برادران علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
علی محمد الصلابیابوطالب کے چار بیٹے تھے، ایک طالب (جن کے نام سے آپ کی کنیت ابوطالب تھی) دوسرے عقیل، تیسرے جعفر اور چوتھے علی، اور دو صاحبزادیاں تھیں، ام ہانی اور جمانہ اور یہ سب فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھے، ان تمام بھائی بہنوں میں دس دس سال کا فرق تھا، چنانچہ طالب عقیل سے دس سال بڑے تھے اور ایسے ہی جعفر علی سے دس سال بڑے تھے۔ (البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 223 المرتضیٰ: صفحہ 26)
یہاں برادران علی کا مختصر تعارف پیش کیا جارہا ہے۔
طالب بن ابی طالب
طالب بن ابی طالب کی غزوۂ بدر کے بعد حالت شرک میں موت ہوئی اور ایک روایت ہے کہ وہ کہیں باہر گئے تھے، پھر واپس نہیں لوٹے اور ان کی کوئی خبر نہیں ملی، یہ ان لوگوں میں سے تھے جو کسی سفر میں راستہ بھٹک گئے تھے۔ رسول اللہﷺ سے دلی محبت رکھتے تھے اور آپ کی شان میں نعتیہ اشعار بھی کہتے تھے، جنگِ بدر کے موقع پر بادل ناخواستہ کفار کے ساتھ چلے گئے تھے۔ جب کفار قریش رسول اللہﷺ سے محاذ آرائی کے لیے نکلے تھے تو انھوں نے طالب کو طعنہ دیا تھا کہ اے ہاشمیو! ہمیں خوب معلوم ہے کہ اگرچہ ہمارے ساتھ مجبوراً چل رہے ہو، مگر تمھاری ہمدردیاں محمدﷺ کے ساتھ ہیں، چنانچہ وہ بدر کی جنگ میں کفار کے ساتھ مل کر رسول اللہﷺ کے اصحاب سے نہیں لڑے، بلکہ مکہ واپس آنے والوں کے ساتھ واپس آ گئے اور رسول اللہﷺ کی نعت میں چند شعر اور ایک قصیدہ کہا اور مقتولین بدر پر مرثیہ کہا۔
(الجوہرۃ فی نسب النبی صلي الله عليه وسلم و أصحابہ المرتضیٰ: صفحہ 23)
عقیل بن ابي طالب رضی اللہ عنہ
جن کی کنیت ابویزید تھی، فتح مکہ کے وقت ایمان لائے، بعض روایات میں ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد اسلام لائے۔ 8ھ کی ابتدا میں ہجرت کی، بدر کے موقع پر گرفتار ہو کر آئے تھے اور ان کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ان کا فدیہ ادا کیا تھا، صحیح احادیث میں ان کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے، غزوۂ موتہ میں شریک تھے، فتح مکہ اور حنین کے سلسلہ میں ان کا نام نہیں ملتا، غالباً وہ ان دنوں بیمار تھے، ابنِ سعدؒ نے اپنی تاریخ میں اس کا ذکر کیا ہے، لیکن زبیر بن بکار نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ وہ غزوۂ حنین میں اصحابِ رسولﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ان کی وفات ہوئی۔ امام بخاری کی التاریخ الصغیر میں بسند صحیح مذکور ہے کہ حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کی وفات حادثہ حرّہ سے پہلے یزید کی حکومت کے زمانہ میں ہوئی،
(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 494)
ان کی عمر اس وقت (96) سال تھی۔
(ألمرتضیٰ: صفحہ 24)
جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
آپ ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں، جو شروع میں ہی اسلام لائے، سابقین اولین میں ان کا شمار تھا، آپ مسکینوں سے محبت کرتے، ان کے پاس بیٹھا کرتے، ان کی خدمت کیا کرتے، ان سے گفتگو کرتے اور ان کے ساتھ گھل مل کر رہتے، آپ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی، نجاشی (شاہ حبشہ) اور اس کے پیروکاروں نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، آپ کی زندگی پر مزید روشنی میں نے اپنی کتاب ’’السیرۃ النبویۃ‘‘ میں ڈالی ہے۔ جمادی الاولیٰ 8ھ میں غزوۂ موتہ کے موقع پر مردانہ وار لڑتے ہوئے شہادت پائی۔
(ألمرتضیٰ: صفحہ 25)
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا
ابوطالب کی صاحبزادی، رسول اللہﷺ کی چچازاد بہن تھیں، ان کا نام فاختہ بتایا گیا ہے، بعض لوگوں نے ان کا نام فاطمہ اور کچھ لوگوں نے ہند بتایا ہے، لیکن پہلا نام زیادہ مشہور ہے، ان کی شادی ہبیرہ بن عمرو بن عائذ المخزومی سے ہوئی تھی، ان کے بطن سے ہبیرہ کے لڑکے عمرو تھے، اور اسی نام سے وہ اپنی کنیت (ابوعمرو) کرتے تھے، فتح مکہ کے دن جب رسول اللہﷺ تشریف لائے اس دن ام ہانی نے بنومخزوم کے دو آدمیوں کو پناہ دے رکھی تھی، رسول اللہﷺ نے ان سے دونوں آدمیوں کے بارے میں کہا کہ جن کو تم نے پناہ دے دی، انھیں میں نے بھی امان دی۔ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے کتب ستہ میں احادیث مروی ہیں،
(المرتضیٰ: صفحہ 27)
امام ترمذی نے کہا ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد زندہ رہیں۔
(الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ: جلد 8 صفحہ 486)
جمانہ بنت ابی طالب
یہ ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب کے لڑکے عبداللہ کی والدہ تھیں، ابن سعدؒ نے ان کی ماں فاطمہ بنت اسد کی سوانح حیات کے ضمن میں ان کا تذکرہ کیا ہے اور رسول اللہﷺ کی چچا زاد بہنوں کے تذکرہ میں آپ کی زندگی پر مستقل باب باندھا ہے اور کہا ہے کہ ان کے بطن سے ابوسفیان بن حارث کے بیٹے جعفر بن ابی سفیان پیدا ہوئے اور رسول اللہﷺ نے خیبر کے مال غنیمت سے ان کو تیس وسق دیا تھا۔
(الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ: جلد 4 صفحہ 259، 260 المرتضیٰ: صفحہ 27)