Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ

  علی محمد الصلابی

آپ جلیل القدر فاضلہ اور بزرگ صحابیہ ہیں، آپ کا نام و نسب فاطمہ بنت اسد بن ہاشم بن عبدمناف بن قصی الہاشمیہ ہے۔ ہاشمی خاندان کی آپ ایسی پہلی خاتون ہیں جن کے بطن سے ایک ہاشمی پیدا ہوا۔

(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 685)

آپ کو اس وقت نبیﷺ کی پرورش و خبرگیری کا شرف حاصل رہا، جب عبدالمطلب کی وصیت کی بنا پر آپﷺ اپنے چچا ابوطالب کی کفالت میں آئے۔ اپنی حقیقی ماں سے محرومی کے بعد یہی آپ کی ماں تھیں جو آپ کی دیکھ بھال کرتیں، اور حتیٰ المقدور آپ کی خدمت و پرورش کرتیں۔ نبی اکرمﷺ نے اپنی زندگی کی تقریباً بیس سالہ مدت موصوفہ ہی کی نگہداشت میں گزاری، انھوں نے اسلامی دعوت پر لبیک کہا اور مشرف بہ اسلام ہونے والی ان اولین خواتین میں اپنا نام درج کرا لیا، جنھوں نے عظمت و فضیلت کے میدان میں بلند و بالا مقام حاصل کیا تھا، آپ ممتاز و منتخب خواتین میں سے تھیں، اپنی بہو سیدہ فاطمہ کے ساتھ شفقت و محبت کا مثالی برتاؤ پیش کیا، ان کے دادا نبی کریمﷺ کی توقیر و احترام کے پیش نظر حضرت فاطمہؓ کا ہر ممکن خیال کرتے تھے، امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے اپنی ماں سے کہا: پانی لانے اور دیگر ضروریات کے مہیا کرنے میں فاطمہ بنت رسول اللہﷺ کی مدد کر دیا کیجیے، وہ چکی چلا لیا کریں گی اور آٹا گوندھ لیں گی آپ کو نہیں کرنا ہو گا۔

(مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 356 اس کے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں)

نبی اکرمﷺ کے زیر سایہ پرورش کا شرف حاصل ہونے کے ساتھ جس چیز نے حضرت علیؓ کی شخصیت کو دوبالا کیا وہ یہ کہ آپ نے احادیث نبویہ کو یاد کیا اور انھیں روایت کیا۔ چنانچہ بہت ساری احادیث حضرت علیؓ سے مروی ہیں۔ رسول اکرمﷺ کی نگاہ میں بڑا اونچا مقام تھا، آپﷺ ان کے پاس خصوصی تحائف بھیجا کرتے تھے۔ حافظ ابن حجر ’’الاصابہ" میں لکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے میرے پاس دبیز ریشم کا ایک جوڑا بھیجا اور کہلا بھیجا کہ اسے دوپٹوں میں تبدیل کر کے فواطم میں تقسیم کر دو۔

(سنن ابن ماجہ، اللباس: حدیث نمبر 3596)

میں نے اس میں چار دوپٹے بنائے، ایک دوپٹہ فاطمہ بنت رسول اللہﷺ کے لیے، دوسرا فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا کے لیے تیسرا فاطمہ بنت حمزہ رضی اللہ عنہا کے لیے اور چوتھے کا ذکر نہیں کیا۔ (الاصابۃ: جلد 8 صفحہ 27 نمبر 11593)

سیدہ فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا اپنی زندگی میں اور وفات کے وقت بھی بڑی خوش نصیب ٹھہریں، ان کی عظمت و تکریم کی بات یہ بھی ہے کہ نبی اکرمﷺ کی زندگی میں ہی آپ کی وفات ہوئی۔

(امیر المؤمنین علی بن ابی طالب، أحمد السید: صفحہ 24)

آپ کی تدفین سے متعلق سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ایک تفصیلی روایت مروی ہے جو بالکل ہی ناقابل اعتبار اور انتہائی ضعیف ہے اور یہ روایت متعدد اسناد سے وارد ہے، لیکن سب کی سب ضعیف ہے۔ وہ روایت اس طرح ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ فاطمہ بنت اسد کی وفات ہو گئی، تو اللہ کے رسولﷺ ان کے پاس گئے اور سرہانے بیٹھ گئے اور کہنے لگے: 

