سیدنا احنف بن قیس رحمۃاللہ کے بعض اوصاف جو آپ کے ساتھیوں میں اثر انداز ہوئے
علی محمد الصلابیحلم و بردباری:
سیدنا احنف رحمۃاللہ انتہائی حلیم الطبع تھے آپ کے حلم و بردباری کی مثال دی جاتی تھی۔ آپ سے حلم و بردباری سے متعلق پوچھا گیا کہ وہ کیا ہے تو آپ نے فرمایا: صبر کے ساتھ ذلت۔ آپ کے حلم پر جب لوگ تعجب کرتے اور پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تو فرماتے: جو آپ لوگ محسوس کر رہے ہیں میں وہ محسوس نہیں کرتا لیکن میں صابر ہوں، میں نے حلم و بردباری قیس بن عاصم منقری سے سیکھی ہے۔
(الاستیعاب: جلد، 3 صفحہ، 1294)
کیوں کہ ان کے ایک بیٹے کو ان کے بھتیجے نے قتل کر دیا۔ قاتل کو باندھ کر ان کے پاس حاضر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: نوجوان کو تم نے خوفزدہ کر دیا ہے۔ پھر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم نے بہت برا کیا، اپنی تعداد کم کر دی، اپنے بازو کمزور کر لیے، اپنے دشمن کو خوش کر دیا، اور اپنی قوم کو ناراض کر لیا۔ پھر لوگوں کو حکم دیا کہ اس کو چھوڑ دو اور مقتول کی والدہ کو دیت پہنچا دو۔ چنانچہ قاتل کو چھوڑ دیا گیا اور وہ چلا گیا۔ قیس اپنی حالت پر بیٹھے رہے آپ کے چہرے پر ذرا بھی تغیر نہیں آیا۔
(وفیات الاعیان: جلد، 2 صفحہ، 188)
ایک شخص نے حضرت احنفؒ سے عرض کیا: اے ابو بحر! مجھے بردباری سکھا دیجیے؟ فرمایا: بھتیجے! بردباری ذلت کا نام ہے، کیا تم اس پر صبر کر سکتے ہو؟ آپ کا قول ہے: میں بردبار نہیں ہوں لیکن بردبار بننے کی کوشش کرتا ہوں۔
(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 306)
آپ کی بردباری کے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص نے آپ کو گالی دی آپ خاموش رہے، اس نے پھر گالی دی آپ خاموش رہے، اس نے پھر گالی دی پھر بھی آپ خاموش ہی رہے، تو اس شخص نے کہا: انہوں نے میری گالیوں کا جواب محض اس وجہ سے نہیں دیا ہے کہ میری ان کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ہے۔
(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 306)
آپ کہا کرتے تھے: جو ایک بات پر صبر نہیں کرتا اس کو کئی باتیں سننی پڑتی ہیں۔ بہت سا غصہ میں پی جاتا ہوں اس خوف سے کہ کہیں صورتِ حال اس سے بھی سنگین نہ ہو جائے۔
(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 306)
آپ کی بردباری ایک طاقتور اور صاحبِ اقتدار کی بردباری تھی، عاجز و کمزور کی بردباری نہیں، ایک معرکہ میں آپ نے شدید قتال کیا تو ایک شخص نے کہا: ابو بحر! بردباری کہاں گئی؟ فرمایا: زندہ کے پاس۔
(قادۃ فتح السند و افغانستان: صفحہ، 306)