مقالات و فرق کی کتب، نیز تاریخ اور ادب کی اکثر وہ کتابیں جن میں خلیفۂ ثالث سیدنا عثمان بن عفانؓ کے عہد میں رونما ہونے والے فتنے اور بعد ازاں کوفہ میں سیدنا علی بن ابی طالبؓ کی شہادت کے واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے، اس بات پر متفق ہیں کہ عبد اللہ ابنِ سبا ایک یہودی شخصیت تھا، جو مسلمانوں کے معاشرے میں ایسے عقائد و افکار لے کر ظاہر ہوا جن کا مقصد مسلمانوں کو ان کے دین کے بارے میں فتنے میں مبتلا کرنا تھا۔
بعد ازاں مختلف قبائل کے اوباش اور سطحی سوچ رکھنے والے افراد، نیز ذاتی رنجشوں اور انتقامی جذبات سے مغلوب بعض عناصر اس کے گرد جمع ہو گئے۔ ان لوگوں کی مدد سے وہ مسلمانوں کی صفوں میں تفرقہ ڈالنے، ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے، اور اسلامی فتوحات کے تسلسل کو روکنے میں کامیاب ہوا، جس کے بعد اہلِ بیت سے متعلق باہمی جنگوں کا آغاز ہوا۔ البتہ اس کی زندگی اور سرگرمیوں کی تفصیلات بیان کرنے میں ان مصادر کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔
اہلِ سنت اور شیعہ دونوں کے مصادر اس بات پر متفق ہیں کہ عبد اللہ بن سبا یمن کے شہر صنعاء کا ایک یہودی تھا، جس نے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے، ان کے درمیان فتنہ برپا کرنے، اور تفرقہ و اختلاف کے اسباب پیدا کرنے کی غرض سے ظاہری طور پر اسلام قبول کیا تھا۔
1: امام طبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے:
عبد اللہ بن سبا صنعاء کا ایک یہودی تھا۔
(الطبري، ابو جعفر محمد، تاريخ الرسل والملوك، تحقيق عبدالسلام هارون، 1950م, جلد4، ط2، القاهرة، صفحہ283، وانظر أبو الشعر، هند، 1983م، حركۃ المختار بن أبي عبيد الثقفي في الكوفۃ: صفحہ329)
2: امام ابن عساکرؒ نے لکھا ہے:
"عبد اللہ بن سبا، جس کی طرف سبئیہ کی نسبت کی جاتی ہے اور جو غالی رافضیوں میں سے تھا، اس کا اصل وطن یمن تھا۔
(ابنِ عساكر، ابوالقاسم علي بن الحسن بن هبۃاللہ الشافعي، (ت 571ھ) مختصر تاريخ دمشق: جلد12، بيروت صفحہ 219)
3: الناشئ الأکبر نے لکھا ہے:
عبد اللہ بن سبا صنعاء کا رہنے والا تھا۔ اس نے سیدنا علیؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، پھر مدائن میں سکونت اختیار کر لی۔
(الناشئ الأكبر، مسائل الإمامۃ ومقتطفات من الكتاب الأوسط للمقالات: تحقيق يوسف فان: 1971م، بيروت: صفحہ22-23)
4: شیعہ سعد بن عبد اللہ القمی الاشعری نے لکھا ہے:
اہلِ علم کی ایک جماعت نے بیان کیا ہے کہ عبد اللہ بن سبا یہودی تھا، پھر اس نے اسلام قبول کیا اور سیدنا علیؓ سے وابستگی اختیار کر لی۔
(القمي: أبو خلف سعد بن عبداللہ الاشعري:المقالات والفرق:تحقيق محمد جواد مشكور: 1963م، طہران: صفحہ 20-21)
5: جرمن مستشرق اسرائیل فرید لینڈر نے ”عبد اللہ بن سبا اور اس کی یہودی اصل“ کے عنوان سے اپنے ایک تحقیقی مقالے میں عبد اللہ بن سبا کے یہودی ہونے اور اس کے یمنی النسل ہونے کے حق میں متعدد دلائل پیش کیے ہیں۔