اے اماں جان! اللہ آپ پر رحم فرمائے، میری ماں کے بعد آپ ہی میری ماں تھیں، آپ خود بھوکی رہ کر مجھے شکم سیر کرتی تھیں، خود نہ پہنتیں اور مجھے کپڑے پہناتی تھیں، خود اچھی چیز نہ کھاتیں بلکہ مجھے کھلاتی تھیں، یہ سب کچھ آپ اللہ کی رضا جوئی اور اپنی آخرت کی بھلائی کے لیے کرتی تھیں، پھر آپ نے انھیں تین تین مرتبہ غسل دینے کا حکم دیا، جب آپ کے پاس کافور ملا ہوا پانی لایا گیا تو آپ نے اسے خود ان کے جسم پر انڈیلا، پھر اپنی قمیص اتاری اور اسے فاطمہ کو پہنا دیا، پھر اس کے اوپر ایک چادر سے کفن دے دیا، پھر اسامہ بن زید، ابوایوب انصاری، عمر بن خطاب اور ایک سیاہ فام غلام کو بلایا تاکہ ان کی قبر کھودیں، چنانچہ انھوں نے قبر کھودی۔ جب کھدائی لحد تک ہو گئی تو رسول اللہﷺ نے لحد اپنے ہاتھ سے کھودی، اس کی مٹی خود نکالی، اور جب لحد تیار ہو گئی تو آپ اس میں لیٹ گئے اور کہا:

اَللّٰہُ الَّذِیْ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ، وَہُوَ حَيٌّ لَا یَمُوْتُ، اِغْفِرْ لِاُمِّیْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ اَسَدٍ، و لقنہا حجتہا و َوَسِّعْ عَلَیْہَا مَدْخَلَہَا بِحَقِّ نَبِیِّکَ وَالْأَنْبِیَائِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِیْ فَاِنَّکَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ

’’اللہ ہی ہے جو زندگی عطا کرتا ہے اور موت دیتا ہے، وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے، وہ مرنے والا نہیں، اے اللہ! میری ماں فاطمہ بنت اسد کو بخش دے اور حساب کے وقت صحیح بات کہنے کی توفیق عطا فرما، اپنے نبی اور مجھ سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں، ان سب کا واسطہ ہے کہ ان کی قبر کو کشادہ کر دے، تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘

پھر آپ نے چار مرتبہ تکبیر کہی اور عباس و ابوبکر کو ساتھ لے کر انھیں قبر میں لحد کے اندر رکھ دیا۔

(سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ، البانی: جلد 1 صفحہ 32 نمبر 23)

کچھ لوگوں نے اس روایت کو ذات اور حق کے وسیلہ سے دعا کرنے کے جواز کے لیے استدلال کیا ہے،

(اسی بے بنیاد روایت سے سمہودی نے وفاء الوفاء: جلد 4 صفحہ 1373 میں اور کوثری نے محق التقول: صفحہ 379، 391 میں اور بوطی نے السلفیۃ مرحلۃ: صفحہ 155 میں اور علوی مالکی نے مفاہیم: صفحہ 65 میں استدلال کیا ہے۔ ملاحظہ ہو: الدعاء و منزلتہ من العقیدۃ الإسلامیۃ، حجبلان من أخضر العروسی۔ اس سے اہل بدعت کے استدلال کی حقیقت آشکارا ہوتی ہے۔ (مترجم)

حالانکہ استاذ عبدالرحمٰن جبلان بن خضر العروسی نے اپنے ایم اے (M.A) کے مقالہ (Thesis) میں اس روایت کی تمام اسناد کو جمع کیا ہے۔ (الدعاء و منزلتہ من العقیدۃ الإسلامیۃ: صفحہ 794-798)

