنا علیؓ کی بیعت 25 ذی الحجہ بروز جمعہ کو مکمل ہوگئی اور اس حساب سے یہاں جمعرات بنتا ہے جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ 12 ذی الحجہ سیدنا عثمانؓ کی شہادت کا دن نہیں۔

اب ہم راجح قول کے مطابق سیدنا عثمانؓ کی تاریخِ شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ مانتے ہیں اور یہی حساب دوبارہ کرتے ہیں 18 جمعہ، 19 ہفتہ (یہ حساب یہاں ہی درست ثابت ہو گیا کیونکہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بیعت 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ شروع ہوئی آگے چلتے ہیں)

20 اتوار، 21 سوموار، 22 منگل، 23 بدھ، 24 جمعرات (یہاں بھی درست ہوگیا کیونکہ 24 ذی الحجہ بروز جمعرات کو کوفیوں میں سب سے پہلے اشتر نخعی نے آپ کی بیعت کی)

25 جمعہ (بیعت مکمل ہونے کا دن جمعہ)

تو تمام روایات کے مطابق 18 ذی الحجہ ہی سیدنا عثمانؓ کی شہادت کا دن ہے کیونکہ باقی تمام روایات و شواہد پر یہی تاریخ پوری اترتی ہے۔

قارئین کرام! آپ سب کے لیے یہ حیران کُن بات ہوگی کہ رافضیوں کی ویب سائیٹ ویکی شیعہ پر بھی سیدنا عثمانؓ کی تاریخِ شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہی لکھی ہوئی ہے۔ (ویکی شیعہ، عثمان بن عفانؓ کا بیان، باب معاصرہ اور قتل) مگر رافضیوں کے سہولت کار ٹولے نے انکی نمک حلالی کرتے ہوئے بارہ ذوالحجہ کو یومِ شہادت بنانے کی ناکام کوشش شروع کی ہوئی ہے۔

قارئین کرام! اللہ کے کرم سے ہم نے کتابی و عقلی دلائل سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کی تاریخِ ہوئی شہادت 35 ہجری 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہی ہے تمام تاریخی و عقلی دلائل سے بھی یہی تاریخ ثابت ہے اور اس کے علاوہ باقی تمام تاریخی اقوال کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔


صفحہ 2 از 2