Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےصحیح احادیث موجود ہیں یا نہیں؟

  مولانا علی معاویہ

مرزا علی جہلمی اور سیف الاسلام جھنگوی نامی رافضی کے جاہلانہ اعتراضات کا رد

پارٹ 1

کچھ دن پہلے میں نے تقیہ باز شیعہ انجنیئر مرزا کے خلاف اپنے یوٹیوب چینل پر ایک وڈیو کلپ اپلوڈ کی تھی جس میں اس اعتراض کا مختصر رد تھا کہ سیدنا معاویہؓ کے فضائل میں کوئی روایت نہیں۔

نوٹ: وڈیو نیچے موجود ہے۔

اس وڈیو کے رد میں سیف الاسلام جھنگوی نامی رافضی نے ایک پوسٹ بنا کر لگا ڈالی جس میں اس نے فضول کی ابحاث چھیڑ کر لوگوں کے ذہن کو منتشر کرنے کی کوشش کی، کیونکہ اس کا جواب کافی تفصیلی ہوگا اس لیے جواب کے طوالت کے خوف سے میں جھنگوی رافضی کی اس پوسٹ کا رد مختلف پارٹس میں کرونگا ان شاءاللہ۔

اس پوسٹ میں اس پوائنٹ پر بات کرونگا کہ ‘‘سیدنا معاویہؓ کے فضائل میں نبی کریمﷺ سے صحیح احادیث موجود ہیں یا نہیں۔

اب آتے ہیں پہلے پوائنٹ کی طرف!

سیدنا معاویہؓ کے فضائل میں نبی کریم ﷺ سے صحیح حدیث نہ ہونے کی حقیقت

سیدنا معاویہؓ سے بغض رکھنے والے رافضی اور اہلسنت میں گُھسے ہوئے تقیہ باز رافضی ان کے فضائل کے انکار میں یہ قول نقل کرتے ہیں کہ

لا يصح في فضل معاوية حديث

لا يصح عن النبي صلى الله عليه وسلم في فضل معاوية شي

یعنی سیدنا معاویہؓ کے فضائل میں نبی کریمﷺ سے کوئی صحیح روایت نہیں۔

الجواب: یہ قول امام اسحاق بن راھویہؒ کا ہے جس کو کافی محدثین نے نقل کیا ہے، لیکن بغض معاویہ کے مریض اس ایک ہی قول کو مختلف کتابوں سے نقل کرکے یہ تاثر دیتے ہیں کہ سارے محدثین ہی سیدنا معاویہؓ کے فضائل کے منکر ہیں۔

اب آتے ہیں اس قول کی طرف۔

1۔ امام اسحاق بن راھویہؒ کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریمﷺ سے حضرت امیر معاویہؓ کی فضیلت میں کوئی‘‘صحیح روایت’’ نہیں، یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ روایات کو قبول کرنے کے لئے صرف صحیح  کا ہونا ضروری نہیں ہوتا، اہل علم کے نزدیک روایات کی دوسری اقسام بھی قبول کی جاتی ہیں۔

امام اسحاق بن راھویہؒ نے حضرت امیر معاویہؓ کی فضیلت میں حسن روایات ہونے کا انکار نہیں کیا۔

حضرت امیر معاویہؓ کی فضیلت میں حسن روایات تو کئی کتب احادیث موجود ہیں، جس کا کوئی بھی اہل علم انکار نہیں کر سکتا۔

جو لوگ امام اسحاق بن راھویہؒ کے قول سے یہ سمجھتے ہیں کہ معاویہؓ کے فضائل کی ساری روایات ضعیف یا موضوع ہیں تو وہ اصول حدیث سے ناواقف ہے۔ جیسا کہ علامہ عبد الحی لکھنویؒ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ 

كثيرا مَا يَقُولُونَ لَا يَصح وَلَا يثبت هَذَا الحَدِيث ويظن مِنْهُ من لَا علم لَهُ انه مَوْضُوع اَوْ ضَعِيف وَهُوَ مَبْنِيّ على جهلة بمصطلحاتهم وَعدم وُقُوفه على مصرحاتهم  

