Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مرتد مسلمان کا وارث نہیں


جو شخص مرتد ہو گیا وہ مسلمان کا وارث نہیں ہو گا اور نہ اپنے مثل دوسرے مرتد کا وارث ہو گا۔ اور مرتد اگر حالت ارتداد میں قتل کیا گیا یا مر گیا یا دارالحرب میں جا ملا، پس جو کچھ اس نے حالتِ اسلام میں کمایا ہے وہ اس کے مسلمان وارثوں کے واسطے میراث ہو گا اور اس میں سے اس کی زوجہ وارث ہو گی بشرطیکہ مسلمان ہو اور مرتد ایسے حال میں مرا ہوکہ وہ عدت (یعنی نکاح ٹوٹ جانے کی عدت) میں ہو، اور اگر مرتد کے مرنے سے پہلے اس کی عدت پوری ہو گئی یا مرتد نے اس کے ساتھ دخول ہی نہیں کیا تو عورت مذکورہ کو اس میں سے میراث نہ ملے گا، اور اگر عورت مذکورہ بھی اس کے ساتھ مرتدہ ہو گئی تو اس عورت کو اس مرتد سے کچھ میراث نہ ملے گی، جیسے اس کے اور اقارب جو مرتد ہو گئے ہوں وارث نہیں ہوں گے۔ پس اگر شوہر و بیوی دونوں ساتھ مرتد ہو گئے پھر عورت اس سے بچہ جنے پھر مرتد مر گیا تو عورت مذکورہ کو اس مرتد سے میراث نہیں ملے گی اگرچہ دونوں میں نکاح (یعنی مرتد ہونے کے بعد) باقی رہا ہے۔

اور رہا بچہ سو اگر مرتد مذکور کے مرتد ہونے کے وقت چھ مہینے سے کم میں بچہ مذکور جنی ہے تو بچہ کو اس کی میراث ملے گی اور اگر مرتد ہونے سے چھ مہینے سے زیادہ میں جتنی ہے تو بچہ وارث نہیں ہو گا، پھر بنابر قول امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے اس مال مرتد کا وارث ہو گا جو اس نے حالت اسلام میں کمایا ہے اور جو مال اس نے حالت ارتداد میں کمایا وہ فئی ہو گا کہ بیت المال میں داخل کیا جائے گا اور امام ابو یوسف و امام محمد رحمھم اللہ کے نزدیک حالت ارتداد کی کمائی بھی مثل حالت اسلام کی کمائی کے میراث ہو گی۔ (فتاویٰ عالمگيريہ اردو: جلد 10 صفحہ 454)