(بدوي، عبد الرحمٰن، مذاهب الإسلاميين: جلد2، دار العلم للملايين: بيروت: صفحہ 219)
6: احمد امین لکھتے ہیں:
ابن السوداء یہ شخص سیدنا ابو الدرداءؓ اور سیدنا عبادہ بن صامتؓ کے پاس آیا۔(ابو الدرداء: عويمر أو عامر: واسم ابيہ ثعلبۃ او عبداللہ: اسلم يوم بدر، ولاه معاويۃ قضاء دمشق توفي سنۃ 32ھ، ابن حجر احمد بن علي العسقلاني، الإصابۃ في تمييز الصحابۃ، نشردار التراث العربي،ط1، 1328 هـ،جلد 4، بيروت صفحہ 28)
مگر ان دونوں نے اس کی بات قبول نہ کی۔ پھر سیدنا عبادہ بن صامتؓ اسے سیدنا معاویہؓ کے پاس لے گئے اور فرمایا: اللہ کی قسم! یہی وہ شخص ہے جس نے تمہارے خلاف ابو ذر کو بھڑکایا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ ابن السوداء اسی عبد اللہ بن سبا کا لقب تھا، اور وہ صنعاء کا ایک یہودی تھا۔
حوالہ (عبادة بن الصامت كان من النقباء، شهد بدراً و المشاهد كلها مع رسولﷺ أرسله عمر بن الخطابؓ الی فلسطين ليعلم أهلها القرآن ويفقههم في الدين، توفي سنۃ 34 هـ، وقيل عاش إلى سنۃ 45 هـ، الإصابۃ : جلد 4 صفحہ 28)
(معاويۃ بن أبي سفيان، اسلم بعد الحديبيۃ، وكتم إسلامه حتى أظهره عام الفتح، وكان في القضاء مسلما، أورده ضمن كتاب النبيﷺ كثير من المؤرخين كالطبری في تاريخ الأمم والملوك، تحقيق محمد أبو الفضل ابراهيم جلد 6 صفحہ179 واليعقوبي احمد بن ابی يعقوب بن جعفر، ط دار صادر بيروت، جلد 2 صفحہ 81 وغيرهما)
(ابو ذر، جندب بن جنادة الغفاري، كان رابع اربعۃ سبقوا إلى الإسلام، توفي بالربذة عام 32 هـ طبقات ابنِ سعد، جلد 4 صفحہ 161)
(امین، احمد، 1969م، فجر الإسلام، دار الكتاب اللبناني: ط1، صفحہ 136)
7: ڈاکٹر صالح درادکہ لکھتے ہیں:
فتنے سے متعلق روایات ہمیں صرف سیف بن عمر تمیمی کے طریق سے نہیں پہنچی ہیں، بلکہ دیگر طرق سے بھی منقول ہیں۔ مجموعی طور پر یہ تمام روایات سیف کی روایت کے خلاف نہیں، بلکہ اس کی صحت کی تائید کرتی ہیں اور اس میں بعض مزید تفصیلات کا اضافہ بھی کرتی ہیں۔ اگر مؤرخین نے سیف کی روایت کو اختیار کیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اس میں اس پوشیدہ ہاتھ کی نشاندہی دیکھی جو سیدنا عثمانؓ کے خلاف منظم ہونے والی مخالفت کے پس پردہ سرگرم تھا۔
پھر آگے چل کر وہ کہتے ہیں:
اس بنا پر قدیم مؤرخینِ ملل و نحل کی بیان کردہ روایات میں سبئیہ کے وجود کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ سبئیہ کے وجود کی حقیقت جتنی واضح ہے، اتنی ہی ایک دوسری حقیقت بھی ہماری نگاہوں سے اوجھل نہیں رہنی چاہیے، اور وہ یہ ہے کہ اگر داخلی سطح پر پہلے سے مخالفت موجود نہ ہوتی تو عبداللہ بن سباء اپنے مقاصد میں ہرگز کامیاب نہ ہو سکتا تھا۔
(درادكۃ، صالح موسىٰ، 1992م، العلاقات العربيۃ اليهوديۃ حتى نهايۃ عهد الخلفاء الراشدين ط1عمان صفحہ 203-411)