الرفع والتكميل جلد 1 صفحہ 191

 شاملہ کا لنک

محدثین اکثر اس طرح کہتے ہیں‘‘ لا یصح’’ اور ‘‘لا یثبت’’ کہ یہ حدیث صحیح نہیں یا ثابت نہیں، اور اس سے لا علم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے یا ضعیف ہے۔  اس کی بنیاد حدیث کی اصطلاحات سے جاہل ہونا اور محدثین کی تصریحات سے ناواقفیت ہے۔

تو جو لوگ امام اسحاقؒ کے قول سے یہ سمجھتے ہیں کہ سیدنا معاویہؓ کے فضائل کی ساری احادیث موضوع یا ضعیف ہیں وہ کم علم اور اصول حدیث سے ناواقف ہیں۔

2۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی محدث کو کوئی حدیث نہیں پہنچی ہوتی، یا اس محدث کی شرائط سخت ہوتی ہیں جس کی وجہ سے کافی صحیح روایات اس کے شرائط پر پورا نہیں اترتیں، تو وہ ان کو صحیح نہیں سمجھتا۔ تو ان وجوہات میں سے کوئی وجہ ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے امام اسحاقؒ نے ان روایات کے صحیح ہونے کا انکار کیا۔

اس کے برعکس کافی محدثین سیدنا معاویہؓ کے بارے میں صحیح روایات کے قائل ہیں۔

چند حوالاجات پیش کرتا ہوں

ابن عساکرؒ امام اسحاقؒ کا یہی قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ 

وأصح ما روي في فضل معاوية حديث أبي حمزة عن ابن عباس أنه كاتب النبي (صلى الله عليه وسلم) فقد أخرجه مسلم في صحيحه وبعده حديث العرباض اللهم علمه الكتاب وبعده حديث ابن أبي عميرة اللهم اجعله هاديا مهديا

تاريخ دمشق لابن عساكر جلد 59 صفحہ 106

 شاملہ کا لنک

یعنی معاویہؓ کی فضیلت میں جو صحیح روایت ہے وہ ابن عباسؓ کی روایت کہ معاویہؓ نبی کریمﷺ کے کاتب تھے، اس کو مسلم نے نقل کیا ہے اپنی صحیح میں، اس کے بعد حضرت عرباضؓ کی حدیث کہ اے اللہ معاویہؓ کو کتاب کا علم سکھا، اس کے بعد ابن ابی عمیرہؓ کی حدیث کہ اے اللہ معاویہؓ کو ھادی مھدی بنا۔

بعینہ یہی بات تذكرة الموضوعات للفتني جلد 1 صفحہ 100 اور تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة جلد 2 صفحہ 8 پر بھی موجود ہے

تذکرۃ الموضوعات کا لنک

تنزیہ الشریعہ کا لنک

تو بات واضح ہے کہ محدثین کے نزدیک سیدنا معاویہؓ کے فضائل میں رسول اللہﷺ سے نہ صرف حسن بلکہ صحیح روایات بھی موجود ہیں۔

ان اقوالات اور فضائل معاویہؓ میں صحیح روایات کی موجودگی کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ بات امام اسحاقؒ کی ذاتی رائے اور شاذ اقوالات میں سے ہے۔

3۔ اگر بالفرض یہ مان بھی لیں کہ فضیلت معاویہؓ کی ساری روایات ضعیف ہیں، تب بھی اصول یہ ہے کہ ضعیف روایات مل کر حسن بن جاتی ہیں۔

ملا علی قاریؒ ایک روایت پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں 

وَالْحَاصِلُ أَنَّ لَهُ طُرُقًا يُقَوِّي بَعْضُهَا بَعْضًا ; فَهُوَ حَسَنٌ يُحْتَجُّ بِهِ

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح جلد 3 صفحہ 1088

 شاملہ کا لنک

یعنی اس حدیث کی کافی طرق ہیں جو ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں، تو یہ حسن ہے اس سے دلیل لی جائے گی۔

تو گویا انھوں نے اصول بتا دیا کہ ضعیف روایات ایک دوسرے کو مضبوط کر کے حسن بن جاتی ہیں اور حجت ہوتی ہیں۔

