سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے والد ابوطالب
علی محمد الصلابیابوطالب کوئی صاحب ثروت اور دولت مند آدمی نہ تھے، لیکن وہ اپنے بھتیجے کو اپنے فرزند سے زیادہ عزیز رکھتے تھے، کہیں جاتے تو اپنے ساتھ لے جاتے، یہ ابوطالب ہی تھے جنھوں نے رسول اللہﷺ کی ان کے دادا کے بعد پرورش و خبرگیری کی ذمہ داری لی اور ہمیشہ ان کی حمایت کی اور ساتھ دیا۔
(السیرۃ النبویۃ، ابن ہشام: جلد 1 صفحہ 79 المرتضیٰ: صفحہ 24)
اور جب رسول اللہﷺ نے اسلام کی قبولیت کا اعلان کیا تو ابوطالب آپﷺ کے معاون بن کر آپ کے پہلو میں کھڑے ہو گئے اور پختہ ارادہ کر لیا کہ ہر حال میں آپﷺ کی مدد کریں گے اور جیتے جی آپﷺ کو رسوا نہ ہونے دیں گے، قریش پر یہ بات سخت گراں گزری، وہ حسد سے تلملا اٹھے اور آپ کے خلاف سازش کا جال بچھانا شروع کر دیا، ایک خالی الذہن انسان رسول اللہﷺ کے ساتھ ابوطالب کے مدافعانہ کردار کو دیکھ کر سخت تعجب کرے گا اور ہکا بکا رہ جائے گا کہ انھوں نے اپنے بھتیجے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے انجام کو اپنے حق میں مول لے لیا تھا، اتنا ہی نہیں بلکہ بنوہاشم کا سردار ہونے کے ناتے بنوہاشم اور بنوالمطلب کو اس عہد کے ساتھ اپنے حق میں کر لیا کہ ہر حالت میں رسول اللہﷺ کی طرف سے دفاع کرنا ہے، کوئی اسلام لا چکا ہو، یا کوئی مشرک ہو سب برابر برابر تعاون دیں گے۔
(فقہ السیرۃ النبویۃ، الغضبان: صفحہ 184)
انھوں نے اپنے بھتیجے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کسی خوف و خطر اور بلا کسی دباؤ کے علی الاعلان پناہ دی اور جب اپنی قوم کی طرف سے خوش کن تعاون دیکھا اور دیکھا کہ وہ دل و جان سے آپ پر قربان ہیں تو آپ نے ان کی مدح کا قصیدہ شروع کر دیا، ان کے آباء و اجداد کے فخریہ کارناموں کو سراہا اور اپنی قوم میں رسول اللہﷺ کی آمد کی فضیلت اور آپ کے بلند مقام کو ذکر کیا تاکہ وہ پختہ عزم ہو جائیں، ان کے خیال میں کسی طرح کا تردد نہ آئے اور آپ کے ساتھ ان کا لگاؤ مضبوط ہو جائے۔
(السیرۃ النبویۃ، الصلابی: جلد 1 صفحہ 158)
چنانچہ کہا:
إِذَا اجْتَمَعَتْ یَوْمًا قُرَیْشٌ لِمَفْخَرٍ فَعَبْدُ مَنَافٍ سِرُّہَا وَ صَمِیْمُہَا
’’جب کبھی قریش کسی قابلِ فخر کام کے لیے مستعد ہوئے تو ان میں (بنی) عبدمناف ان کی جان اور ان کے روح رواں رہے۔‘‘
وَ إِنْ حُصِّلَتْ أَشْرَافُ عَبْدِ مَنَافِہَا فَفِیْ ہَاشِمٍ أَشْرَافُہَا وَ قَدِیْمُہَا
’’پھر جب ان میں سے (بنی) عبدمناف کے شرفاء کا شمار کیا گیا، تو ان میں سے بڑے مرتبے والے اور آگے بڑھائے جانے کے قابل بنوہاشم ہی کے لوگ نکلے۔‘‘
وَ اِنْ فَخِرَتْ یَوْمًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا ہُوَ الْمُصْطَفَی مِنْ سِرِّہَا وَ کَرِیْمِہَا
