شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط دوم) - دفاعِ اہلِ…

شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط دوم)

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 3
حضرت عثمان غنیؓ کو جب معلوم ہوا کہ اندرون خانہ کوئی سازش ہو رہی ہے تو آپؓ نے قسم کھا کر کہا کہ فتنے کی چکی اب بس گھومنے والی ہے، حضرت عثمانؓ کے لیے اچھا ہے کہ وہ دنیا سے رخصت ہو جائیں اور ان کا شمار ان لوگوں میں نہ ہو جائے جو فتنے بھڑکانے والے ہیں۔ 
(طبری جلد، 3 صفحہ، 249) 
پھر آپؓ نے اپنے گورنروں کے بارے میں پھیلائی جانے والی خبروں کے بارے میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا۔ سب کی رائے یہ تھی کہ ان خبروں کی تحقیق کے لیے ایک جماعت بھیجی جائے تا کہ اس کے سچ یا جھوٹ ہونے کا پتہ چلے چنانچہ حضرت عثمانِ غنیؓ نے مختلف علاقوں میں اپنے اصحاب بھیجے۔
 (تاریخ طبری: جلد، 5 صفحہ، 348) 
آپؓ نے جن لوگوں کو اس کام پر مقرر فرمایا ان میں
1: حضرت محمد بن مسلمہؓ تھے جن کی دیانت و شرافت مسلّمہ تھی اور ان کی تفتیش پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی اعتماد فرماتے تھے، آپؓ نے انہیں کوفہ بھیجا۔
2: حضرت اسامہ بن زیدؓ کو منتخب کیا۔ یہ وہی سیدنا اسامہؓ ہیں جنہیں حضورﷺ نے اپنے آخری دنوں میں ایک فوج کا امیر بنایا تھا اور آپؓ کی قیادت و امارت میں لشکر بھیجنے کی وصیت فرمائی تھی۔ آپؓ نے انہیں بصرہ بھیجا۔
3: حضرت عمار بن یاسرؓ ہیں، جن کی عظمت و جلالت کسی مسلمان سے مخفی نہیں۔ آپؓ نے انہیں مصر بھیجا۔
4: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جن کی بزرگی اور دیانتداری میں کوئی شبہ نہیں۔ آپؓ نے انہیں شام بھیجا اور ان کے علاؤہ دوسرے ذمہ دار اصحابؓ کو دوسرے علاقوں کی طرف روانہ فرمایا۔ انہوں نے پوری تحقیق کے بعد آ کر بتایا کہ یہ صرف پروپیگنڈہ ہے جو آپؓ کے گورنروں کے خلاف کیا جارہا ہے، ہم نے وہاں ایسی کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں دیکھی اور نہ ہی وہاں کے خواص و عوام کو کسی ناخوش گوار معاملہ کا علم ہے۔ مسلمانوں کو اپنے معاملات پر اختیار ہے اور ان کے حکام ان کے درمیان عدل و انصاف کرتے ہیں اور ان کی خبر گیری کرتے ہیں۔ 
(طبری جلد، 3 صفحہ، 347)
جبکہ آپؓ کے مخالفین چاہتے ہیں کہ اسلامی خلافت کے بارے میں مسلمانوں کو فتنہ میں ڈال دیا جائے۔ سیدنا عثمانؓ نے پوچھا کہ ان فتنہ بازوں اور مملکت اسلامیہ کے خلاف خطرناک کھیل کھیلنے والوں سے کس طرح نمٹا جائے. آپؓ کے بعض رفقاء نے ان کے ساتھ سختی سے کام لینے پر زور دیا۔ آپؓ نے فرمایا کہ میری رائے یہ ہے کہ سختی سے کام نہ لیا جائے، البتہ حدود اللہ میں کسی نے کوتاہی کی تو اس کے بارے میں تساہل نہ برتا جائے۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے باوجود اس کے کہ یہ صرف پروپیگنڈہ تھا آپؓ نے مختلف شہروں کے لوگوں کے نام ایک خط لکھا تا کہ ان علاقوں کے لوگوں پر بھی اس پروپیگنڈے کی حقیقت کھل جائے۔ آپؓ نے لکھا کہ
