خاندان اور نسلوں میں موروثی اثرات
علی محمد الصلابیعلم التشریح (Anatomy) نفسیات، اخلاقیات، اور علم اجتماع میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ انسان کے اندر خون اور خاندان کے اثرات بڑی حد تک موجود رہتے ہیں اور اس کی سیرت کی تشکیل فطری صلاحیتوں، رجحانات اور ذہنیت کے بارے میں موروثی اثرات کا خاصا دخل ہوتا ہے، یہ اثرات تین شکلوں میں نمایاں ہوتے ہیں:
اوّل:
آباء و اجداد جن قدروں کے سختی سے پابند رہے ہیں، جو عقائد ان کے دل و دماغ پر حاوی رہے ہیں اور جن کی تعظیم و توقیر ان کا شعار رہا ہے اور جن کے بارے میں ان کو اس درجہ حمیت، غیرت اور جوش رہا ہے کہ اگر خاندان کوئی فرد یا خود ان کی اولاد میں سے کوئی اس سے روگرداں ہو تو اس کو خاندانی روایات سے باغی سمجھیں۔ اس کو گھرانہ کے لیے ایسا ننگ و عار قرار دیں جسے خاندانی و روایاتی قانون و آئین میں کبھی معاف نہ کیا جاسکتا ہو۔
دوم:
ماں باپ اور گھر کے ماحول میں جن لوگوں کو بار بار سنایا جاتا ہے اور بزرگوں کے واقعات و حالات، ان کی اولوالعزمی، مروت، سخاوت، شجاعت، حق گوئی، حق پرستی، انسان دوستی، غریبوں کی مدد اور مظلوموں کی حمایت کے قصے جو بار بار کانوں میں پڑتے ہیں اور بچپن سے جوانی اور کبر سنی تک جن کا چرچا رہتا ہے، یہ باتیں ذہنیت کا رخ متعین کرتی ہیں، احساسات و رجحانات کو ایک خاص قالب میں ڈھال دیتی ہیں اور اخلاق و شرافت اور انسانیت و غیرت نفس کا ایک معین معیار قائم کرتی ہیں۔
سوم:
موروثی خصوصی اثرات اعضاء و جوارح (قد و قامت اور طرز گفتار) میں بھی پائے جاتے ہیں، خاص طور سے ان خاندانوں میں جہاں نسب کی اہمیت ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ خاندان کی اصلیت محفوظ رہے۔
لیکن یہ تمام باتیں ایک متعینہ حد تک اور عمومی حالات میں صحیح ہیں۔
(المرتضی، لأبی الحسن الندوی: صفحہ 19، 20)
ان میں کوئی بات کلیہ اور اصول کا درجہ نہیں رکھتی کہ کہا جائے ان میں کوئی استثناء نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ کی یہ وہ سنت معہودہ نہیں ہے کہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے کہا ہے:
فَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبۡدِيۡلًا وَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحۡوِيۡلًا ۞ (سورۃ فاطر آیت نمبر 43)
ترجمہ: (اگر یہ بات ہے) تو تم اللہ کے طے شدہ دستور میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے، اور نہ تم اللہ کے طے شدہ دستور کو کبھی ٹلتا ہوا پاؤ گے۔
اور اسی طرف نبی کریمﷺ نے اشارہ فرمایا:
النَّاسُ مُعَاذِنٌ کَمَعَادِنِ الْفِضَّۃِ وَالذَّہَبِ، خَیَارُہُمْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ خَیَارُہُمْ فِی الْاِسْلَامِ اِذَا فَقِہُوْا۔
(مسند أحمد: جلد 2 صفحہ 539 اس کی سند صحیح ہے۔ 10969)
’’لوگ کانیں ہیں جیسے چاندی اور سونے کی کانیں ہوں، ان میں جو لوگ جاہلیت کے زمانہ میں ممتاز تھے وہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد بھی ممتاز رہے، (لیکن) جب انھوں نے اسلام کو سمجھ لیا۔‘‘
اور فرمایا:
مَنْ بَطَّأبِہِ عَمَلُہُ لَمْ یُسْرِعْ بِہِ نَسَبُہُ
(صحیح مسلم: کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ)
’’جسے عمل نے پیچھے ڈال دیا ہو، اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا۔‘‘
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی خاندان یا کوئی نسل تعظیم و احترام کی صرف اپنے نسب کی وجہ سے مستحق ہے، اور نہ یہ کہ دینی قیادت، روحانی سیادت، یا عملی وجاہت کسی خاندان کی جاگیر سمجھی جائے، اور نہ دائمی طور سے کسی ایک ہی خاندان کے حصہ میں ہمیشہ کے لیے عملی و دینی سیادت باقی رہنے کی ضمانت ہے۔ اسلام سے پہلے دنیا کو نسب پرستی کی بنا پر بدترین سماجی اور اخلاقی انارکی کا سامنا کرنا پڑا، انتہائی سخت قسم کی آمریت (Dictatorship) اور انتہائی بھیانک انداز کا مادی استحصال ہوتا رہا ہے، اس کے بے شمار واقعات تاریخ کی کتب میں موجود ہیں۔ رومی اور ساسانی شہنشاہوں اور ہندی و یونانی تہذیبوں کے بارے میں اس کی واضح شہادتیں موجود ہیں۔
(المرتضٰی، للندوی: صفحہ 20)
لہٰذا ہمارا فرض ہے کہ اس نسل و خاندان کی اجتماعی و سماجی حیثیت کا جائزہ لیں، جس میں امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے اور پروان چڑھے اور یہ دیکھیں کہ اس قبیلہ و خاندان کی امتیازی خصوصیات کیا تھیں؟ ان کے یہاں کیا روایات تھیں، اور اخلاق و نفسیاتی وراثت میں کیا باتیں تھیں اور یہ کہ ان کو دوسرے عرب قبائل کس نظر سے دیکھتے تھے اور کس درجہ ان کی خوبیوں کے قائل تھے، لہٰذا اس سلسلہ میں ہم قبیلۂ قریش، پھر بنوہاشم کے خاندان کا ذکر کریں گے۔
(خصائص عرب کے لیے دیکھیے: السیرۃ النبویۃ للندوی)