’’اور جب کبھی بنوہاشم نے فخر کیا تو ان میں سے محمد ہی منتخب، اس قبیلہ کی جان اور ان میں بڑے مرتبہ والے نکلے۔‘‘
تَدَاعَتْ قُرَیْشٌ غَثُّہَا وَ ثَمِیْنُہَا عَلَیْنَا فَلَمْ تَظْفَرْ وَ طَاشَتْ حُلُوْمُہَا
’’قریش کے اچھے اور برے تمام لوگوں نے ایک دوسرے کو ہماری مخالفت میں ابھارا، تاہم انھیں کوئی کامیابی نہ ملی، بلکہ ان کی عقلیں چلی گئیں۔‘‘
وَ کُنَّا قَدِیْمًا لَا نُقِرُّ ظَلَامَۃً إِذَا مَا ثَنُّوْا صُعْرَ الْخُدُوْدِ نُقِیْمُہَا
’’ہمیشہ سے ہماری یہ حالت رہی کہ ہم کسی ظلم کو قائم نہیں رہنے دیتے، جب کبھی لوگوں نے تکبر سے گالوں کے جھکاؤ کو ٹیڑھا کیا تو ہم انھیں سیدھا کرتے رہے۔‘‘
اور جب ابوطالب کو خدشہ ہوا کہ کہیں عرب کے اوباش آپ پر چڑھ نہ دوڑیں، تو ایسا قصیدہ کہا، جس میں مکہ کی حرمت اور اپنی خاندانی برتری کی پناہ مانگی اور اپنی قوم کے اشراف سے محبت کا حوالہ دیا، اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے شعر ہی شعر میں کہہ گئے کہ وہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حوالہ کرنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا ساتھ چھوڑنے والے ہیں اگرچہ جان ہی کیوں نہ قربان کرنی پڑے، کہا:
وَ لَمَّا رَأَیْتُ الْقَوْمَ لَاوُدَّ فِیْہِمُ وَ قَدْ قَطَعُوْا کُلَّ الْعُرَی وَ الْوَسَائِلِ
’’جب میں نے قوم کو دیکھا کہ ان میں محبت نہیں رہی اور انھوں نے تمام تعلقات اور رشتوں کو توڑ لیا ہے۔‘‘
وَ قَدْ صَارَ حُوْنَا بِالْعَدَاوَۃِ وَالْأَذَی وَ قَدْ طَاوَعُوْا أَمْرَ الْعَدُوِّ الْمُزَایِلِ
’’انھوں نے ہم سے دشمنی اور ایذا رسانی کا اعلان کیا اور ہم سے الگ ہو جانے والے دشمن کی بات مانی۔‘‘
وَ قَدْحَالَفُوْا قَوْمًا عَلَیْنَا اَظِنَّۃً یَعُضُّوْنَ غَیْظًا خَلْفَنَا بِالْأَنَامِلِ
’’انھوں نے ہمارے خلاف تہمت زدہ لوگوں سے معاہدے کیے، جو ہماری پیٹھ پیچھے غصہ سے انگلیاں چباتے ہیں۔‘‘
صَبَرْتُ لَہُمْ نَفْسِی بِسَمْرَائَ سَمْحَۃٍ وَ أَبْیَضَ غَضَبٍ مِنْ تُرَاثِ الْمُقَاوِلِ
’’تو میں بذات خود ایک لچکیلے نیزے اور شاہان سلف کی وراثت میں ملی ہوئی ایک چمکتی تلوار لے کر ان کے مقابلہ میں ڈٹ گیا۔‘‘
وَاَحْضَرْتُ عِنْدَ الْبَیْتِ رَہْطِيْ وَإِخْوَتِي وَ أَمْسَکْتُ مِنْ اَثْوَابِہِ بِالْوَصَائِلِ
’’اور میں نے اپنی جماعت اور اپنے بھائیوں کو بیت اللہ کے پاس بلوایا اوراس (بیت اللہ) کی سرخ دھاریوں والی چادریں پکڑ لیں۔‘‘
اور پھر خانہ کعبہ اور اس میں موجود دیگر مقدسات کی پناہ لی اور خانہ کعبہ کی قسم کھا کر کہا کہ وہ محمد کو ہرگز کسی کے حوالے نہ کریں گے، اگرچہ خون کی ندیاں بہ جائیں اور قریش کے دیگر قبائل کے ساتھ سخت سے سخت جنگ لڑنا پڑے:
کَذَبْتُمْ وَ بَیْتُ اللّٰہِ نُبزی مُحَمَّدًا وَ لَما نُطَاعِنُ دُوْنَہُ وَ نُنَاضِلِ