علامہ سخاویؒ ایک حدیث پر لکھتے ہیں کہ

وَإِنْ كَانَتْ أَسَانِيدُ مُفْرَدَاتُهَا ضَعِيفَةٌ، فَمَجْمُوعُهَا يُقَوِّي بَعْضُهُ بَعْضًا، وَيَصِيرُ الْحَدِيثُ حَسَنًا وَيُحْتَجُّ بِهِ

فتح المغيث بشرح ألفية الحديث جلد 1 صفحہ 94

شاملہ کا لنک

یعنی اگرچہ اس کے فرداً فرداً اسناد ضعیف ہیں لیکن ان کا مجموعہ ایک دوسرے کو تقویت دے کر حسن بن جاتی ہے اور اس سے حجت لی جاسکتی ہے۔

تو اس اصول کے مطابق سیدنا معاویہؓ کے فضائل کی روایات اگر بالفرض ضعیف بھی ہوں تب بھی حسن بن کر حجت بن جاتی ہیں۔

تو آپ کے سامنے اس قول سے استدلال کرنے والے منکرین فضیلت معاویہؓ کی حیثیت واضح ہوئی کہ ان کا یہ استدلال کتنا لغو ہے۔

آگے جھنگوی نے ایک جھوٹ لکھا ہے کہ 

اعتراض: اس کے بعد اہل سنت مسلک کے قاضی شوکانی اپنی کتاب فواید المجموعہ، صفحہ 407 میں لکھتے ہیں۔

 ابن حبان کا قول ہے کہ معاویہ کی فضیلت میں تمام روایات موضوع (یعنی گھڑی ہوئی) ہیں

الجواب

آپ اس کا لگایا ہوا فوائد مجموعہ کا سکین دیکھ سکتے ہیں، اس میں ابن حبانؒ کا نام نہیں بلکہ یہی امام اسحاق بن راھویہؒ کا قول ہے۔

اور ترجمہ بھی غلط کیا ہے کہ ‘‘معاویہ کی فضیلت میں تمام روایات موضوع (یعنی گھڑی ہوئی) ہیں’’

حالانکہ ترجمہ یہ ہوگا کہ معاویہؓ کے فضائل کی صحیح حدیث نہیں۔

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔

پارٹ 2

مسلمان بھائیوں کو السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔

محترم قارئین جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ سیف الاسلام جھنگوی سے بحث چل رہی ہے۔

میری پچھلی پوسٹ کا جواب انھوں نے کل دیا ہے جس کو پڑھ کر ھر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ جھنگوی مجھ یعنی علی معاویہ سے پنگا لے کر بہت برے طریقے سے پھنس گیا ہے۔ نہ بیچارہ میرے سوالات کا جواب دے پا رہا ہے اور نہ ہی چپ رہ سکتا ہے، کیونکہ لوگوں کے سامنے جناب بڑے محقق، مدقق اور بھت کچھ ہیں، اس لیے چپ رہنا گویا کہ ان کی علمی موت ہے۔

خیر اب ان کے پوسٹ کی طرف آتے ہیں۔

اس بار انھوں نے اصل بحث سے کٹ کر غیر متعلقہ باتوں سے پوسٹ کو بھر دیا ہے۔ مثلاً 

 سیدنا علیؓ سے محبت مومن کرے گا اور بغض منافق رکھے گا،،

 سیدنا علیؓ کے فضائل والی روایت کا ذکر کر دیا ہے جیسے کے حدیث مدینہ، حدیث سفینہ، حدیث غدیر وغیرہ، ان کا زیر بحث مسئلے سے دور دور کا تعلق بھی نہیں۔

 سیدنا عمرؓ کے بارے میں روایات نقل کرکے یہ لکھ دیا کہ “حضرت عمر کو نبی سے بڑھایا ہے” ۔

کیونکہ اصل بحث پر ان کے پاس بولنے کے لئے کچھ نہیں اس لیے کچھ نہ کچھ لکھ رہے ہیں اپنی عزت بچانے کے لیے۔

