ابن سباء کا نسب اور وطن - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابن سباء کا نسب اور وطن

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 3

مقالات و فرق کی کتب، نیز تاریخ اور ادب کی اکثر وہ کتابیں جن میں خلیفۂ ثالث سیدنا عثمان بن عفانؓ کے عہد میں رونما ہونے والے فتنے اور بعد ازاں کوفہ میں سیدنا علی بن ابی طالبؓ کی شہادت کے واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے، اس بات پر متفق ہیں کہ عبد اللہ ابنِ سبا ایک یہودی شخصیت تھا، جو مسلمانوں کے معاشرے میں ایسے عقائد و افکار لے کر ظاہر ہوا جن کا مقصد مسلمانوں کو ان کے دین کے بارے میں فتنے میں مبتلا کرنا تھا۔

بعد ازاں مختلف قبائل کے اوباش اور سطحی سوچ رکھنے والے افراد، نیز ذاتی رنجشوں اور انتقامی جذبات سے مغلوب بعض عناصر اس کے گرد جمع ہو گئے۔ ان لوگوں کی مدد سے وہ مسلمانوں کی صفوں میں تفرقہ ڈالنے، ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے، اور اسلامی فتوحات کے تسلسل کو روکنے میں کامیاب ہوا، جس کے بعد اہلِ بیت سے متعلق باہمی جنگوں کا آغاز ہوا۔ البتہ اس کی زندگی اور سرگرمیوں کی تفصیلات بیان کرنے میں ان مصادر کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔

اہلِ سنت اور شیعہ دونوں کے مصادر اس بات پر متفق ہیں کہ عبد اللہ بن سبا یمن کے شہر صنعاء کا ایک یہودی تھا، جس نے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے، ان کے درمیان فتنہ برپا کرنے، اور تفرقہ و اختلاف کے اسباب پیدا کرنے کی غرض سے ظاہری طور پر اسلام قبول کیا تھا۔

1: امام طبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے:

عبد اللہ بن سبا صنعاء کا ایک یہودی تھا۔

(الطبري، ابو جعفر محمد، تاريخ الرسل والملوك، تحقيق عبدالسلام هارون، 1950م, جلد4، ط2، القاهرة، صفحہ283، وانظر أبو الشعر، هند، 1983م، حركۃ المختار بن أبي عبيد الثقفي في الكوفۃ: صفحہ329)

2: امام ابن عساکرؒ نے لکھا ہے:

"عبد اللہ بن سبا، جس کی طرف سبئیہ کی نسبت کی جاتی ہے اور جو غالی رافضیوں میں سے تھا، اس کا اصل وطن یمن تھا۔

(ابنِ عساكر، ابوالقاسم علي بن الحسن بن هبۃاللہ الشافعي، (ت 571ھ) مختصر تاريخ دمشق:  جلد12، بيروت صفحہ 219)

3:  الناشئ الأکبر نے لکھا ہے:

عبد اللہ بن سبا صنعاء کا رہنے والا تھا۔ اس نے سیدنا علیؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، پھر مدائن میں سکونت اختیار کر لی۔

(الناشئ الأكبر، مسائل الإمامۃ ومقتطفات من الكتاب الأوسط للمقالات: تحقيق يوسف فان: 1971م، بيروت: صفحہ22-23)

4:  شیعہ سعد بن عبد اللہ القمی الاشعری نے لکھا ہے:

اہلِ علم کی ایک جماعت نے بیان کیا ہے کہ عبد اللہ بن سبا یہودی تھا، پھر اس نے اسلام قبول کیا اور سیدنا علیؓ سے وابستگی اختیار کر لی۔

(القمي: أبو خلف سعد بن عبداللہ الاشعري:المقالات والفرق:تحقيق محمد جواد مشكور: 1963م، طہران: صفحہ 20-21)

5:  جرمن مستشرق اسرائیل فرید لینڈر نے ”عبد اللہ بن سبا اور اس کی یہودی اصل“ کے عنوان سے اپنے ایک تحقیقی مقالے میں عبد اللہ بن سبا کے یہودی ہونے اور اس کے یمنی النسل ہونے کے حق میں متعدد دلائل پیش کیے ہیں۔

(بدوي، عبد الرحمٰن، مذاهب الإسلاميين: جلد2، دار العلم للملايين: بيروت:  صفحہ 219)

6:  احمد امین لکھتے ہیں:

