کفار سے نشست و برخاست اور میل جول رکھنے کا حکم
دونوں جہان کی سعادت فقط سردار دو جہاںﷺ کی تابعداری سے وابستہ ہے۔ اور آنحضرتﷺ کی متابعت یہ ہے کہ اسلامی احکام بجا لائے جائیں اور کفر کی رسمیں مٹا دی جائیں، کیونکہ اسلام و کفر ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایک کو ثابت و قائم کرنا دوسرے کے دُور ہو جانے کا باعث ہے اور ان دونوں ضدوں کے جمع ہونے کا احتمال محال ہے۔ حق تعالیٰ جل شانہ اپنے حبیبﷺ کو فرماتے ہیں یا أيها النَّبي جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمُ اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کر اور ان پر سختی کر۔
(سورہ تحریم: آیت 9)
پس جب اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے پیغمبروں کو جو خلق عظیم سے موصوف ہے کفار کے ساتھ جہاد کرنے اور ان پر سختی کرنے کا حکم فرمایا تو معلوم ہوا کہ ان پر سختی کرنا خلق عظیم میں داخل ہے۔
پس اسلام کی عزت کفر اور کافروں کی خواری میں ہے۔ جس نے اہلِ کفر کو عزیز رکھا اس نے اہلِ اسلام کو خوار کیا۔ ان کو عزیز رکھنے سے یہ مراد نہیں کہ صرف ان کی تعظیم کریں اور بلند اٹھائیں بلکہ اپنی مجلسوں میں جگہ دینا اور ان کی ہم نشینی کرنا اور ان کے ساتھ گفتگو کرنا، سب اعزاز میں داخل ہے۔ کتوں کی طرح ان کو دور کرنا چاہیئے۔ اور اگر کوئی دنیاوی غرض ان کے متعلق ہو، جو ان کے بغیر حاصل نہ ہوتی ہو، تو پھر بھی بے اعتباری کے طریق کو مد نظر رکھ کر بقدر ضرورت ان کے ساتھ میل جول رکھنا چاہئیے۔ اور کمال اسلام تو یہ ہے کہ اس دنیاوی غرض سے بھی درگزر کریں اور ان کی طرف نہ جائیں۔
حق تعالیٰ جل جلالہ نے اہلِ کفر کو اپنا اور اپنے پیغمبرﷺ کا دشمن فرمایا ہے، پس اللہ تعالیٰ جل شانہ اور رسولﷺ کے دشمنوں کے ساتھ ملنا جلنا اور محبت کرنا بڑا بھاری گناہ ہے۔ کم سے کم ضرر ان کی ہم نشینی اور ملنے جلنے میں یہ ہیں کہ احکام شرعی کے جاری کرنے اور کفر کی رسموں کو مٹانے کی طاقت مغلوب ہو جاتی ہے اور دوستی کی حیاء اس کی مانع ہو جاتی ہے، اور یہ ضرر حقیقت میں بہت بڑا ضرر ہے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی و الفت کرنا خدا تعالیٰ جل شانہ اور اس کے پیغمبرﷺ کی دشمنی تک پہنچا دیتا ہے۔
ایک شخص گمان کرتا ہے کہ وہ اہلِ اسلام سے ہے اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ ایمان و تصدیق رکھتا ہے، لیکن نہیں جانتا کہ اس قسم کے بُرے اعمال اس کے اسلام کی دولت کو لے جاتے ہیں۔ ان نابکاروں کا کام اسلام اور اہلِ اسلام پر ہنسی ٹھٹھا کرنا ہے، ہر وقت اس بات کے منتظر رہتے ہیں کہ اگر قابو پائیں تو ہم کو اسلام سے باہر کر دیں، یا سب کو قتل کر دیں، یا کفر میں لوٹا دیں۔
پس اہل اسلام کو بھی شرم آنی چاہیے کہ: الحياء من الایمان حیاء ایمان سے ہے اور مسلمانی کی عار ضروری ہے۔ ہمیشہ ان کی خواری کے درپے رہنا چاہیئے۔ اہلِ کفر کے ساتھ بغض و عناد رکھنا دولت اسلام کے حاصل ہونے کی علامت ہے، اللہ تعالیٰ جل شانہ نے کلام مجید میں ان کو نجس اور دوسری جگہ رجس فرمایا ہے۔
پس چاہیے کہ اہلِ اسلام کی نظروں میں اہلِ کفر نجس و پلید دکھائی دیں۔ جب ایسا دیکھیں اور جانیں گے تو ضرور ان کی صحبت سے پرہیز کریں گے اور ان کے ساتھ ہم نشینی کرنے کو بُرا سمجھیں گے۔ ان سے کچھ پوچھنے اور اس کے موافق عمل کرنے میں ان دشمنوں کی کمال عزت ہے۔ (ارشادات مجدد الف ثانی: صفحہ 95)