شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط دوم) - دفاعِ اہلِ…

شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط دوم)

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 3
پھر آپؓ نے اپنے گورنروں کو اہم نصیحتیں فرما کر رخصت کیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ان ہدایات پر عمل کریں. حضرت امیر معاویہؓ جب واپس ہونے لگے تو انہوں نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے سیدنا عثمان غنیؓ سے عرض کیا کہ ان حالات میں آپؓ کا یہاں ٹھہرنا مناسب نہیں، بہتر ہے کہ کچھ عرصے کے لیے میرے پاس ملک شام آجائیں۔ سیدنا عثمانؓ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ میں کسی قیمت پر بھی حضورﷺ کی ہمسائیگی کو نہیں چھوڑ سکتا اگرچہ اس میں میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اگر آپ اجازت دیں تو آپؓ اور اہلِ مدینہ کی حفاظت کے لیے فوج بھیج دی جائے، آپؓ نے فرمایا کہ نہیں! ان کے یہاں آنے اور رکنے سے یہاں کے معاشی حالات پر اثر پڑے گا اور میں نہیں چاہتا کہ اس سے حضورﷺ کے پڑوسیوں (یعنی اہلِ مدینہ) کو تکلیف پہنچے، اور میں انہیں ہرگز کسی تنگی میں نہیں اتارنا چاہتا. سیدنا معاویہؓ نے کہا کہ حالات بتا رہے ہیں کہ آپؓ پر اچانک حملہ ہو گا اور پھر آپؓ کو جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سیدنا عثمانؓ نے فرمایا کہ میرے لیے اللہ کافی ہے اور وہی سب سے اچھا کارساز ہے
(طبری: جلد، 3 صفحہ، 352) 
انا لا ابیع جوار رسول اللہ بشئ ولو کان فیہ قطع خیط عنقی ۔۔۔۔ قال عثمان لا اقترن علی جیران رسول اللہ الارزاق بجند تساکنھم ولا اضیق علی اھل ہجرۃ والنصرۃ ۔۔۔۔ قال عثمان حسبی اللہ ونعم الوکیل 
(تاریخ طبری) 
انہی دنوں حج کے ایام بھی قریب تھے مصر سے غافقی بن حرب کی قیادت میں پانچ سو کے قریب لوگ مکہ کی جانب چل پڑے ادھر اہلِ کوفہ اور اہلِ بصرہ بھی ایک بڑی تعداد لے کر مدینہ کے راستے مکہ کی جانب چلے۔ یہ تینوں گروپ اپنے اپنے مقاصد کے تحت چلے تھے لیکن ان سب کا مشترکہ مقصد حضرت عثمانِ غنیؓ کی خلافت کا خاتمہ تھا۔ کوفہ والے سیدنا طلحہ بن عبیداللہؓ کو پسند کرتے تھے، بصرہ کے لوگ سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کو اور مصر کے لوگوں نے سیدنا علیؓ کو منتخب کیا ہوا تھا، چنانچہ ہر جماعت کا ایک ایک وفد اپنی اپنی پسندیدہ شخصیت کے پاس گیا۔ اہلِ مصر جب حضرت علیؓ کے پاس آئے اور اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں نکال باہر کیا اور فرمایا کہ اللہ کے رسولﷺ کی زبان سے تم ملعون لوگ ہو۔ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما نے بھی انہیں سخت لہجے میں جواب دیا تو انہیں احساس ہوا کہ وہ اپنے مقصد میں اس طرح کامیاب نہیں ہو سکتے۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ کے ایک بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے عامل کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا تو آپؓ نے ان کا مطالبہ مان لیا تھا۔ سیدنا عثمانؓ نے محمد بن مسلمہؓ کو بلا کر کہا کہ ان سے جا کر کہو کہ وہ جو چاہتے ہیں انہیں مل جائے گا۔
اذھب الیہم فارددھم عنی واعطھم الرضی واخبرھم انی فاعل باالامور التی طلبوا ونازع عن کذا بالامور التی تکلموا فیھا۔
(طبقات ابن سعد: جلد، 3 صفحہ، 47)
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے بعض اقدامات کے باعث یہ فتنہ اٹھا تھا، ان کی یہ بات قابلِ تسلیم نہیں۔ درحقیقت یہ ایک سازشی گروہ کی تخریب کاری کی تحریک تھی اور انہوں نے چند باتوں کو عنوان بنا کر سیدنا عثمانؓ کی کردار کشی شروع کی تھی۔
فتنہ پرداز لوگوں کی یہ چال تھی کہ حضورﷺ کے بعض جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا نام استعمال کر کے عام اور سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کیا جائے اور ان کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کر دیا جائے۔ حضرت امام آجریؒ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت علی حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللّٰہ عنہم کو ان سازشی گروہ کے فتنہ سے محفوظ رکھا ان ظالموں نے ان کا نام اس لیے استعمال کیا کہ عام مسلمان ان کے دھوکے میں آجائیں اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں تاہم اللہ نے اس فتنہ سے ان صحابہ رضی اللہ عنہم کو بچا لیا۔

صفحہ 3 از 3