عورت مرتدہ ہو جائے تو اس کے نکاح کا حکم
سوال: خالدہ نکاح توڑنے کے لئے مرتدہ ہو گئی حالانکہ اس طرح نکاح فسخ نہیں ہوتا تو کیا وہ وراثت کی حقدار ہے؟
جواب: اصل اور ظاہر الروایہ تو یہی ہے کہ ارتداد سے نکاح فسخ ہو جاتا ہے، مگر چونکہ عورتوں نے اس کو مفارقت کا آلہ بنا لیا ہے اس لئے بعض علماء نے حکم فرمایا کہ نکاح تو فسخ نہیں ہو جاتا ہے لیکن عورت کو تجدید اسلام پر مجبور کیا جائے گا، پھر دیکھا گیا کہ اس میں بھی مشکلات کا سامنا ہے اور جبر کرنا دشوار ہے اس لئے فتویٰ دیا گیا کہ نکاح فسخ نہیں ہوتا، تاہم جب تک وہ تجدید اسلام اور پھر تجدید نکاح نہ کرے اُس وقت تک صحبت وغیرہ بھی ممنوع ہے لیکن دوسری جگہ نکاح درست نہیں۔ یہ سب کچھ بطورِ سزا اور تعزیر کے ہے اور یہی غایت ہے۔ لہٰذا صورت موجودہ میں عورت کو مستحق وراثت قرار دینا اس عالمیت کے منافی ہے، اس سزا کے ذیل میں مرتدہ کا نفقہ بھی ساقط ہو جاتا ہے، نیز اختلاف دین کا مانع ارث ہونا مصرح و منصوص ہے۔ (فتاویٰ عالمگيريہ اردو: جلد 10 صفحہ 454)