خراسان میں قارن کی شکست
علی محمد الصلابیجب سیدنا ابنِ عامر رضی اللہ عنہما جنگ سے واپس ہوئے تو سیدنا قیس بن ہیثمؒ کو خراسان کا والی مقرر کر دیا۔ ادھر قارن نے چالیس ہزار ترکوں کو مسلمانوں کے مقابلہ میں جمع کیا، چنانچہ اس کے مقابلہ کے لیے حضرت عبداللہ بن حازم سلمیٰ رضی اللہ عنہ چار ہزار مسلمانوں کو لے کر آگے بڑھے۔ مقدمۃ الجیش میں چھ سو افراد کو رکھا اور انہیں حکم دیا کہ اپنے نیزوں کی نوکوں پر آگ لگا لیں، چنانچہ راتوں رات دشمن پر دھاوا بول دیا، مقدمۃ الجیش کے لوگ دشمن سے بھڑ گئے، اور ادھر سیدنا عبداللہ بن حازمؓ نے باقی لوگوں کو لے کر دشمن کو گھیر لیا، یہ منظر دیکھ کر دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا اور جس کو چاہا قتل کیا، انہی میں قارن بھی قتل ہو گیا، کافی تعداد میں جنگی قیدی اور مالِ غنیمت ہاتھ آیا۔ پھر سیدنا عبداللہ بن حازمؓ نے فتح کی خبر حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہما کو بھیجی۔ یہ خبر سن کر حضرت عبداللہ بن عامرؓ سیدنا عبداللہ بن حازمؓ سے خوش ہو گئے اور خراسان پر ان کو والی مقرر کر دیا۔ سیدنا عبداللہ بن عامرؓ ان سے ناراض تھے کیوں کہ انہوں نے سابق والی سیدنا قیس بن ہیثم سلمیٰ رضی اللہ عنہ کو دھوکے سے خراسان سے نکال دیا تھا، بہرحال جب آپ نے قارن سے جنگ کی اور اس کو شکست دے کر بہت سا مالِ غنیمت حاصل کیا تو ان کے اس کارنامہ سے سیدنا عبداللہ بن عامرؓ خوش ہو گئے، اور خراسان کی ولایت پر ان کو مقرر کر دیا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 167)
اس طرح خلیفہ راشد سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مشرق میں تمرد و انقلاب کی تحریکات کا زبردست مقابلہ کیا اور فتوحات کو جاری رکھا۔ ان انقلابات سے مسلمانوں کی قوت متاثر نہیں ہوئی اور نہ خلیفہ کے عزم و حوصلہ میں اس سے کچھ کمی آئی، آپؓ اس کے لیے انتہائی موزوں تھے۔ آپؓ نے اس کا مقابلہ عزم و رائے، انتظامی امور میں تیزی، فوجی کمک کو ارسال کر کے اور ہر کام کو اچھی صلاحیت کے حاملین کے سپرد کر کے کیا۔ یہ حقیقت ہر اس شخص پر بالکل عیاں ہو جاتی ہے جو ان حالات کا تاریخِ طبری، تاریخ ابنِ کثیر اور تاریخِ کلاعی میں مطالعہ کرتا ہے، اور پھر اس میں کسی شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ ان حالات سے نمٹنے کے لیے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ایسے قائدین کا انتخاب فرمانے میں انتہائی کامیاب تھے جنہوں نے فتوحات کی بھرمار لگا دی، یہ بھی معلوم ہے کہ جہاد کی ذمہ داری بڑی گراں تھی اور وہاں پختہ رہنمائی کی شدید ضرورت تھی کیوں کہ جنگی لائنیں پھیلی ہوئی تھیں، فتنے متعدد تھے اور ممالک کے درمیان لمبی مسافت تھی، یہ ساری مشکلات جو سیدنا عثمان بن عفانؓ کو خلافت کے بعد پیش آئیں اور آپؓ نے جس عزم و حوصلہ، سرعت و احتیاط اور جواں مروی کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا، یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپؓ انتہائی قوی شخصیت اور عظیم بصیرت کے مالک تھے، اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اسلامی خلافت کو جو کمزوری اور تزلزل لاحق ہوا اس کو ختم کرنے اور اسلامی خلافت کے رعب و دبدبہ کو ثابت کرنے میں اللہ تعالیٰ کے بعد آپؓ کا سب سے بڑا ہاتھ تھا۔ آپؓ کے عظیم موقف اور شاندار کردار کے ثمرات درج ذیل تھے
- باغیوں کو تابع کرنا اور مسلمانوں کے اقتدار کو ان پر دوبارہ نافذ کرنا۔اسلامی فتوحات کو بغاوت زدہ علاقوں سے آگے بڑھانا تاکہ باغیوں کے لیے راہِ فرار نہ رہے اور فتنوں اور دسیسہ کاریوں کے دروازے بند ہو جائیں۔
- مستقل ٹھوس فوجی اڈوں کا قیام تاکہ اس کے ذریعہ سے اسلامی سرحدوں اور مقبوضہ علاقوں کی حفاظت کی جا سکے۔
اگر خلیفہ راشد حضرت عثمان بن عفانؓ کمزور ہوتے اور قرار داد پاس کرنے پر قادر نہ ہوتے تو کیا عظیم فتوحات، حکیمانہ سیاست، مختلف اقالیم کی تنظیم و انصرام ممکن ہوتا؟
(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد، 1 صفحہ، 408، 409)
جیسا کہ بعض ان حضرات کا خام خیال ہے جو رفض و تشیع، مستشرقین اور ان کے نہج پر چلنے والوں کی جھوٹی روایات کا شکار ہیں۔