میں نے تمام حکام کے لیے لازم کر دیا ہے کہ وہ ہر موسمِ حج میں میرے ساتھ ملاقات کریں اور جب سے میں خلیفہ ہوا ہوں اس وقت سے میں نے ملت اسلامیہ کے لیے یہ اصول بنا دیا ہے کہ نیکی کا حکم دیا جائے اور برے کاموں سے روکا جائے، اس لیے جو بھی میرے سامنے اور میرے حکام کے سامنے مطالبہ حق پیش کرے گا وہ حق ادا کیا جائے گا اور میری رعایا کے حقوق میرے اہلِ و عیال کے حقوق پر مقدم ہوں گے۔ نیز اہلِ مدینہ کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ کچھ لوگ اہلِ مدینہ کو برا بھلا کہہ رہے ہیں اور کچھ لوگ مار پیٹ بھی کر رہے ہیں تو پوشیدہ حالات میں طعن کرنا ملامت کرنا، گالی دینا اور زد و کوب کرنا ایک انتہائی برا فعل ہے اور جو کوئی کسی حق کا دعویدار ہو وہ موسمِ حج میں میرے پاس آئے اور اپنا حق حاصل کرے خواہ اس کا تعلق مجھ سے ہو یا میرے کسی گورنر سے یا پھر خود ہی تم اسے معاف کرو تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ معاف کرنے والوں کو جزائے خیر دے گا۔ 
(طبری جلد، 3 صفحہ، 348) 
آپؓ کا گرامی نامہ جب مختلف شہروں کے لوگوں کے سامنے پڑھا گیا تو عوام رونے لگے اور انہوں نے آپؓ کے حق میں دعائیں کیں اور کہنے لگے کہ مصیبت کے آثار نظر آرہے ہیں (ایضاً)
پھر جن سازشی لوگوں کے آپؓ پر الزام لگائے گئے آپؓ نے ان پر پوری صفائی پیش کی اور ان کی ہر بات کا جواب دیا انہیں مسلمانوں میں دراڑیں پیدا کرنے سے روکا اور کوشش کی کہ وہ اپنی اس شرارت سے باز آجائیں مگر یہ لوگ اپنی شرارت سے باز نہ آئے اور لوگوں کو آپؓ کے خلاف بھڑکاتے رہے۔
پھر سیدنا عثمانؓ نے مختلف شہروں کے گورنروں کو اپنے پاس بلایا تا کہ ان سے بھی مشاورت کی جائے ان حضرات نے اپنی اپنی رائے سے آپؓ کو آگاہ کیا آپؓ نے ان کی بات سنی اور حمد و ثناء کے بعد ان سے فرمایا تم نے مجھے جو مشورے دیے ہیں وہ میں نے سن لیے تاہم یاد رکھو کہ ہر بات کو انجام دینے کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے اور وہ بات جس کا امت کو شدید اندیشہ ہے وہ تو ہو کر رہے گی اور فتنہ کا جو دروازہ بند ہے اسے نرمی اور صبر و تحمل کے ساتھ بند رکھنے کی کوشش کی جائے، تاہم اللہ کی حدود اور قوانین کی حفاظت میں کوئی کمی کوتاہی نہیں ہو گی۔ اللہ تعالیٰ گواہ ہے کہ میں نے اپنی ذات اور لوگوں کی خیر و بھلائی کے لیے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ تم لوگوں کو فتنہ فساد کی طرف جانے سے روکو، ان کے حقوق ادا کرتے رہو اور ان سے درگزر کا معاملہ کرو۔
 (طبری: جلد، 3 صفحہ، 349)
صفحہ 2 از 3