ابن السوداء یہ شخص سیدنا ابو الدرداءؓ اور سیدنا عبادہ بن صامتؓ کے پاس آیا۔(ابو الدرداء:  عويمر أو عامر:  واسم ابيہ ثعلبۃ او عبداللہ: اسلم يوم بدر، ولاه معاويۃ قضاء دمشق توفي سنۃ 32ھ، ابن حجر احمد بن علي العسقلاني، الإصابۃ في تمييز الصحابۃ، نشردار التراث العربي،ط1، 1328 هـ،جلد 4، بيروت صفحہ 28)

مگر ان دونوں نے اس کی بات قبول نہ کی۔ پھر سیدنا عبادہ بن صامتؓ اسے سیدنا معاویہؓ کے پاس لے گئے اور فرمایا: اللہ کی قسم! یہی وہ شخص ہے جس نے تمہارے خلاف ابو ذر کو بھڑکایا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ ابن السوداء اسی عبد اللہ بن سبا کا لقب تھا، اور وہ صنعاء کا ایک یہودی تھا۔

حوالہ (عبادة بن الصامت كان من النقباء، شهد بدراً و المشاهد كلها مع رسولﷺ أرسله عمر بن الخطابؓ الی فلسطين ليعلم أهلها القرآن ويفقههم في الدين، توفي سنۃ 34 هـ، وقيل عاش إلى سنۃ 45 هـ، الإصابۃ : جلد 4 صفحہ 28)

(معاويۃ بن أبي سفيان، اسلم بعد الحديبيۃ، وكتم إسلامه حتى أظهره عام الفتح، وكان في القضاء مسلما، أورده ضمن كتاب النبيﷺ كثير من المؤرخين كالطبری في تاريخ الأمم والملوك، تحقيق محمد أبو الفضل ابراهيم جلد 6 صفحہ179 واليعقوبي احمد بن ابی يعقوب بن جعفر، ط دار صادر بيروت، جلد 2 صفحہ 81 وغيرهما)

(ابو ذر، جندب بن جنادة الغفاري، كان رابع اربعۃ سبقوا إلى الإسلام، توفي بالربذة عام 32 هـ طبقات ابنِ سعد، جلد 4 صفحہ 161)

 (امین، احمد، 1969م، فجر الإسلام، دار الكتاب اللبناني: ط1، صفحہ 136)

7:  ڈاکٹر صالح درادکہ لکھتے ہیں:

فتنے سے متعلق روایات ہمیں صرف سیف بن عمر تمیمی کے طریق سے نہیں پہنچی ہیں، بلکہ دیگر طرق سے بھی منقول ہیں۔ مجموعی طور پر یہ تمام روایات سیف کی روایت کے خلاف نہیں، بلکہ اس کی صحت کی تائید کرتی ہیں اور اس میں بعض مزید تفصیلات کا اضافہ بھی کرتی ہیں۔ اگر مؤرخین نے سیف کی روایت کو اختیار کیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اس میں اس پوشیدہ ہاتھ کی نشاندہی دیکھی جو سیدنا عثمانؓ کے خلاف منظم ہونے والی مخالفت کے پس پردہ سرگرم تھا۔

پھر آگے چل کر وہ کہتے ہیں:

اس بنا پر قدیم مؤرخینِ ملل و نحل کی بیان کردہ روایات میں سبئیہ کے وجود کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ سبئیہ کے وجود کی حقیقت جتنی واضح ہے، اتنی ہی ایک دوسری حقیقت بھی ہماری نگاہوں سے اوجھل نہیں رہنی چاہیے، اور وہ یہ ہے کہ اگر داخلی سطح پر پہلے سے مخالفت موجود نہ ہوتی تو عبداللہ بن سباء اپنے مقاصد میں ہرگز کامیاب نہ ہو سکتا تھا۔

(درادكۃ، صالح موسىٰ، 1992م، العلاقات العربيۃ اليهوديۃ حتى نهايۃ عهد الخلفاء الراشدين ط1عمان صفحہ 203-411)

مذکورہ بالا تمام روایات اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ عبد اللہ بن سباء صنعاء کا ایک یہودی تھا۔ اس زمانے میں، جب صنعاء حبشیوں کے قبضے میں تھا، وہ یہودیوں کا ایک اہم مرکز شمار ہوتا تھا، اور بظاہر یہودی وہاں حبشیوں کے یمن پر حملہ کرنے سے بھی پہلے سے آباد تھے۔

(مجلۃ الرسالۃ المصريۃ:  عدد 775 صفحہ 525)

عبد اللہ بن سبا کے یہودی ہونے کی مزید تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے جسے امام ابن حزم اندلسی نے ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

صفحہ 1 از 3