روافض زندیق ہے، ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں
اس میں شک نہیں کہ شیخین (سیدنا صدیق اکبر و سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنھما) اکابر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ہیں بلکہ افضل الصحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں، پس ان کو کافر ٹھہرانا بلکہ ان کی تنقیص کرنا کفر و زندقہ اور گمراہی کا باعث ہے۔
محیط میں امام محمد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ رافضیوں کے پیچھے نماز جائز نہیں، کیونکہ وہ خلافت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے منکر ہیں، حالانکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اتفاق ہے۔
خلاصہ یہ کہ جو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا انکار کرے وہ کافر ہے، اور ہر صاحب خواہش اور صاحب بدعت کے پیچھے نماز مکروہ ہے اور رافضیوں کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں۔
پھر صاحب خلاصہ کہتے ہیں کہ ہر وہ خواہش جو کفر کی حد تک پہنچا دے اُس خواہش والے کے پیچھے نماز جائز نہیں، اگر کفر کی حد تک نہ پہنچائے تو نماز جائز ہے لیکن مکروہ۔ اور اصح قول پر یہی حکم اُس شخص کا ہے جو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی خلافت سے انکار کرتا ہے۔
لہٰذا جب ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما کی خلافت سے انکار کفر ٹھہرا تو اُس کا کیا حال ہو گا جو ان کو گالی دے یا ان پر لعنت بھیجے؟
اس تقریر سے صاف ظاہر ہوا کہ شیعہ کو کافر ٹھہرانا احادیث صحیحہ کے مطابق اور طریق سلف کے موافق ہے۔ (ردِ روافض: صفحہ 38)