کیا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں جھوٹی روایات…

کیا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں جھوٹی روایات گھڑی گئی ہیں؟

  مولانا علی معاویہ

صفحہ 2 از 2

الجواب: یہ اعتراض کم علمی پر مبنی ہے کہ اگر کسی کے فضائل میں جھوٹی روایات گھڑی گئی ہوں تو گویا اس کی شان میں کوئی بھی صحیح روایت نہیں، جو جھوٹی ہیں ان کو جھوٹی کہیں گے اور جو صحیح ہیں ان کو صحیح کہیں گے۔ جھوٹی روایات کی وجہ سے صحیح یا حسن روایات کا انکار کیسے ہوگا؟

اگر اس طرح بات سمجھ میں نہیں آ رہی تو سیدنا علیؓ کے فضائل میں بھی جھوٹی روایات گھڑی گئیں ہیں، تو کیا ان کی شان میں صحیح روایات کا انکار کیا جائے گا؟

علامہ ابو الحسن کنانی لکھتے ہیں کہ

قَالَ الذَّهَبِيّ فِي تَلْخِيص الموضوعات لم يرو لأحد من الصَّحَابَة فِي الْفَضَائِل أَكثر مِمَّا رُوِيَ لعَلي بن أبي طَالب رَضِي الله عَنهُ وَهِي ثَلَاثَة أَقسَام قسم صِحَاح وَحسان، وَقسم ضِعَاف، وفيهَا كَثْرَة، وَقسم مَوْضُوعَات وَهِي كَثِيرَة إِلَى الْغَايَة۔

تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة جلد 1 صفحہ 407


 

امام ذھبیؒ نے تلخیص الموضوعات میں کہا ہے کہ جتنے فضائل سیدنا علیؓ کے منقول ہیں اتنے کسی اور صحابی کے نہیں، اور وہ تین اقسام کی ہیں 

صحیح، حسن اور ضعیف۔ ضعیف روایات بہت ہیں، اور موضوعات تو حد سے زیادہ ہیں۔

ملا علی قاری حنفیؒ لکھتے ہیں کہ

وَأَمَّا مَا وَضَعَهُ الرَّافِضَةُ فِي فَضَائِلِ عَلِيٍّ فَأَكْثَرُ مِنْ أَنْ يُعَدّ

الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة: جلد 1 صفحہ 454

یعنی رافضیوں نے سیدنا علیؓ کی شان میں جو روایات گھڑی ہیں وہ حد سے زیادہ ہیں۔

 

تو یہ حالت دیکھ کر منکرین فضائل معاویہ کیا سیدنا علیؓ کے فضائل کا بھی انکار کریں گے؟

تو قارئین آپ کے سامنے ان اعتراضات کی حقیقت واضح کردی گئی ہے، اللہ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔


امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی کتاب میں یہ بھی رقم طراز ہیں:

قَدْ ثَبَتَ بِالنُّصُوصِ الصَّحِيحَةِ أَنَّ عُثْمَانَ وَعَلِيًّا وَطَلْحَةَ وَالزُّبَيْرَ وَعَائِشَةَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ. بَلْ قَدْ ثَبَتَ فِي الصَّحِيحِ " أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ " وَأَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ وَعَمْرُو بْنُ العاص وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ هُمْ مِنْ الصَّحَابَةِ وَلَهُمْ فَضَائِلُ وَ مَحَاسِنُ 

مجموع الفتاوى: جلد 4 صفحہ 431

" البتہ صحیح احادیث و دلائل ثابت ہیں کہ سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، اور ام المؤمنین عائشہ رضوان اللہ علیھم اجمعین جنتی ہیں، بلکہ یہ بات صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ "جن حضرات نے (صلح حدیبیہ کے دن) درخت کے نیچے بیعت کی، ان میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔" اور سیدنا ابو موسی اشعری، سیدنا عمرو بن عاص اور سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم اجمعین صحابہ میں سے ہیں اور ان کے فضائل اور محاسن (ثابت) ہیں۔"

یعنی خود امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی فضائل معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قائل و معترف ہیں۔"

 شاملہ کا لنک

 


صفحہ 2 از 2