قارئین کرام، جھنگوی نے اس پوسٹ میں دوسرے شیعوں کی طرح یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ علی معاویہ سیدنا علیؓ کے فضائل کا منکر ہے، حالانکہ یہ بات کرتے ہوئے خود ان شیعوں کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ اہل السنت سیدنا علیؓ سے محبت کرنے کو ایمان کا حصہ سمجھتے اور ان کے فضائل کو مانتے ہیں جیسا کہ جھنگوی نے نقل بھی کیا ہے کتب اہل السنت سے، لیکن پھر بھی یہ جھوٹا الزام لگاتے ہوئے ان کا ضمیر ان کو ملامت نہیں کرتا۔

اصل بات یہ ھے کہ ہم اہل السنت سیدنا علیؓ کو اس طرح نہیں مانتے جس طرح شیعہ مانتے ہیں اس لئے ہم کو یہ سیدنا علیؓ کے فضائل کا منکر کہتے ہیں۔

یہ چاہتے ہیں کہ اہل السنت بھی سیدنا علیؓ کو

  • تمام انبیاء سے افضل
  •  خلیفہ بلا فصل
  • اور ہر وہ جھوٹی فضیلت جو یہ بیان کرتے ہیں، وہ سب اھل السنت بھی مانیں تبھی وہ علیؓ سے محبت کرنے والے بنیں گے۔

یہ ہے حقیقت جس کی وجہ سے ہم کو یہ سیدنا علیؓ کے فضائل کا منکر کہتے ہیں۔

جھنگوی صاحب نے ابو عبد اللہ الجدلی کی روایت پر یہ لکھا کہ

قارئین کرام اس روایت نے مولانا علی معاویہ صاحب کو بہت پریشان کر دیا ہے حالانکہ اس میں کوئی اور کسی صحابی کی گستاخی تو نہیں بلکہ ایک صحابی خلیفہ راشد اور اہل بیت رسول اللہ کی شان بیان ہے اور کچھ بھی نہیں ہے

جھنگوی صاحب تو میں نے کب لکھا تھا کہ اس روایت میں کسی صحابی کی گستاخی ہے؟

آگے آپ نے خود ہی لکھ دیا کہ اس میں سیدنا علیؓ کی شان بیان ہے، تو اسی پر میں نے لکھا تھا کہ اس روایت میں سیدنا علیؓ کی شان بیان کرنے میں غلو ہے کہ ان کی شان کو نبی کریمﷺ سے ملا دیا گیا ہے۔ اس کا جواب تو نہیں بن سکا جناب جھنگوی صاحب سے بس بطور الزام کے چند حوالی نقل کردیے جن کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔

اعتراض: سنن ترمذی کی روایت پیش کرکے اس پر جھنگوی نے لکھا ہے کہ 

لیکن جہاں راویوں نے حضرت عمر کو نبی سے بڑھایا ہے اس کے بارے کوئی جرح تعدیل نہیں ہے، یہاں دیکھو شیطان جو نبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں ڈرتا ہے وہ عمر سے ڈرتا ہے

الجواب: 1۔ اصل میں جھنگوی کی علمی صلاحیت اتنی نہیں کہ وہ اصل بات سمجھ کر پھر کچھ لکھے، اس لئے اس نے یہ لکھ دیا۔

جناب یہاں بحث بدعتی راوی کی روایت کا اس کی تائید میں ہونے کی صورت میں غیر مقبول ہونے پر چل رہی ہے۔ لیکن آپ نے جو روایت بھیجی ہے اس میں کہاں ہے ایسی بات؟ ذرا نشاندہی کریں؟

2۔ دوسری بات یہ کہ سیدنا عمرؓ سے شیطان بھاگتا تھا، یہ فضیلت ان کو نبی کریمﷺ کی وجہ سے ملے، اگر وہ نبی کریمﷺ پر ایمان نہ لاتے تو یہ فضیلت ان کو نہ ملتی۔ تو گویا سیدنا عمرؓ کی یہ فضیلت نبی کریمﷺ کی ہی فضیلت ہوئی۔

جیسے چاند کی چاندنی کی تعریف حقیقت میں سورج کی تعریف ہے، کیونکہ چاند کو روشنی سورج سے ملی۔

