شہادت خلیفہ سوم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (قسط اول) - دفاعِ…

شہادت خلیفہ سوم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (قسط اول)

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 1 از 3

شہادتِ خلیفہ سوم سیدنا عثمانؓ قسط اول:

رسولﷺ نے متعدد بار اس بات کی پیش گوئی فرمائی تھی کہ میرے بعد اس امت میں اختلاف پیدا ہو گا اور یہ اختلاف قتل و قتال تک بھی پہنچ جائے گا۔ رسولﷺ نے اپنی امت میں آنے والے فتنوں کی خبر دی اور فرمایا جب وہ فتنے رونما ہوں تو ان میں داخل اور شمار ہونے سے اجتناب کرنا کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ فتنے تمہیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں زرارہ بن عمرو نخعی نے ایک مرتبہ ایک خواب دیکھا کہ زمین سے ایک آگ نکلی جو ان کے اور ان کے بیٹے کے درمیان حائل ہو گئی انہوں نے اپنا یہ خواب رسولﷺ کو سنایا تو آپ نے اس پر فرمایا۔
اما النار فھی فتنۃ تکون بعدی قال ومال الفتنۃ یا رسولﷺ قال یقتل الناس امامھم ویشتجرون اشتجار اطباق الراس وخالف بین اصابعه دم المؤمن عند المؤمن احلی من الماء یحسب المسیئ انه محسن ان مت ادرکت ابنک و ان مات ابنک ادرکت قال فادع اللّٰہ ان لا تدرکنی فدعاله
ترجمہ: جو آگ تم نے دیکھی ہے اس کی تعبیر ایک فتنہ ہے پوچھا گیا کہ وہ کیسا فتنہ ہو گا تو ارشاد فرمایا کہ لوگ اپنے امام کو قتل کر دیں گے اور اس طرح لڑائیوں اور فتنوں میں داخل ہو جائیں گے جیسے سر کی ہڈیاں ایک دوسرے میں گھسی ہوئی ہیں اور آپﷺ نے اپنی انگلیوں کے درمیان انگلیاں ڈال کر ارشاد فرمایا مؤمن کا خون مؤمن کے نزدیک پانی سے زیادہ خوشگوار ہو گا بد کام کرنے والا یہ خیال کرے گا کہ میں اچھا کام کر رہا ہوں اگر تو مر گیا تو وہ فتنہ تیرے بیٹے کو پکڑے گا اور اگر تیرا بیٹا مر گیا تو وہ فتنہ تجھے پکڑے گا زرارہ نے کہا اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے اس فتنے سے بچائے رکھے رسولﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ 
(استیعاب ماخوذ: ازالہ جلد، 1 صفحہ، 397)
سیدنا عبداللہ بن حوالۃ اسدیؓ کہتے ہیں کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:
من نجا من ثلاثہ فقد نجا قالوا ماذا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال موتی وقتل خلیفۃ مصطبر بالحق یعطیہ ومن الدجال۔
ترجمہ: جو شخص تین باتوں سے محفوظ رہا وہ بس بچ گیا۔
1: میری موت (کے معاملہ میں پھسل نہ جانا)
2: ایک خلیفہ کے قتل پر (اپنے ہاتھ اور منہ کو بند رکھنا) جو حق کے ساتھ اس مصیبت پر صبر کرنے والا ہو گا۔
3: اور دجال (کے فتنے سے بچے رہنا اس کے قریب نہ جانا)
(مستدرک حاکم جلد، 3 صفحہ، 108 تاریخ دمشق جلد، 16 صفحہ، 181) 
30 ہجری کے قریب سیدنا عثمانؓ مدینہ کے ایک کنواں بئر اریس کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے کہ آپؓ کے ہاتھ سے وہ مہر نبوت گر گئی جس سے رسولﷺ اپنے مکتوبات پر مہر لگایا کرتے تھے اور آپﷺ کے بعد حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ بھی اسی سے مہر لگاتے تھے سیدنا عثمانؓ خلیفہ ہوئے تو آپؓ بھی اس سے مہر لگاتے تھے اس پر محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا
(صحیح مسلم جلد، 2 صفحہ، 196)
سیدنا عثمانؓ کو اس کا شدید دکھ ہوا آپؓ نے اس کنویں کا سارا پانی نکال دیا مگر وہ مہر آپؓ کو نہ ملی اس مہر کے گم ہو جانے کے معابعد سیدنا عثمانؓ اور آپؓ کی خلافت آزمائش میں آ گئی اور یہ اشارہ تھا کہ اب فتنے بڑی تیزی سے ابھریں گے۔ 
رسولﷺ کی دی ہوئی فتنوں کی پیشگوئی حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت کے آخری چند سالوں میں کھل کر سامنے آئی فتنے اور اختلافات نے زور پکڑا آپﷺ نے اس فتنے میں جس امام کے شہید ہونے کی پیش گوئی فرمائی وہ امام سیدنا عثمانؓ ہوئے آپؓ خود بھی فرماتے ہیں وہ امام مظلوم میں ہوں آپؓ نے حضرت عبداللہؓ بن مسعود سے کہا کہ رسولﷺ نے فرمایا:
سیقتل امیر وینتزی منتز وانی انا المقتول ولیس عمر انما قتل عمر واحد وانہ یجتمع علی
 (مسند احمد: جلد، 1 صفحہ، 107)
(ازالۃ الخفا عن خلافت الخلفاء: جلد، 1 صفحہ، 482)
ایک امیر قتل کیا جائے گا اور کوئی حملہ کرنے والا حملہ کرے گا (آپﷺ نے جس کے بارے میں یہ بات فرمائی) وہ امیر مقتول میں ہی ہوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نہیں ہیں سیدنا عمرؓ کو ایک شخص نے قتل کیا تھا جبکہ مجھے قتل کرنے والا ایک پورا گروہ ہو گا۔
(تاریخ دمشق: جلد، 16 صفحہ، 182)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ لکھتے ہیں:
رسولﷺ نے ان حدیثوں میں جو حد تواتر کو پہنچ چکی ہیں بیان فرمایا کہ سیدنا عثمانؓ شہید ہوں گے اور ان کی شہادت کے قریب ایک عظیم فتنہ برپا ہو گا جو لوگوں کی وضع اور رسموں کو بدل دے گا اور اس کی آفت عالمگیر ہو گی جو زمانہ کہ اس فتنہ سے پہلے کا ہے اس کو آپﷺ نے طرح طرح کی خوبیوں کے ساتھ موصوف کیا اور جو زمانہ اس کے بعد کا ہے اس کو انواع و اقسام کی برائیوں سے یاد کیا ہے اور اس فتنے کے بیان میں آپﷺ نے انتہاء درجے کی توضیح کی یہاں تک کہ اس بیان کا اس فتنہ پر منطبق ہونا جو واقع ہوا کسی شخص پر پوشیدہ نہ رہا اور حضرت نے اس نہایت واضح عبارت میں یہ بیان فرمایا کہ اس فتنہ سے خلافتِ خاصہ کا انتظام ٹوٹ جائے گا اور زمانہ نبوت کی جو برکتیں باقی ہوں گی وہ چھپ جائیں گی اس بات کو ابھی آپﷺ نے ایسا کھول کر بیان فرمایا کہ اصل حقیقت کے اوپر سے پردہ اٹھ گیا اور حجت الہٰی اس کے ثبوت سے قائم ہوگئی۔
(ازالۃ الخفا: جلد، 1 صفحہ، 379)
صفحہ 1 از 3