اور ثابت کیا ہے کہ یہ روایت پانچ اسناد سے مروی ہے، ان میں تین متصل اور دو مرسل ہیں، لیکن کوئی بھی سند مختلف علتوں سے خالی نہیں، سب کی سب سخت ضعیف ہیں، ان تمام روایات میں ضعف کی جو بھی نوعیت ہے وہ تو ہے ہی، مگر سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی سند سے مروی حدیث کے علاوہ کسی میں بھی اس من گھڑت وسیلہ کا ذکر نہیں ہے۔ پس اس سلسلہ کی روایات اس حدیث کو بھی معلول کی فہرست میں شامل کر دیتی ہیں، اس لیے کہ سب میں ضعف ہے اور ہر ایک کی علت ضعف دوسرے سے مربوط ہے، جس کی بنا پر حدیث کی عدم قبولیت اور ضعف میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔

جہاں تک اس حدیث کے متن کا تعلق ہے تو وہ بھی چند اعتبار سے غیرمعتبر ہے، تجہیز، تکفین اور تدفین سے متعلق عہد نبوی میں جو نظام عموماً جاری تھا، یہ حدیث اس میں مبالغہ آمیزی اور انتہا پسندی پر دلالت کرتی ہے، چنانچہ عورت کو غسل دینے اور اس کی تکفین کے بارے میں رسول اللہﷺ کی جو سنت رہی ہے، کئی اعتبار سے یہاں اس کی مخالفت ہو رہی ہے، مثلاً:

کسی عورت کی میت کو آپﷺ نے اپنے دست مبارک سے پانی ڈال کر غسل دیا ہو ایسا کوئی واقعہ آپ کی زندگی میں کہیں نہیں ملتا، آپ کی لخت جگر زینب کو غسل دلانے سے متعلق جو واقعہ حدیث میں ملتا ہے اس میں بھی آپﷺ نے خود نہیں غسل دیا تھا، بلکہ دیگر خواتین کو حکم دیا تھا کہ اسے ایسے ایسے غسل دیں۔

چنانچہ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں محمد بن سیرین سے روایت ہے، انھوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ ہم آپﷺ کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں کہ آپﷺ ہمارے پاس آئے اور کہا: بیری کے پتے ملے ہوئے پانی سے اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ اور اگر اس سے زیادہ کی ضرورت محسوس کرو تو مزید غسل دو اور آخر میں کافور استعمال کر لو، جب غسل دے کر فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتاؤ۔ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب ہم غسل دے کر فارغ ہو گئیں تو آپﷺ نے ہماری طرف اپنا ازار بند بڑھایا اور کہا: اسے اس کو اوپر سے پہنا دو، آپﷺ نے اس سے زیادہ کچھ نہ کیا۔ (الدعاء و منزلتہ من العقیدۃ الإسلامیۃ: صفحہ 794-798)

نبی اکرمﷺ کا اپنے ہاتھ سے کوئی قبر کھودنا، پھر اس کی مٹی خود ہی باہر نکالنا اور پھر لحد میں لیٹ جانا، یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کا تذکرہ اس ضعیف حدیث کے علاوہ آپ کی زندگی میں کہیں نہیں ملتا، یہ سب عمل آپﷺ کے افعال و فرمودات کے خلاف ہیں اور مبالغہ و افراط پر مشتمل ہیں۔

 غائب کے صیغہ سے دعا کا آغاز کرنا، پھر مخاطب کا صیغہ بعد میں استعمال کرنا، یہ اسلوب دعا آپﷺ سے منقول شدہ ان ماثورہ دعاؤں کے خلاف ہے، جن کا آغاز صیغۂ مخاطب ’’اَللّٰہُمَّ اَنْتَ…‘‘ سے کہتے ہوئے ہوتا ہے۔ اس روایت میں مذکور دعا: ’’اَللّٰہُ الَّذِیْ…‘‘ کے علاوہ ہمیں کہیں ان صیغوں سے دعا کا آغاز نہیں ملتا ہے۔

 اس روایت کے ضعیف ہونے کی سب سے قوی دلیل راوی کا یہ اعتراف ہے کہ آپﷺ نے خلاف عادت یہ سب کام صرف ایک مرتبہ اسی مقام پر کیا تھا۔ شاید راوی یہ کہہ کر اس روایت کے لیے وجہ جواز پیش کرنا چاہتا تھا، لیکن حقیقت اور افسانے میں بڑا فرق ہے۔

(الدعاء و منزلتہ من العقیدۃ الإسلامیۃ: صفحہ 794-798)