مذکورہ بالا تمام روایات اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ عبد اللہ بن سباء صنعاء کا ایک یہودی تھا۔ اس زمانے میں، جب صنعاء حبشیوں کے قبضے میں تھا، وہ یہودیوں کا ایک اہم مرکز شمار ہوتا تھا، اور بظاہر یہودی وہاں حبشیوں کے یمن پر حملہ کرنے سے بھی پہلے سے آباد تھے۔
(مجلۃ الرسالۃ المصريۃ: عدد 775 صفحہ 525)
عبد اللہ بن سبا کے یہودی ہونے کی مزید تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے جسے امام ابن حزم اندلسی نے ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
غالی فرقوں کا دوسرا گروہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی الوہیت کا عقیدہ رکھتا ہے، اور ان میں سب سے پہلے عبد اللہ بن سباء حِمیری کے پیروکار تھے۔(الرسالة المصرية، عدد 775، صفحہ 525 ابن حزم، ابو محمد علي بن احمد بن حزم، الفصل فی الملل والأهواء والنحل، تحقیق محمد ابراهيم نصر وزميلہ، جلد 4 صفحہ18)
امام ابن حزم نے عبد اللہ بن سباء کی نسبت قبیلۂ حِمیر کیطرف کی ہے، اور قبیلۂ حِمیرصنعاء میں آباد تھا۔
کتاب ”قرة العيون بأخبار اليمن الميمون“ کے محقق لکھتے ہیں:
صنعاء بیشتر اسلامی ادوار میں یمن کا دارالحکومت رہا ہے اور قدیم ترین عرب شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی بنیاد طوفانِ نوح کے بعد رکھی گئی تھی۔ یہ جزیرۂ عرب کی دلہن، اس کا درخشاں تاج، اور مملکتِ حِمیر کا مرکز تھا۔ اسی قبیلہ حِمیر کی طرف کعب بن ماتع الرعینی الحمیری کی نسبت ہے، جو کعب الاحبار کے نام سے مشہور ہوئے۔ وہ اہلِ کتاب کے جلیل القدر عالم اور ان کے بڑے احبار میں سے تھےـ
(ابن الديبع، وجيہ الدين عبدالرحمٰن بن علی الشيبانی، قرة العيون بأخبار اليمن الميمون، تحقیق محمد بن علي الأكوع المكتبۃ السلفيۃ فی القاهرة صفحہ39)
ابن قتیبہ کا بیان ہے کہ:
یہودیت کا چلن (یمن کے قبائل)حمير، بنی کنانہ، بنی الحارث بن کعب اور کندہ میں تھا۔
(ابن قتيبۃ الدينوري، ابو محمد عبداللہ، المعارف، دار الكتب العلميۃ، بيروت : صفحہ339)
اور جن مراجع و مصادر تک میری رسائی ہو سکی ہے، ان میں عبد اللہ بن سبا کے والد کے نام کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا سوائے تاج العروس کے مصنف زبیدی کے، جنہوں نے یہ ذکر کیا ہے کہ(فروہ بن مسیک المرادی)کی حدیث میں جس ”سبا“ کا ذکر آیا ہے، وہ دراصل غالیوں کے فرقے سبئیہ کے بانی، عبد اللہ بن سباء کا والد ہے۔
(الزبيدي، محمد مرتضىٰ، تاج العروس، المطبعۃ الخيريۃ : جلد1 صفحہ75-76)
تاہم یہ رائے حقیقت اور صحت سے کوسوں دور معلوم ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہو سکتی ہے کہ اس کا والد خالص حميری نسل سے ہو، یایہ بھی ممکن ہے کہ وہ ولاء (موالات و وفاداری)کے تعلق کی بنا پر اس قبیلے سے منسوب ہوا ہو، اور یہ بھی احتمال ہے کہ وہ ان ابناء (یمن میں مقیم فارسی نسل)میں سے ہو۔ جن کے باپ کا اتہ پتہ نہیں تھا۔
