شہادت خلیفہ سوم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (قسط اول) - دفاعِ…

شہادت خلیفہ سوم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (قسط اول)

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 3
اس فتنے کے ظہور میں آنے کے جو اسباب تھے وہ یکے بعد دیگرے ابھرتے گئے ایک طرف اسلامی مملکت کا دائرہ بڑھتا جا رہا تھا تو دوسری طرف مسلمان فقر و فاقہ کی زندگی سے نکل کر خوشحالی اور دولتمندی میں داخل ہو رہے تھے دنیاوی آسائش و آرائش ان کے قریب ہوتی جارہی تھی اجلہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین یکے بعد دیگرے اپنے خیمے جنت میں لگا رہے تھے اور نئی نسل اس بات سے پوری طرح واقف نہ تھی کہ ان کے اسلاف نے کن قربانیوں اور جدوجہد سے اسلام کی خدمت کی تھی اور سوکھے پتے کھا کر اللّٰہ کے دین کا پرچم تھامے رکھا تھا ظاہر ہے جب دولت کی ریل پیل ہو جائے مال غنیمت اور فتوحات کے دروازے یکے بعد دیگرے وار ہونے لگیں وہ تقوی بھی باقی نہ رہے جو ان سے پہلوں کا تھا تو پھر اس کے اثرات بھی ظاہر ہو کر رہتے ہیں سیدنا عثمانؓ اس سے بے خبر نہ تھے آپؓ جانتے تھے کہ لوگ ان فتوحات کے نتیجے میں گم ہو جائیں گے اور اپنی منزل کھو دیں گے تو آپؓ انہیں وعظ و نصیحت فرماتے تھے ایک موقع پر آپؓ نے اس طرح نصیحت فرمائی تھی اے لوگو! اللہ نے تمہیں دنیا اس لیے دی ہے کہ تم اس کے ذریعے آخرت کماؤ اس لیے نہیں دی کہ تم اسی کہ ہو کر رہ جاؤ یہ دنیا فنا ہو جائے گی جبکہ آخرت باقی رہنے والی ہے دنیاوی خواہشات اور آسائشوں میں پڑ کر اپنی آخرت سے غافل نہ ہو جانا۔ 
سیدنا عمرؓ کے دورِ خلافت میں یہود و نصاریٰ اور دوسری قومیں جس طرح شکست سے دو چار ہوئیں ان کا اقتدار مسلمانوں کو ملا وہ اس پر سخت غصے میں تھے اور ان کا دل انتقام کے لیے بے چین تھا سیدنا عمرؓ کے بعد بعض علاقوں میں بغاوتیں پھیلائی گئیں مگر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے احسن تدبیر سے ان بغاوتوں کو ختم کیا اور انہیں اپنی سازش میں کامیاب نہ ہونے دیا بظاہر یہ فتنہ گو دبا نظر آرہا تھا مگر اندر ہی اندر یہ بڑی تیزی سے اپنے منصوبہ پر کام کر رہا تھا اس کا پہلا قدم یہ تھا کہ مسلمانوں کے خلیفہ اور اس کے گورنروں کے خلاف ایسا خطرناک پروپیگنڈہ کیا جائے جس کے نتیجے میں لوگ ان کی جانب مائل ہو جائیں اور انہیں ان کی ہمدردی مل جائے نیز سیدنا عثمانؓ اور حضرت علیؓ اور ان کے معتقدین کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کی جائے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت کا نعرہ لگا کر خلیفہ وقت سے چھٹکارا حاصل کیا جائے اور انہیں آپس میں اتنا الجھا دیا جائے کہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی قوت اور فتوحات کے قدم کچھ عرصہ کے لیے رک جائیں اس تحریک میں گو اسلام کے نام لیواؤں کی ایک بڑی تعداد کے شامل ہونے کا انکار نہیں مگر درحقیقت ان کے پیچھے یہود و نصاریٰ اور منافقین تھے۔
سیدنا عثمانؓ کے خلاف برپا کی جانے والی اس تحریک میں عبداللہ بن سباء کا مرکزی کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اور مؤرخین نے حضرت عثمانؓ کی شہادت میں اس کا کردار بے نقاب کیا ہے۔
محمد بن جریر طبری(310 ہجری) نے لکھا:
ابنِ سباء نے یہ بات پھیلائی کہ گزشتہ زمانے میں بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام گزرے اور ہر نبی کا ایک وصی (جانشینی کی جس کے بارے وصیت کی گئی ہو) ہوتا ہے اور رسولﷺ کے وصی سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں اور رسولﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور علی خاتم الاوصیاء ہیں اس نے یہ بھی کہا کہ اس سے زیادہ ظالم کون ہے جس نے رسولﷺ کی وصیت پر عمل نہ کیا اور رسول اللہﷺ کے وصی کے حق کو غصب کرکے امت کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا پھر اس نے کہا کہ حضرت عثمانؓ نے خلافت پر ناحق قبضہ کر رکھا ہے جبکہ یہاں رسول اللہﷺ کا وصی خود موجود ہے اس لیے تم اس کی مخالفت کرو اور اسے معزول کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہو اور اس کام کا آغاز اپنے اپنے علاقوں کے حکام پر طعن و تشنیع سے کرو اور یہ ظاہر کرو کہ تم نیک کام کا حکم دیتے ہو اور برے کام سے روکتے ہو پھر اس طرح تم عوام کو اپنی طرف مائل کر سکو گے جب وہ تمہاری طرف مائل ہو جائیں تو پھر انہیں اس کام کے لیے بلاؤ۔
 (طبری: جلد، 3 صفحہ، 346)
مؤرخ شہیر حافظ ابن کثیرؒ سیف بن عمر کے حوالے سے لکھتے ہیں:
ان سبب تالب الاھزاب علی عثمانؓ رجلا یقال له عبداللہ بن سبا کان یھودیا فاظھر الاسلام وصار الی مصر فاوحی الی طائفۃ من الناس کلاما اخترعه من عند نفسه مضمونه انہ یقول للرجل الیس قد ثبت ان عیسی بن مریم سیعود الی ھذہ الدنیا فیقول الرجل نعم فیقول لہ فرسول اللّٰہ افضل منہ فما تنکر ان یعود الی ھذہ الدنیا وھو اشرف من عیسیٰ ابن مریم ثم یقول وقد کان اوصی الی علی بن ابی طالب فمحمد خاتم الانبیاء و علی خاتم الاوصیاء ثم یقول فھو احق بالامرۃ من عثمانؓ و عثمانؓ معتمد فی ولایۃ ما لیس لہ فانکروا علیہ واظھروا الامر بالمعروف والنھی عن المنکر فافتتن بہ بشر کثیر من اھل مصر و کتبوا الی جماعات الی عوام اھل الکوفۃ و البصرۃ فتمالوا علی ذالک وتکاتبوا فیہ وتواعدوا ان یجتمعوا فی الانکار علی عثمانؓ وارسلوا الیہ من یناظرہ ویذکر لہ ما ینقمون علیہ من تولیتہ اقربائہ وذوی رحمہ و عزلہ کبائر الصحابۃ فدخل ھذا فی قلوب کثیر من الناس۔
صفحہ 2 از 3