شہادت خلیفہ سوم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (قسط اول) - دفاعِ…

شہادت خلیفہ سوم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (قسط اول)

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 3
ترجمہ: حضرت عثمانؓ کی دشمنی پر لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنے کا طریقہ کار یہ بنا کہ ایک شخص جسے عبداللہ بن سباء کہا جاتا ہے اور وہ یہودی تھا اس نے کہا کہ وہ مسلمان ہو گیا ہے اور پھر مدینہ سے مصر چلا گیا اس نے کچھ لوگوں سے کچھ خفیہ باتیں کیں جسے اس نے خود وضع کیا تھا اور وہ کہنے لگا کہ کیا یہ ثابت نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عنقریب اس دنیا کی طرف دوبارہ لوٹیں گے وہ آدمی کہے گا ہاں تو وہ اسے کہے گا کہ رسولﷺ تو ان سے افضل ہیں تو تم ان کے دوبارہ آنے کا کیوں انکار کرتے ہو پھر وہ کہنے لگا کہ محمدﷺ تو خاتم الانبیاء ہیں اور سیدنا علی بن ابی طالبؓ خاتم الاوصیاء ہیں پھر وہ کہنے لگا کہ حضورﷺ نے سیدنا علیؓ کو اپنا وصی بنایا ہے اور وہ حضرت عثمانؓ کی بہ نسبت اس خلافت کے زیادہ حق دار ہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تو خلافت میں زیادتی کرنے والے ہیں جو انہیں نہیں کرنی چاہیے پس ان لوگوں نے حضرت عثمانؓ پر عیب لگائے اور بظاہر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اظہار کیا اس سے بہت سے اہلِ مصر ان کے اٹھائے فتنے میں پڑ گئے اور انہوں نے کوفہ اور بصرہ کے لوگوں کو اور جماعتوں کی طرف خطوط لکھے تو وہ ان کی مدد کے لیے تیار ہو گئے اور آپس میں خط و کتابت کی اور وعدے معاہدے ہوئے کہ وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر عیب لگائیں گے اور پھر انہوں نے اپنے آدمیوں کو حضرت عثمانؓ کے پاس بھیجا کہ وہ ان سے اس بارے میں بات چیت کریں اور بتائیں کہ وہ آپ سے اس لیے ناراض ہیں کہ انہوں نے اپنے قرابت داروں کو کیوں عہدے دیے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کیوں معزول کیا ان کے پروپیکینڈے سے بہت سے لوگ متاثر ہو گئے۔
( البدایہ: جلد، 7 صفحہ، 168)
یہ بات صرف اہلِ سنت مورخین نہیں کہتے بلکہ شیعہ مؤرخین بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے خلاف بات اسی عبداللہ بن سباء نے اٹھائی تھی۔
شیعہ مؤرخ مرزا محمد تقی سپر لکھتا ہے:
عبداللہ ابن سباء مرد یہود بود در زمان عثمانؓ بن عفان مسلمانی گرفت ۔۔۔۔ چوں مسلمان شد خلافتِ عثمانؓی در خاطر او پسند نے فتاد پس در مجالس و محافل اصحاب بہ نشستے وقبائح اعمال و مثالب عثمانؓ را ہرچے تواناتے باز گفتے ۔۔۔ عبداللہ بمصر آمد ۔۔۔۔ گفت ہاں اے مردم گر نشیندہ اید نصاریٰ گویند ۔۔۔ چوں ایں سخن در خاطر پاجائے گیر ساخت گفت خداوند صد و بیست و چہار ہزار پیغمبر بدیں زمین فرد فرستاد ہر پیغمبرے را وزیرے و خلیفتے بود چگونہ می شود پیغمبرے از جہاں برود خاصہ وقتیکہ صاحب شریعت باشد ونائبے و خلیفتے بخلق نگمار دوکار امت کا مہمل بگزار ہمانا محمد را علی علیہ السلام وصی و خلیفہ بود۔۔۔۔ علی علیہ السلام خلیفہ محمد است وہ عثمانؓ ایں منصب را غصب کردہ و باخود بستہ عمر نیز بنا حق ایں کار بشوری افگند عبد الرحمن بن عوف بہوائے نفس دست بر دست عثمانؓ زود دست علی را کہ گرفتہ بود او بیعت کند رہا داد ۔۔۔۔۔ ہنوز آں نیر نیست کہ بتوانیم عثمانؓ را دفع داد واجب میکند کہ چندانکہ بتوانیم عمال عثمانؓ را کہ آتش جور و ستم را وامن ہمی زنند ضعیف داریم و قبائح اعمال ایشاں رابر عالمیاں روشن سازیم و دلہائے مردم را از عثمانؓ و عمال او بگر دانیم ۔۔۔۔ و او را از خلیفتے خلع فرمانید
ترجمہ: عبداللہ بن سباء ایک یہودی شخص تھا سیدنا عثمانؓ کے دور میں (منافقانہ طور پر) مسلمان ہوا اسے حضرت عثمانؓ کی خلافت اچھی نہیں لگتی تھی اپنے دوست یار کی مجلسوں اور محفلوں میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی ہر ممکنہ برائیاں کرتا تھا پھر وہ مصر آیا اور یہاں کے لوگوں کو یہ کہہ کر کان بھرے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں آ سکتے ہیں تو ان سے زیادہ افضل محمدﷺ کیوں نہیں آ سکتے پھر اس نے کہا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے اور ہر پیغمبر کا کوئی وزیر اور جانشین ہوا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حضورﷺ دنیا سے اس طرح جائیں کہ ان کا وزیر و خلیفہ تک نہ ہو اور وہ اپنی امت کو یوں بے کار ہی چھوڑ کر چلا جائے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس پیغمبر کے وصی اور خلیفہ تھے سیدنا عثمانؓ نے اس منصب خلافت پر بزور قوت قبضہ کر رکھا تھا حضرت عمر فاروقؓ نے بھی ناحق طور پر اس معاملہ کو مجلس شوریٰ کے سپرد کر دیا اور حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ نے خواہش نفسانی کے تحت سیدنا عثمانؓ کی بیعت کر لی اور حضرت علیؓ کو بھی زبردستی بیعت کرا کر ہی چھوڑا۔ اب شریعت ہم پر لازم کرتی ہے کہ ہم سس باب میں کسی کی رعایت نہ کریں۔ اگرچہ ہمارے پاس اتنی طاقت نہیں کہ ہم حضرت عثمانؓ کو بزورِ قوت خلافت سے اتار دیں لیکن اتنا تو کر سکتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے گورنروں کو ظلم و ستم کے نام پر بدنام کرکے ان کو کمزور کردیں اور ان کی برائیوں کا پروپیگنڈا کریں اور عوام کے دلوں کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور اس کے کارندوں سے بر گشتہ کر دیں سو انہوں نے کئی مقامات پر خطوط لکھے اور ابنِ سعد بن ابی سرح کے خلاف پروپیگنڈہ کیا لوگوں کو ان کے خلاف منظم کیا تاکہ وہ ایک گروہ ہوکر مدینہ آئیں اور سیدنا عثمانؓ کو خلافت سے نکالیں
(ناسخ التواریخ جلد، 3 صفحہ، 237/238)
جو شیعہ اور ادیب قسم کے لوگ عبداللہ بن سباء کو ایک فرضی اور خیالی شخص قرار دے رہے ہیں انہیں لازم ہے کہ وہ مستند شیعہ علماء کی کتابیں ملاحظہ کر لیں۔

صفحہ 3 از 3