حوالہ لأبناءهم أبناء فارس الذين أرسلهم كسرى لنجدة سيف بن ذي يزن الحميري، وقد اختلفوافي سبب تسميتهم بالأبناء على أقوال أوجهها أن كسرى لما جهز الجيش المذكور، قال له المزاربہ: امده بمن في سجونك، فان ضفروا فأبناءك، فان قتلوا فأعداءك، فأمده بهم ووهبهم له.وقيل سموا بالأبناء لأنهم يقال لهم هؤلاء أبناء سيف، وقيل غير ذلك
یہ اہلِ فارس ایران کی وہ اولاد ہیں جنہیں کسریٰ(شاہِ فارس)نے سیف بن ذی یزن حمیری کی مدد کے لیے بھیجا تھا۔ ان کا نام الابناء پڑنے کی وجہ میں مختلف اقوال ہیں، جن میں سے سب سے زیادہ جاندار اور قوی قول یہ ہے کہ جب کسریٰ نے مذکورہ لشکر تیار کیا، تو درباری وزراء (مرازبہ)نے اس سے کہا: ان کی مدد ان لوگوں سے کیجیے جو آپ کی جیلوں میں بند ہیں اگر وہ غالب آ گئے تو وہ آپ کے فرزند (وفادار بیٹے)ٹھہریں گے، اور اگر وہ مارے گئے تو وہ آپ کے دشمن ہی تھے(جن سے چھٹکارا مل گیا)۔چنانچہ کسریٰ نے ان قیدیوں کے ذریعے اس کی مدد فرمائی اور انہیں اس کے سپرد کر دیا۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ انہیں الابناء اس لیے کہا گیا کیونکہ ان کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ یہ سیف کے بیٹے ہیں، اور اس کے علاوہ بھی اقوال کہے گئے ہیں۔
جہاں تک اس کی ماں کا تعلق ہے، تو وہ حبشی نسل سے تھی۔ اور اسی وجہ سے اسے ”ابن السوداء“(سیاہ فام عورت کا بیٹا)کا لقب ملا۔
(تحدث لبن حبيب عن ابن سبأ واعتبره أحد أبناء الحبشيات ابن حبيب ابو جعفر محمد بن حبيب بن اميہ، المحبر تحقيق ايلزا ليختن دارالأفاق: بيروت: صفحہ308)
تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ حبشیوں اور یمنیوں کے باہمی اختلاط اور شادی بیاہ کے نتیجے میں یمن میں ایک دوغلی اور مخلوط نسل نے جنم لیا تھا، اور بعید نہیں کہ ابن سباء بھی اسی نسل کا ایک فرد رہا ہو۔ اسی مخلوط نسل کی طرف کمیت نے نزار کے مقابلے میں یمنیوں پر مفاخرت کرتے ہوئے اپنے اس شعر میں اشارہ کیا ہے کہ:
ہمارے لیے ہی آسمان کا چاند ہے اور ہر وہ ستارہ ہے، جس کی طرف ہدایت اور راستہ پانے والوں کے ہاتھ اشارہ کرتے ہیں۔
میں نے دیکھا کہ جب اللہ نے ن”نزار“کا نام بلند کیا، تو اسے مکہ کے مکینوں میں آباد فرما دیا۔
اس(اللہ)نے تمام تر مکارم اور اخلاقی عظمتوں کو خالصتاً ہمارے لیے مخصوص کر دیا پس باقی لوگوں کے حصے میں(ذلت کی)گدی آئی اور ہمارے حصے میں (عزت و سرفرازی کی)پیشانی آئی۔
اور نزار کی بیٹیوں نے کبھی بھی کسی سیاہ فام (حبشی)یا سرخ فام (رومی/ فارسی )کو اپنا شوہر (اور کفو)نہیں پایا۔
(الشابي، علی، مباحث في علم الكلام والفلسفۃ، دارابو سلامہ، تونس : صفحہ20)
اور اس ”سبا“سے مراد جس کی طرف عبداللہ بن سبا منسوب کیا جاتا ہے، خود ملکِ یمن ہے چنانچہ ہر یمنی باشندے کے بارے میں یہ کہنا بالکل درست ہے کہ وہ ”ابن سباء“ (سبا کا بیٹا) ہے، بالکل اسی طرح جیسے کسی مصری کو ”ابن النیل“(نیل کا بیٹا)کہہ دیا جاتا ہے، اور اسی پر دیگر مثالوں کو قیاس کیا جا سکتا ہے