 اعتراض: بخاری اور مجمع الزوائد سے روایت پیش کرکے جھنگوی لکھتا ہے۔

 معاذ اللہ! کبھی پردے کے بارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتا نہیں عمر کہتے ہیں تو آیت آتی ہے۔

الجواب

1۔ نبی کریمﷺ اللہ کے حکم کے تابع تھے اپنی طرف سے احکامات جاری نہیں کرتے تھے، اس لیے جھنگوی کا یہ کہنا کہ "پردے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ نہیں"۔۔۔ یہ جھنگوی کی لاعلمی کی واضح دلیل ہے۔

2۔ سیدنا عمرؓ کی خواہش تھی کہ پردے کا حکم دیا جائے، اس خواہش کے مطابق اللہ نے حکم نازل فرمایا تو اس میں سیدنا عمرؓ رسول اللہﷺ سے فضیلت میں کیسے بڑھ گیے؟؟ کیا رسول اللہﷺکی خواہش پر قبلہ تبدیل نہیں ہوا تھا؟ کیا نبی کریمﷺ کی دوسری بہت ساری خواہشات اللہ نے قبول نہیں کیں؟ اگر کیں ہیں تو پھر یہ اعتراض بیکار ہوا۔

 اعتراض: جھنگوی آگے لکھتا ہے کہ

کبھی منافق پر نماز جنازہ نہ پڑھنے کا پتا نہیں ہے عمر کہتا ہے پھر آیت آتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمجھ جاتے ہیں

الجواب: اس اعتراض کا بھی وہی حال ہے جس کا رد اس سے پہلے بیان ہوا۔

تو جھنگوی نے صرف خانہ پوری کے لئے جواب بنا کر ڈال دیا جس کی علمی میدان میں کوئی حیثیت نہیں۔

اب میں جھنگوی سے سوالات کرتا ہوں۔

1۔ سیدنا علیؓ کے ہاتھوں اللہ نے خیبر کا آخری قلعہ فتح فرمایا لیکن نبی کریم ﷺ کے ہاتھوں نہیں، تو کیا سیدنا علیؓ رسول اللہﷺ سے فضیلت میں بڑھ گئے؟

2۔ سیدنا علیؓ کو شیر خدا کہا جاتا ہے لیکن نبی کریمﷺ کو نہیں، تو کیا سیدنا علیؓ رسول اللہﷺ سے فضیلت میں بڑھ گئے؟

3۔ سیدنا حسین ؓ کو شیعہ سید الشہداء کہتے ہیں لیکن نبی کریمﷺ اور سیدنا علیؓ کو نہیں کہتے، تو کیا سیدنا حسینؓ دونوں سے فضیلت میں بڑھ گئے؟

4۔ سیدنا حسینؓ نے دین کو بچایا (بقول شیعہ) لیکن سیدنا علیؓ کے دور میں دین کا حلیہ بگڑ گیا او ر وہ کچھ نہ کرسکے، تو کیا سیدنا حسینؓ سیدنا علیؓ سے فضیلت میں بڑھ گئے؟

امید ہے کہ جھنگوی ان سولات کا جواب دیں گے، پچھلے سوالات کے ساتھ ساتھ ان سوالات کا بھی قرض نہیں اٹھائیں گے۔

پھر آخر میں جھنگوی نے دوسرے شیعوں کی طرح یہ رونا رویا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ تمھارے اصول صرف سیدنا علیؓ کے بارے میں چلتے ہیں دوسرے صحابہ پر نہیں۔

لیکن ان کا یہ رونا بھی فضول ہے، کیونکہ محدثین نے دوسرے صحابہ کے بارے میں بھی ان کے فضائل میں جھوٹی روایات کی نشاندہی کی ہے جیساکہ سیدنا علیؓ کے بارے میں کی ہے، سیدنا معاویہؓ کے بارے میں تو تم شیعہ ہی پیش کرتے ہو کہ ان کے فضائل یں صحیح روایت نہیں، حالانکہ میں اپنے کلپ میں اس بات کی بھی حقیقت واضح کرچکا ہوں۔

