بحری جنگ کی سب سے پہلی اجازت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے دی
علی محمد الصلابیامیرِ شام سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما برابر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے بحری جنگ کی اجازت پر اصرار کرتے رہے، اور یہ بیان کرتے رہے کہ روم حمص سے انتہائی قریب ہے، اور حمص کی بعض بستیوں میں ان کے کتوں کے بھونکنے کی آواز اور مرغ کی پکار سنائی دیتی ہے۔ یہاں تک کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ باتیں اثر انداز ہونے لگیں، آپؓ نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو تحریر فرمایا: سمندر اور اس میں سفر کرنے والے سواروں کی کیفیت و تفصیل لکھ کر بھیجو، میری طبیعت اس طرف مائل ہو رہی ہے، چنانچہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے جواب میں تحریر فرمایا: میں نے دیکھا بڑی مخلوق پر چھوٹی مخلوق سوار ہو رہی ہے، اگر وہ ٹھہر جائے تو دل پھٹ جائے، اور اگر حرکت میں آ جائے تو عقلوں کو حیران کر دے، اس کے اندر یقین میں کمی آتی ہے اور شک میں اضافہ ہوتا ہے، لوگ لکڑی کے اوپر کیڑے کی طرح ہوتے ہیں، اگر مائل ہو جائے تو ڈوب جائیں اور بچ جائیں تو خوش ہو جائیں۔
جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن العاصؓ کی یہ تحریر پڑھی تو حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: سمندری جنگ کی اجازت نہیں، اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا میں کبھی کسی مسلمان کو سمندر پر سوار نہ کروں گا۔ اللہ کی قسم ایک مسلمان میرے نزدیک روم کے مال و متاع سے زیادہ محبوب ہے، خبردار اب ایسا مطالبہ مجھ سے نہ کرنا۔ میں نے تم کو پیشگی بتلا دیا، علاء کو میری طرف سے جو لاحق ہوا وہ تمہیں بخوبی معلوم ہے، حالاں کہ اس سلسلہ میں میں نے پیشگی ان سے کچھ نہیں کہا تھا۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 258)
حضرت عمر فاروقؓ کے اس نظریہ سے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ مطمئن نہ ہوئے، اور روم سے متعلق اپنی رائے پر قائم رہے اور اس کو فتح کرنے کی خواہش آپؓ کے اندر باقی رہی، چنانچہ جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مسندِ خلافت پر جلوہ افروز ہوئے تو سیدنا امیرِ معاویہؓ نے اس سلسلہ میں گفتگو شروع کی، اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اس کی اجازت دینے پر اصرار کیا، سیدنا عثمان بن عفانؓ نے ان کے جواب میں فرمایا: میں اس وقت موجود تھا، جب تم نے سیدنا عمر بن خطابؓ سے بحری جنگ کی اجازت طلب کی تھی اور انہوں نے اس کا تمہیں جو جواب دیا تھا۔
پھر دوبارہ حضرت امیرِ معاویہؓ نے آپؓ کو اس سلسلہ میں لکھا اور قبرص تک سمندری سفر کو آسان اور معمولی ظاہر کیا، اس کے جواب میں حضرت عثمان بن عفانؓ نے ان کو لکھا کہ اگر تم اپنے ساتھ اپنی بیوی کو لے جاتے ہو تو اجازت ہے ورنہ نہیں۔
(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ، د سلیمان بن صالح: جلد، 2 صفحہ، 538)
اسی طرح سیدنا عثمانِ غنیؓ نے اجازت دیتے ہوئے یہ شرط لگائی کہ نہ تو اس مہم کے لیے لوگوں کا انتخاب جبراً کریں گے اور نہ قرعہ کے ذریعہ سے، بلکہ لوگوں کو اختیار ہو گا کہ جو خود شریک ہونا چاہے اس کو اپنے ساتھ لے جائیں، اور اس کا خیال رکھیں۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 260)
جب سیدنا امیرِ معاویہؓ نے سیدنا عثمان بن عفانؓ کا خط پڑھا تو قبرص پر بحری چڑھائی کی تیاری شروع کر دی، اور ساحلی علاقوں کے لوگوں کو فرمان جاری کیا، کشتیاں درست کر لیں اور عکا کے ساحل کے قریب لائی گئیں تاکہ وہاں سے مسلمان قبرص کی طرف روانہ ہوں۔
(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد، 2 صفحہ، 538)