اور اہل یمن کی سبا کی طرف یہ نسبت ایک اور روایت سے مزید مستحکم ہو جاتی ہے جسے یعقوب بن شیبہ نے اپنی کتاب (مسند امیرالمؤمنین عمر بن الخطاب)میں نقل کیا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ:
وہ اہل یمن میں سے (قبیلہ یا ملک) سبا سے تعلق رکھتے تھا۔(جواد، سامي، مسند عمر بن الخطاب بيروت: صفحہ68)
بیشک قرآن کریم نے سورۃ النمل میں اس واقعے کی حکایت بیان فرمائی ہے جو ہدہد نے ہمارے سردار حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے یوں پیش کیا تھا: پھر وہ (ہدہد)زیادہ دیر نہ رکا، (اور حاضر ہو کر)کہنے لگا! میں ایک ایسی بات معلوم کر کے آیا ہوں جو آپ کے علم میں نہیں ہے، اور میں آپ کے پاس (ملکِ)سبا سے ایک یقینی اور سچی خبر لے کر آیا ہوں۔ میں نے وہاں ایک ایسی عورت کو دیکھا ہے جو ان پر حکومت کرتی ہے، اسے ہر طرح کا ساز و سامان دیا گیا ہے اور اس کا ایک عظیم الشان تخت ہے۔(سورة النمل: آیت 22)
(قرآن کریم میں ایک پوری سورت موجود ہے جسے ”سورۃ سبا“ کا نام دیا گیا ہے، اور قرآن نے ہمیں اس فراخ رزق اور دائمی نعمتوں کے احوال سے باخبر کیا ہے جن میں وہ (اہلِ سبا)زندگی بسر کر رہے تھے۔ انہوں نے اس بند (ڈیم)کے پیچھے، جو ”سدِ مأرب“کے نام سے معروف ہوا، وافر مقدار میں پانی ذخیرہ کر رکھا تھا۔ لیکن جب انہوں نے حقیقی منعم (نعمتیں عطا کرنے والے اللہ)کا شکر ادا کرنے، عملِ صالح بجا لانے اور پسندیدہ طور طریقہ اختیار کرنے سے اعراض کیا، تو اللہ نے ان سے اس خوشحالی کا سبب ہی چھین لیا جس میں وہ مگن تھے۔ اور ان پر ایک ایسا تند و تیز اور جڑ سے اکھاڑ دینے والا سیلاب (سیلِ عرم) بھیج دیا جو اپنے راستے میں”عرم“یعنی بھاری پتھر بہا لایا چنانچہ وہ بند ٹوٹ گیا اور پانی چاروں طرف پھیل گیا، پس اس نے سرکشی اختیار کی اور زمین کو غرقاب کر دیا۔ اور ان کے وہ وسیع و شاداب اور مہکتے ہوئے باغات، ایک ایسے چٹیل ریگستان میں تبدیل ہو گئے جہاں خودرو اور جھاڑ دار جنگلی درخت یہاں وہاں بکھرے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اور ہم نے ان کے ان دو باغات کے بدل میں انہیں دو ایسے باغات دے دیے جو بدمزہ(کڑوے کاسنی) پھلوں، جھاؤ کے درختوں اور کچھ تھوڑے سے بیری کے درختوں پر مشتمل تھے۔ یہ بدلہ ہم نے انہیں ان کی ناشکری کی وجہ سے دیا، اور ہم ایسا بدلہ صرف ناشکروں ہی کو دیتے ہیں ـ (سورة سبأ:الآيتان 15،16)
یہ بات بھی ممکن (اور قرینِ قیاس)ہے کہ ابن سبا نے اپنے یہودی باپ کا نام ہم سے جان بوجھ کر چھپایا ہو، تاکہ لوگ اس کی اصل حقیقت سے واقف نہ ہو سکیں۔ رہا معاملہ اس رائے کا جس کی طرف بغدادی گئے ہیں کہ ابن سبا بنیادی طور پر اہل حیرہ(عراق)میں سے تھا، جہاں انہوں نے لکھا ہے کہ: ابن السوداء یعنی ابن سبا اصل میں حیرہ کا رہنے والا ایک یہودی تھا۔