اور شیعوں کو تو ویسے بھی غلو نظر نہیں آئے گا کیونکہ وہ تو سیدنا علیؓ کو انبیاء سے افضل مانتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ امامت کا مرتبہ نبوت سے بڑا ھے۔ جیسا کہ حیاۃ القلوب جلد 5 صفحہ 17 کا حوالہ لگایا ہے میں نے۔

اور یہ بات تو واضح ہے کہ جیسا کہ عیسائیوں کے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا ماننا غلو نہیں، اس طرح شیعوں کے نزدیک بھی سیدنا علیؓ کو نبی کریمﷺ کے شان سے ملانا غلو نہیں۔

قارئین جھنگوی کی پچھلے پوسٹ پر خیر طلب صاحب نے جو کمنٹ کیے تھے جس کو جھنگوی نے اپنی پوسٹ میں کاپی کرکے لگا دیا تھا۔

اس پر میں نے چند سوالات کئے تھے، جن کا جواب دینے کے بجائے جھنگوی نے یہ لکھ کر ٹال دیا کہ

آخر میں اس نے جو کچھ سوالات کیے تھے وہ میرے موضوع سے خارج ہیں اس لیے ان سوالات کو میں جان بوجھ کر چھوڑ رہا ہوں۔

حالانکہ یہ سوالات بالکل زیر بحث مسئلے کے مطابق تھے، لیکن ان کا جواب جھنگوی کے پاس نہین تھا اور نہ ہی خیر طلب صاحب نے ان سوالات کا جواب دینے میں جھنگوی کی مدد کی اس لیے بیچارے نے جواب دیا ہی نہیں۔

میں اپنے اہل السنت بھائیوں سے عرض کرتا ہوں کہ یہ سوالات یاد کرلیں، یہ وہ سوالات ہیں کہ جب کوئی شیعہ، بدعتی راوی کی تائید میں روایت والے اصول پر اعتراض کرے تو یہ سوالات کردیں، ان شاءاللہ وہ شیعہ بدعتی راوی کے اصول پر اعتراض بھول جائے گا۔

اب میں دوبارہ وہ سوالات دہراتا ہوں جن کا جواب جھنگوی پر قرض ہے۔

1۔ شاذ روایت کی تعریف کریں اور اس کا حکم بتائیں کہ وہ قبول ہے کہ نہیں؟

2۔ اگر شاذ روایت سندا صحیح ہونے کے بعد بھی قبول نہیں تو ثقہ بدعتی راوی کی روایت جو اس کے مذہب کی تائید میں ہو، اس کے قبول نہ ہونے پر اعتراض کیوں؟

3۔ شیعہ اصول درایت کے مطابق آپ مجھے بتائیں کہ اگر کتب شیعہ میں کسی روایت میں کوئی فاسد المذھب (غیر اثناء عشری) ثقہ راوی آجائے تو کیا اس کو قبول کیا جائے گا؟؟

4۔ شیعہ اصول درایت کے مطابق اگر ثقہ فاسد المذھب راوی کی روایت اس کے مذہب کی تائید میں ہو، تو وہ مقبول ہے کہ نہیں؟

5۔ اگر قبول نہیں تو کیا اس کو ضعیف کہا جائے گا؟

آخری تین سوالات کا جواب کسی معتبر شیعہ محدث کے حوالے سے بتائیں؟

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ان کو ہدایت نصیب کرے۔

اللھم العن من ابغض اصحاب النبی، والعن امامھم الغائب الکافر الظالم فی السامراء، لا تجعل لغائب الملعون سبیل الخروج، و اجعل قبرہ فی المکان الذی موجود فیہ ھذا الفاجر۔اللھم دمر دیارھم و شتت شملھم۔ اللھم انصر الذٰین یقتلون اعداء اصحاب النبی فی کل مکان۔

اللھم دمر دیارھم و شتت شملھم۔


کچھ دن پہلے میں نے تقیہ باز شیعہ انجنیئر مرزا کے خلاف اپنے یوٹیوب چینل پر ایک وڈیو کلپ اپلوڈ کی تھی جس میں اس اعتراض کا مختصر رد تھا کہ سیدنا معاویہؓ کے فضائل میں کوئی روایت نہیں۔


ڈاؤن لوڈ