’’بیت اللہ کی قسم! تم نے غلط سوچ رکھا ہے کہ ہم محمد سے متعلق مغلوب ہو جائیں گے، حالانکہ ابھی تک ہم نے ان کے بچاؤ کے لیے نہ نیزہ زنی کی ہے اور نہ ہی تیر اندازی۔‘‘
وَ نُسَلِّمُہُ حَتَّی نُصْرَّعَ حَوْلَہُ وَ نَذْہَلُ عَنْ اَبْنَائِ نَا وَ الْحَلَائِلِ
’’تم نے غلط خیال کیا کہ ہم انھیں تمھارے حوالہ کر دیں گے، ہرگز نہیں ایسا نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ ہم ان کی دفاع میں قتل کردیے جائیں اور ہم تو آپ کی خاطر اپنے بیوی بچوں کو بھی بھول جائیں گے۔‘‘
وَ یَنْہَضُ قَوْمٌ فِیْ الْحَدِیْدِ إِلَیْکُمُ نُہُوضَ الرَّوَایَا تَحْتَ ذَاتِ الصَّلَالِلِ
’’تمھارے مقابلہ کے لیے ہتھیار بند لوگ ایسے اٹھیں گے جیسے پانی پلانے والی اونٹنیاں آواز کرنے والی پکھالوں کے نیچے سے انھیں لے کر اٹھتی ہیں۔‘‘
ابوطالب مسلسل اپنے بھتیجے کی مدد میں لگے رہے اور اپنے بھاری بھرکم قصیدوں کے ذریعہ سے قریشی معاشرہ سے جنگ لڑنے میں کامیاب رہے۔ وہ قصیدے بھی ایسے تھے جنھوں نے پورے سماج کو ہلا کر رکھ دیا اور جب قبائل عرب میں اسلام پھیلنے لگا، تو سردارانِ قریش جمع ہوئے اور آپس میں مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ ایک دستاویز تیار کیا جائے جس میں بنوہاشم اور بنومطلب کے بارے میں یہ معاہدہ ہو کہ ان کے خاندان سے شادی بیاہ کے تعلقات ختم کر لیے جائیں، ان کے ہاتھ کوئی خرید و فروخت نہ کرے اور پھر اس معاہدہ کو کعبہ کے اندرونی حصہ پر لٹکا دیا جائے، چنانچہ سبھی نے اس کی پابندی کی، خاندان بنوہاشم اور بنو المطلب کے افراد نے ابوطالب کا ساتھ دیا، اور ان کے ساتھ وہ بھی ’’شعب ابی طالب‘‘ میں داخل ہو گئے۔
(السیرۃ النبویۃ، ابن ہشام: جلد 1 صفحات 350، 351)
یہ واقعہ نبوت کے ساتویں سال ماہ محرم کا ہے، تین سال تک بنوہاشم اس شعب میں محبوس رہے، چھپ چھپ کر لوگ کچھ پہنچا آتے تھے، بہرحال جو کچھ پیش آنا تھا پیش آیا اور بالآخر دیمک نے اس عہد نامہ کو چاٹ لیا، نبی کریمﷺ نے ابوطالب کو اس کی اطلاع دی اور پھر یہ عہد نامہ چاک کر دیا گیا اور اس پر عمل منسوخ ہو گیا۔
(السیرۃ النبویۃ،ابن ہشام: جلد 1 صفحہ 373 تا 377 المرتضیٰ: صفحہ 26 اور میں نے اپنی کتاب السیرۃ النبویۃ میں اس کی تفصیل ذکر کی ہے)
نبوت کے دسویں سال وسط شوال میں ابوطالب کی وفات ہوگئی، اس وقت ان کی عمر کچھ اوپر اسّی (80) سال تھی، لیکن ابوطالب نے اسلام نہیں قبول کیا۔
(بلوغ الأرب: جلد 1 صفحہ 224)
اسی سال خدیجہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریمﷺ نے بھی وفات پائی، یہ وہ سال تھا جس میں رسول اللہﷺ کو پے درپے کئی مصائب پیش آئے، اسی لیے اس سال کا نام عام الحزن (غم کا سال) پڑ گیا۔
(السیرۃ النبویۃ، ابن ہشام: جلد 1 صفحات 415، 416 و المرتضیٰ: صفحہ 26)