(البغدادي، عبد القاهر، الفرق بين الفرق وبيان الفرقۃ الناجيۃ منهم، تحقيق محمد محی الدين عبدالحميد، طبع المدني، القاهرة، صفحہ238)
اور اسی(حیرہ والی)رائے میں امامِ فاضل(محمد ابو زہرہ)نے بھی اپنی کتاب المذاہب الإسلاميۃ میں ان کی اتباع و پیروی کی ہے۔(ابو زهره، محمد، تاريخ المذاهب الإسلاميۃ، دارالفكر العربي، القاهرة صفحہ64)
تو یہ بات ان روایات کے متصادم اور معارض نہیں ہے جو یہ کہتی ہیں کہ وہ اصلاً یمنی تھا کیونکہ یہ بالکل ممکن ہے کہ وہ اصالتاً یمنی ہو اور پھر ہجرت کر کے عراق کے شہر حیرہ چلا گیا ہو یہ جانتے ہوئے کہ حیرہ تمام یہودیوں،دیگر مذاہب کے پیروکاروں اور مختلف نظریات کا مرکز تھا۔ اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ مسلمانوں نے جب کوفہ کی شہر سازی اور منصوبہ بندی کی، تو ابتدائی مرحلے میں یہودی وہاں منتقل نہیں ہوئے، بلکہ وہ حیرہ ہی میں مقیم رہے۔ اور (اسی تاریخی پس منظر میں)حجاج بن یوسف ثقفی نے (سنہ77 ہجری میں)کوفہ کے منبر پر کھڑے ہو کر کہا تھا:
”اے اہل کوفہ! اللہ اسے عزت نہ دے جو تمہارے ذریعے عزت کا طالب ہو، اور نہ اس کی مدد کرے جو تمہارے ذریعے نصرت کا خواہاں ہو۔ ہمارے پاس سے نکل جاؤ، ہمارے ساتھ ہمارے دشمن کے خلاف جنگ میں شریک نہ ہو، اور حیرہ میں جا کر یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ رہو۔(ی س غنيمۃ، نزهۃالمشتاق في تاريخ يهود العراق، ط بغداد صفحہ60)
اس کے بعد جب ابن سبا مدینہ منورہ آیا،اور وہاں (مدینہ منورہ میں)رائج مذہبی اور سماجی زندگی کو قریب سے دیکھا اور اس کا حصہ بنا، تو اس نے وہاں ایک مخصوص مؤقف اختیار کر لیا جو خلیفہ اور ان کے قرابت داروں کے خلاف بغض و عناد پر مبنی تھا۔ یہ موقف ابن سبا کے اس باطل زعم کی وجہ سے تھا کہ خلیفہ نے اپنے رشتہ داروں کو مال اور اقتدار کے لیے مخصوص کر رکھا ہے۔ چنانچہ اس نے یہاں وہاں اپنے حامیوں کو پھیلانا شروع کر دیا تاکہ وہ مسلمانوں کے سامنے جھوٹ اور بہتان کے طور پر سیّدنا عثمانؓ کے عہدِ خلافت کی خامیاں اور برائیاں آشکار کریں اور لوگوں کو بغاوت پر اکسائیں۔ فارسی مؤرخ ”میر خواند” کا بیان ہے کہ عثمانؓ کے خلاف ابن سبا کے کینے اور حقد کا اصل سبب یہ تھا کہ وہ جب مدینہ آیا تھا تو اسے یہ امید تھی کہ خلیفہ اس کی آؤ بھگت اور تکریم کریں گے۔ لیکن جب اسے اپنی مراد حاصل نہ ہوئی، تو اس نے خلیفہ سے ناراض اور نالاں لوگوں سے رابطے استوار کرنا شروع کر دیے اور کھلم کھلا عثمانؓ کے انتظامی امور پر اعتراضات داغنے لگا۔ بالاخر سیدنا عثمانؓ تک اس کی خبر پہنچی تو انہوں نے فرمایا یہ کون یہودی ہے جس کی یہ باتیں میں برداشت کر رہا ہوں؟ چنانچہ انہوں نے اسے مدینہ سے جلا وطن کرنے کا حکم دے دیا۔ پھر وہ آخر کار مصر چلا گیا اور وہاں عثمانؓ کے خلاف سرگرم فتنہ پروروں اور سازشیوں میں شامل ہو گیا۔
(الشابی: علی مباحث فی علم الكلام والفلسفۃ مرجع سابق: صفحہ20)